کردار سازی، کرئیر سازی و شخصیت سازی کی رُکاوٹوں کا ادراک ضروری ہے

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

کیا ہم اپنے مفروضات کے اسیر بن گئے؟۔۔۔ (چوتھی قسط)

کردار سازی، کرئیر سازی و شخصیت سازی کی رُکاوٹوں کا ادراک ضروری ہے

 

ہمارے طلبہ اور اکثر والدین بھی کرئیر و شخصیت سازی کے ضمن میں دہائیوں سے چلی آرہی روایتوں کی اندھا دھند پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اِن سارے رویّوں کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے۔

 

۷۔  ’ہمارے بچّے بالکل ایسے ہوں

            تمام والدین کا ماہرین نفسیات ہونا ضروری نہیں، یہ ممکن بھی نہیں البتّہ چند فطری اور بنیادی باتیں اُنھیں یاد رکھنی ہیں۔ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ اس دھرتی پر کوئی دو بچّے ایک جیسے نہیں ہوسکتے حتّٰی کہ جڑواں بچّے بھی نہیں۔ اس کے باوجود تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے بچّے انتہائی ذہین ہوں اور اسکول کی سطح ہی سے وہ سب سے نمایاں ہوں۔ والدین کو ذہانت اور فطانت کا معاملہ سمجھ لینا چاہئیے۔ اس دنیا میں جتنے بچّے ہیں،اُن میں سے صرف پانچ فیصد بچّے جینئس یا غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں۔ ۰۲/فیصد بچّے ذہین ہوتے ہیں یعنی فطری طور پر ذہین بچّوں کا فیصد۵۲/ ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ۵۷/فیصد بچّوں کی بڑی اکثریت اوسط درجے یا کند ذہن یا سُست رو حتّٰی کہ ذہنی مفلوج بچّوں پر مشتمل ہے۔ والدین کو اس ضمن میں یاد یہ رکھنا ہے کہ ذہانت کا یہ پیمانہ پتھر کی لکیر نہیں۔ فطرت کی جانب سے اس میں لچک ہمیشہ قائم رہتی ہے البتّہ والدین مصر رہتے ہیں کہ اُن کے بچّے انتہائی ذہین و فطین بچّوں جیسے ہوں، بالکل ویسے، ہو بہو ویسے۔ برسہا برس تک وہ’ہمارے بچّے بالکل ایسے‘ خیال کا شکار رہتے ہیں۔

 

            ۵۷/فیصد کی تعداد میں موجود اوسط اور سُست رو بچّوں کے تعلق سے والدین کا رویّہ یوں ہو:۔

(ا) اوسط درجے کے یا سُست رویا کند ذہن، بچّوں کو صرف مقابلہ آرائی کے لیے ذہین و فطین بچّوں کی لکڑی سے نہیں ہانکنا چاہئیے۔

 

(۲) انسانی ذہانت بھی کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کی ذہانت کی طرف اَپ گریڈ ہوسکتی ہے یعنی اُس میں بہتری ممکن ہے۔

(۳) کمپیوٹر کی ذہانت میں بہتری کے لیے سافٹ وئیر درکار ہوتا ہے اور انسانی ذہن کو اَپ گریڈ کرنے کے لیے صبر۔ ’صبر‘ نامی سافٹ وئیر کو کوئی مشین نہیں پہچانتی صرف انسانی دماغ اس سے واقف ہے۔

 

(۴) مشین پر لیبل لگایا جاسکتا ہے کہ’یہ ناکارہ ہے‘ البتّہ انسانی ذہن پر نہیں کیوں کہ یہ انتہائی مؤثر اور وسیع ترین مشین انسان کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔

 

(۵)آخری کتاب میں اولاد کو آزمائش کہا گیا ہے البتّہ سُست رو یا کند ذہن بچّوں پر والدین کتنی محنت کرتے ہیں یہ حقیقی آزمائش ہے۔ جو والدین اس آزمائش سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیشہ واویلا مچائے رہتے ہیں: اے اللہ یہ کیسی اولاد ہمیں دی، یہ بہت ذہین نہیں ہے‘۔ البتّہ جو والدین جو اولاد اللہ نے اُنھیں عطا کی ہے اُس پر (الف) شکر کرتے ہیں (ب) اُن پر خوب خوب محنت اور (ج) خوب خوب صبر کرتے ہیں وہ اپنے اوسط درجے کے بچّوں کو بھی بظاہر کامیاب بچّوں سے بھی زیادہ نمایاں بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

 

