ظریفانہ: یہ کون طے کرے گا  کہ میں کون ہوں؟      

National

ظریفانہ: یہ کون طے کرے گا  کہ میں کون ہوں؟      

ڈاکٹر سلیم خان

کلن سنگھ  سےجمن  شیخ  نے پوچھا کیوں بھائی کہاں نکل گئے تھے؟ تین دن سے نظر نہیں آئے؟؟

کلن نے کہا بھائی وہ ایسا ہے کہ میں ناگپور ایک چنتن شیبر میں گیا تھا ۔

یہ چنتن شیبر کیا ناگپور کا کوئی محلہ ہے جہاں آپ چلے گئے تھے ؟

جی نہیں  جیسے تم اجتماع  میں نکل جاتے ہونا اسی طرح کا یہ ایک  تھا سمجھ لو ۔ اس میں شرکت کے لیے گیا تھا ؟

اچھا تو کیا چنتن منتھن کرکے وہاں سے لوٹے؟

وہی دیش کے سامنے جو سمسیائیں میرا مطلب مسائل ہیں ۔ اس پر غور  و خوض کیا گیا ؟

ہمارے وزیر اعظم نے افغانستان کو ساری لوگوں کی نمائندہ سرکار بنانے کاا مشورہ دے دیا ۔ تو کیا ہندوستان میں بھی اس مسئلہ پر غور ہوا؟

میں سمجھ گیا کہ آپ مسلمانوں کی بات کررہے ہیں ۔ اس بار  وچار منتھن میں ہم نے  مسلمانوں کے مسائل پر بھی گفتگوکی گئی ۔

لیکن کلن بھیا ہندوستان کے اندر سب کی نمائندہ نہ مرکزی سرکار ہے اور نہ صوبائی حکومت ۔

کیا مطلب یہ سب لوگ انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں َ۔

پتہ  ہے لیکن کیا مرکز میں 15 فیصد  ارکان پارلیمان اور اسی تناسب میں وزیر ہیں ؟ گجرات کے دس فیصد مسلمانوں کی خاطر ایک بھی وزیر نہیں ہے۔

ارے بھائی مسلمان الیکشن نہیں جیت پاتے تو ہم کیا کریں ؟

یہ بات درست ہے لیکن اگر کسی کی اپنی سرکار سارے لوگوں کی نمائندہ نہیں ہے تو اسے دوسرے مشورہ دینے کا کیا حق ہے؟

ارے بھائی للن اب مسلمان بی جے پی آتے نہیں تو ان کا کیا کیا جائے ؟

اس سوال پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہیے تھا کہ جو مسلمان ہر سیاسی جماعت میں جانے سے نہیں ہچکچاتے وہ بی جے پی سے کیوں دور رہتے ہیں؟

جی ہاں  للن خان آپ کی بات درست ہے لیکن آپ یقین کریں آج کل ہمارے سر سنگھ چالک مسلمانوں کو قریب کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

مجھے پتہ ہے وہ ہجومی تشدد کرنے والوں کو ہندوتوا سے الگ کرتے ہیں لیکن انہیں سزا نہیں دلواتے۔ ایسے زبانی  جمع خرچ کا کیا فائدہ ؟

دیکھو بھائی کلن مجھے تو لگتا ہےکہ  موجودہ   سرکار مسلمانوں کے مسائل  حل کرنے کے بجائے بڑھاتی جاتی   ہے کیا  سنگھ اس معاملے واقعہ  کچھ کرسکتاہے؟

کلن بولا ہاں ہاں جمن  اسی لیے تو غور کیا گیا ۔

جمن نے پوچھا اچھا  تو آپ لوگوں نے مسلمانوں کے مسائل کا کیا حل نکالا ؟

یار جمن میں سچ بتاوں کہ  حل تو  بتایا گیا مگر میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ اس  کے لیے تمھیں ہمارے رہنما سے ملنا ہوگا۔

ارے یار میں اس کے لیے ناگپور نہیں چل سکتا اس لیے چوہا لنڈورہ ہی بھلا۔

وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہمارے اپنے شہر شری للن بھگوتی ہیں ۔ میں تم کو ان سے ملاوں گا تو وہ سب سمجھا دیں گے ۔ چلو چلتے ہیں ان کے پاس ۔

جمن نے کہا اچھا تو آپ میری موٹر سائیکل  پربیٹھیں  ۔ ہم للن بھگوتی سے مل کر آتے ہیں ۔

ارے نہیں بھائی ہم لوگ میری نئی  گاڑی میں چلیں گے  ۔ کیا سمجھے

کلن نے للن   سے تعارف کراتے ہوئے کہا یہ میرا بچپن کا دوست جمن ہے ۔ آپ ان کو مسلمانوں کے مسائل کا وہ حل بتائیں جو سرسنگھ چالک نے بتایا تھا ۔

للن بولے اچھا تو کیا  یہ مسلمان ہے؟

کلن بولا جی ہاں شریمان یہ مسلمان ہے۔

للن نے کہا بھائی ایسا ہے کہ ہمارے سر سنگھ چالک نے بتایا کہ ہندوستان میں رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں ۔

کلن  یہ سن کر چکرا گیا ۔ اس نے سوچا آج بچپن کی دوستی ختم ہوجائے گی مگر جمن نے بڑے جوش میں کہا کہ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے۔

کلن  نے کہا اگر ایسا ہے کہ سب ہندو ہیں اور کوئی مسلمان نہیں ہے تب تو مسلمانوں کا کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔

