ریبیز متاثرہ جانوروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے

National

ریبیز متاثرہ جانوروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے

 

 کسی بھی جانور کے کاٹنے پر ڈاکٹر کا مشورہ لیں

سہرسہ، 28 ستمبر: ورلڈ ریبیز ڈے ہر سال 28 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ریبیز مرض اور اس کی روک تھام کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے۔ یہ نہ صرف کتوں سے بلکہ دوسرے جانوروں کے کاٹنے سے بھی ریبیز ہونے کا امکان ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین بیماری ہے جو کہ وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

 

ریبیز کی روک تھام ممکن ہے:سول سرجن ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایا کہ ریبیز ایک ایسا ہی وائرل انفیکشن ہے جو عام طور پر متاثرہ جانوروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ اس بیماری کا وائرس بہت سے جانوروں جیسے کتے، بلیوں، بندروں وغیرہ کے کاٹنے کی وجہ سے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ریبیز وائرس جانور کے تھوک یا پالتو جانور کے چاٹنے، لار یاخون سے براہ راست رابطے سے بھی پھیلتا ہے۔ ریبیز ایک مہلک بیماری ہے جس کی علامات طویل عرصے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر اس بار بڑے پیمانے پر میڈیا کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مرض کے تعلق سے بیدار ہوں۔

 

ریبیز کی علامات کیا ہیں:سول سرجن ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایا کہ بخار، سر درد، گھبراہٹ یا بے چینی، پریشانی، الجھن کی حالت، کھانے پینے کونگلنے میں دشواری، زیادہ تھوک، پانی کا خوف، نیند نہ آنا اور جسم کے کسی ایک حصے میں فالج ہونا۔ وغیرہ اس کی علامات ہیں۔

 

یہ کسی بھی جانور کے کاٹنے پریہ کریں:سول سرجن ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایا کہ ریبیز سے متاثر اگر کسی بندر یا کتے نے کاٹ لیا تو فورا اسپتال جاکرعلاج کروائیں،کم سے کم 10 سے 15 منٹ تک صابن یا ڈیٹول سے کاٹی ہوئی جگہ کو صاف کریں،جتنی جلدی ممکن ہو ویکسین یا اے آر وی کے ٹیکے لگوائیں،پالتو کتوں کو انجیکشن لگوائیں۔

 

اگر کسی جانور نے کاٹا ہو تو کیا نہ کیا جائے:سول سرجن ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایا کہ کسی بھی مرض سے متاثر کسی بھی جانور کے کاٹنے کے بعد علاج میں غفلت نہ برتیں،اگر زخم زیادہ ہے تو اس پر ٹانکے نہ لگوائیں،ریبیز کے انفیکشن سے بچنے کے لیے کتوں اور بندروں سے زیادہ رابطہ نہ رکھیں۔

 

72 گھنٹوں بعد اثر نہیں ہوتا:سول سرجن ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایا کہ اگر کسی شخص کو ریبیز سے متاثرہ جانور کاٹ لیتا ہے اور وہ 72 گھنٹوں کے اندر اپنا علاج نہیں کراتا ہے تو اس کے بعد ویکسین یا اے آر وی ویکسین لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا جلد از جلد ویکسین اور اے آر وی ویکسین لگوالیں۔

 

بے پرواہ نہ ہوں:ڈاکٹر اودھیش کمار نے کہا کہ کتے، بلی یا کسی دوسرے جانور کے کاٹنے پر بالکل لاپرواہ نہ ہوں۔ اگر تھوڑا سا نشان بھی ہو تو اینٹی ریبیز انجکشن ضرور لگوائیں۔ ریبیزایک خطرناک مرض ہے، مگر لوگوں کا اس کے بارے میں کم علم زیادہ نقصان دہ ہے۔ لوگ عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ ریبیز صرف کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کتے، بلیوں، بندروں وغیرہ جیسے جانوروں کے کاٹنے کی وجہ سے یہ وائرس انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ بیماری جانور کے تھوک یا کٹے ہوئے اعضاء پر پالتو جانوروں کے خون سے براہ راست رابطے سے بھی پھیل سکتی ہے۔