۸۔  ’بھیڑ چال

            آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پیش رفت کی اس رُکاوٹ جس کا نام ’بھیڑ چال‘ یا ’روایتی بابو‘ ہے کو سمجھنے کے لیے آپ کو ملک کے مغربی ساحل یعنی کوکن سے کیرالا کا دورہ کرنا پڑے گا۔ یہ پورا علاقہ چار دہائی قبل خلیجی ممالک کی نوکریوں کے جنوں اور پھر اُس کے بعد مرچنٹ نیوی یا جہاز رانی کی ملازمتوں کا نذر ہوگیا۔ سرکار کی عینک سے یہ علاقہ ’خواندہ‘ نظر آتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک سے زائد نسلیں اِن پیشوں میں اعلیٰ تعلیم سے کٹ کے رہ گئی ہیں۔اس علاقے کے کم و بیش دو تین سوگاؤں اور قصبوں میں جاجاکر ہم نے دیکھا ہے کہ خلیج کے دینار و درہم اور مرچنٹ نیوی کے ڈالر نے اس خطّے میں کچھ نمائشی خوشحالی تو لائی مگر نئی نسل کو جدید تعلیم سے دُور کردیا۔ گاؤں اور دیہاتوں میں بڑے بڑے بنگلے اور شادی بیاہ میں اسراف یہ کبھی حقیقی ترقی کی دلیل بھی نہیں رہی۔ بدقسمتی سے یہاں ایک کھوکھلا سماج تشکیل پارہا ہے۔ اس علاقے میں ایک عرصہ دراز تک ’ویزا‘ کرئیر کہلاتا رہا۔ کوئی ماموں اور چاچا وِزِٹ ویزا بھیجتے رہے اور طلبہ ایس ایس سی کا بستہ پھینک کر گلف کو پیارے ہوجاتے۔ پھر وہ وہاں پر کیاکرتے یہ کوئی ایک دوسرے سے نہیں پوچھتا کیوں کہ سب وہی کرتے تھے یعنی ایک آدھ ہزار درہم کے لیے کوئی بھی کام اور مزدوروں کے کیمپ میں مفت رہائش!آج اس علاقے سے خلیجی ممالک میں ملازمت کرنے والوں کی تعداد اتنی ہوگئی ہے کہ اگر اُن خلیجی ملکوں میں سے کہیں بھی آج الیکشن ہوجائے اور ان غیر مقیم ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتو اُن ملکوں میں کوچی، کولم اور کاسار گوڈ کا رہنے والا کوئی شخص وزیراعظم منتخب ہوجائے اور چپلون، فردس اور کالستہ کا کوئی شخص نائب وزیر اعظم!

 

            یہ حقیقت ہے ہماری قوم کی اور ان علاقوں کی جن کے تعلق سے ایک بھرم ہے کہ وہاں خواندگی کا تناسب بہت اچھا ہے البتہ معلوم یہ ہورہا ہے یہاں بھی ہماری قوم کا معاملہ حروف شناسی تک ہی ہے اور اعلیٰ تعلیم سے منہ موڑ نے کی بناء پر ان علاقوں سے آکر مسلم ممالک میں بھی ہماری قوم صرف غلامی کر رہی ہے۔ یہ تو بھلا ہو اِن خلیجی ممالک کا جنھوں نے ’آزاد ویزا‘ کا سسٹم بند کردیا اور اب لگ بھگ ہر قسم کے کام کاج کے لیے کم از کم ایس ایس سی پاس ہونا لازمی قرار دیا۔

 

            اب جہاں تک مرچنٹ نیوی ملازمتوں کا سوال ہے آج بھی اُس کا کریز قرار ہے گرچہ ہزاروں نوجوانان سی ڈی سی بنواکر دربدر بھٹک رہے ہیں۔ فیملی لائف تہس نہس ہورہی ہے البتہ ’روایتی بابو‘ اس پروفیشن کو گلے لگائے پھر رہے ہیں۔ ہندوستانی مغربی ساحل کے ہمارے لاکھوں گھروں پر پوری اسکولی تعلیم کے دوران یہ منتر کان بھی ٹھونسا جاتا ہے کہ ایس ایس سی کے بعد آگے پڑھنا نہیں ہے۔ ۸۱/سال پورے ہوتے ہی سی ڈی سی بناکر جہاز پر سوار ہونا ہے۔ اعلیٰ و جدید تعلیم سے محرومی کا احساس ڈالر کی چکاچوند میں ختم ہورہا ہے جب کہ ان لاکھوں نوجوانوں میں سے کئی سائنسداں بھی بن سکتے تھے اور کئی ریسرچ اسکالر!(جاری……