للن نے تائید کی جی ہاں یہ’ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘ والا فارمولا ہے۔

کلن چہک کر بولا جی ہاں سر اس طرح تو آپ ہماری جماعت المسلمین کی مقامی شاخ کے سربراہ ہو گئے ۔

للن نے چونک کر پوچھا جماعت المسلمین کا سربراہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میں تو  آر ایس ایس کا صدر ہوں ۔

جی نہیں سر چونکہ میں ہندو ہوں اور جماعت المسلمین کا رکن بھی  ہوں اور تو آپ اس کے صدر گئے ۔

ارے بھائی میں جماعت المسلمین کا صدر کیسے ہوسکتا ہوں ؟ میں تو آر ایس ایس  کی جھمری تلیاّ  شاخ کا سربراہ ہوں ۔

یہ میں نہیں جانتا ۔ اب تو میں تو آپ کو جماعت المسلمین کا صدر ما  نتا ہوں ۔

اس پر للن بھگوتی کو غصہ آگیا اور بگڑ کر بولے ابے بیوقوف میں کون ہوں یہ کون طے کرے گا ؟ تو یا میں؟؟

جمن بولا صاحب اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟

ناراض ہونے کی بات کیوں  نہیں ہے؟ کیا کوئی بھی  ایرا غیرا نتھو خیرایہ طے کردے گا کہ میں کون ہوں ؟

لیکن جناب اگر آپ یہ طے کرسکتے ہیں کہ میں ہندو ہوں تو میں یہ کیوں طے نہیں کرسکتا کہ آپ جماعت المسلمین کے صدر ہیں آخر ہم دونوں ہندو  ہیں۔

کلن نے دیکھا بات بگڑ رہی ہے تو بیچ میں بول پڑا۔ للن جی لیکن ہمارے دیش کا دستور کیا کہتا ہے؟ کیا ہم اس کو نہیں مانتے؟؟

للن نے کہا ہم سے زیادہ دیش کے دستور کو کون مان سکتا ہے ؟ لیکن میں نہیں جانتا کہ ہندو کے بارے میں  دستور کیا کہتا ہے؟؟

کلن بولا وہ تو کہتا ہے کہ جو مسلمان، سکھ ، عیسائی ،پارسی ،جین یا بودھ نہ ہو وہ ہندو ہے ۔

جمن  نے کہا وہی تو۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ  جو مسلمان، سکھ ، عیسائی ،پارسی جین یا بودھ ہو وہ ہندو نہیں   ہے۔

للن کو پھر  غصہ آگیا ۔ اس نے بگڑ کر کہا تم چپ رہو جی ۔ کیاتم  دستور کے بارے میں  سر سنگھ چالک  سے زیادہ جانتے ہو؟ بیچ میں نہ بولا کرو کیا سمجھے؟

جمن نےپوچھا  صاحب  ہمارے  ہندو ہونے کے حق میں  آپ کے سر سنگھ چالک کے پاس کیا کوئی دلیل بھی ہے یا پھر یہ ان کے من کی بات ہے بس ؟

للننے جواب دیا ۔  ارے بھائی ہمارے اور تمہارے آبا و اجداد  یکساں تھے ۔  اس لیے  ہم سب  ہندو ہیں  ۔

جمن نے کہا اچھا تب تو افغانستان  کے طالبان بھی ہندو ہوگئے ۔

للن نے بگڑ کر پوچھا کیا بکواس کرتے ہو؟ طالبان کیسے ہندو ہوسکتے ہیں  ؟

جمن بولا  افغانستان کے ہندووں اور مسلمانوں کے آباو اجداد بھی یکساں تھے ، اگر آپ نے طالبان کو ہندو نہیں مانا تو ۰۰۰۰۰۰۰

للن نے پھر سوال کیا ’نہیں مانا تو کیا ہوگا ؟‘

وہاں کے ہندووں کو مسلمان ماننا پڑے گا اور سی اے اے کے تحت ان کو شہریت دینے سے انکار کرنا پڑے گاکیونکہ آبا و اجداد ۰۰۰۰۰۰۰

کلن درمیان  بول پڑا جمن تم بات کو طول دے کر بہت دور افغانستان لے گئے اور اس  لیےہمارے للن بھگوتی  کو پریشان کردیا ۔

جمن نے کہا تو میں کیا کروں ؟ آپ ہی تو مجھے ان کے پاس لائے تھے ۔

کلن نے کہا ہاں بھائی غلطی ہوگئی ۔ اب چلو یہاں سے ورنہ یہ پاگل ہوجائیں گے ۔

جمن ہنس کر بولا ارے کلن بھیا پاگل بھی کہیں پاگل ہوتا ہے خیر چلو اب دوبارہ ایسے کسی پاگل سے مجھے مت ملانا۔

وہ تو ایسا ہے کلن نے کہا کہ اب میں ان  پاگلوں  کی کبھی شکل بھی نہیں دیکھوں گا ۔

للن نے بگڑ کر کہا مجھے تو لگتا ہے تم دونوں مجھے پریشان کرنے کے لیے سازش کرکے ساتھ آئے تھے۔ اب یہاں سے فوراً دفع ہوجاو۔ 

جمن نے کہا  شکریہ جناب آپ نہ بھی کہیں تب بھی ہم جارہے ہیں ۔

کلن بولا اور کبھی لوٹ کر نہیں آنے کے لیے جارہے ہیں کیا سمجھے ؟؟

کلن بولا رام رام جمن نے کہا دعا سلام ۔