کورونا کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو نفسیاتی مدد کی ضرورت

National

کورونا کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو نفسیاتی مدد کی ضرورت

 

 ڈاکٹروں کے لئے آئی سی ایم آر نے ہدایات جاری کیں

پٹنہ، 28 ستمبر: کورونا کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے ایک گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ جس میں کہاگیا ہے کہ کوویڈ مریضوں کے علاج کے دوران ڈاکٹروں کے ذریعہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔ آئی سی ایم آر نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کا نام ہے ''ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لیے ہدایت نامہ جس میں کوویڈ 19 کے وقت سوگ میں خاندان کے ارکان کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے''۔ گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ صحت کے شعبے کے اہلکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوویڈ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے زیادہ حساس ہوں۔ یہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے خاص طور پر جب خاندان کا کوئی فرد کوویڈ 19 انفیکشن کی وجہ سے مر گیا ہو۔ ایسی صورتحال میں مریض کے خاندان کے افراد کے ساتھ نفسیاتی طور پر تعاون کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

 

  گائیڈ لائن کے مطابق کوویڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی موت کے بارے میں کنبہ کے افراد کو آگاہ کرنے سے پہلے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت حال میں، مرنے والے شخص کے لواحقین کو مزید نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ گائیڈ لائن میں یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ پہلے مریض کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہو۔دوسری ضروری بات یہ کہی گئی ہے کہ مریض کے بارے میں ایماندار انہ رویہ ہو۔ صحت کا خیال رکھنے والے کارکنوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمانداری سے اپنے جذبات کو مریض کے خاندان کے افراد تک پہنچائیں۔

 

ڈاکٹروں کا جسمانی اشارہ متاثر کرتا ہے: ہدایت نامہ میں صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کی طرف سے اختیار کیے جانے والے جسمانی اشاروں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹروں کے اشارے کی وجہ سے مریض یا خاندان کے افراد کو غلط معلومات پہنچ جاتی ہیں۔ گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ علاج کے دوران ڈاکٹروں کا مریض کے خاندان والوں کے ساتھ بات چیت کا طریقہ بھی اہم ہو تاہے۔ آنکھوں کے دوسری طرف ہونے یا صحیح طریقے سے بات نہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر، مریض کے مسائل کے سلسلے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ساتھ ہی یہ سنجیدہ نہ ہونے اور اسے نظر انداز کرنے کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ لہٰذا، مشاورت دیتے وقت، ڈاکٹروں سے قریب سے بات کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ابرو کی مختلف اقسام کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ ابرو اٹھانے جیسے اشارے خوف کی نشاندہی کرتے ہیں۔جبکہ ہاتھوں کو ایک ساتھ رکھنے کی علامت حمایت اور ان کے ساتھ ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

ڈاکٹروں کو مشورہ دیتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے:گائیڈ لائن میں ڈاکٹروں کی جانب سے کوویڈ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مشاورت کے طریقے کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مشیر جسمانی دوری پر عمل کرتے ہوئے مشورہ دیں۔ لیکن اس دوران ان کی آواز بہت واضح ہونی چاہیے تاکہ مریض یا اس کا خاندان آسانی سے سن سکے۔ خیال رکھیں کہ آواز زیادہ اونچی نہ ہو۔ یہ بدتمیزی اور غلبہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مشاورت کے دوران پیغام کی وضاحت کا فقدان مریض کے ذہن میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔ گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز کوویڈ 19 کے بدترین ممکنہ نتائج کے لیے بھی خاندان کے افراد کو آگاہ کرنا چاہیے۔ خاندان کے کسی فرد کی اچانک موت خاندان کے افراد کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس لیے ممبران کو مریض کی صحت کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں تاکہ انہیں اچانک صدمے سے بچایا جا سکے۔ کوویڈ 19 مریض کی موت کی تصدیق ہونے کے بعد ڈاکٹر کو گھر والوں سے رابطہ کرنا چاہیے اور اس کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ موت کے بارے میں سینئر ممبران سے بات کریں۔ سادہ الفاظ میں موت کے بارے میں بتائیں۔ اگر مریض کے مرنے کے بعد یہ معلومات ان کو دی جا رہی ہیں تو انہیں جذباتی مدد بھی دیں۔ ان کے غم میں ان کے ساتھ جذباتی انداز میں شریک ہوں۔