اورنگ آبادوممبرا دہشت گردی معاملہ ،ٹرائل شروع ہونے کا راستہ صاف

Maharashtra

اورنگ آبادوممبرا دہشت گردی معاملہ ،ٹرائل شروع ہونے کا راستہ صاف

۲۱؍ اکتوبر کو شروع ہوگی پہلی گواہی ،مہاراشٹر اے ٹی ایس نے خصوصی عدالت میں سارے شواہد جمع کرا دیئے
  30؍ ستمبر ( پریس ریلیز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان ،تقی سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑاور مشاہد کا مقدمہ جو کہ گذشتہ تقریبا تین سالوں سے التواء کا شکار تھا ۔اس مقدمہ میں شواہد کے طورپر ضبط شدہ الگ الگ موبائل فون ،لیپ ٹاپ ،کمپیوٹرس ،اور دیگر چیزیں جو گذشتہ تین سالوں سے فورنسک لیباریٹری کے پاس بھیجی گئی تھیں ،وہ اورنگ باد خصوصی عدالت میں جمع کرادی گئی ہیں ،اس لئے جو معاملہ التواء کا شکار ہو گیا تھا وہ ۲۱ ؍ اکتوبر سے برق رفتاری سے شروع ہونے جا رہا ہے ۔،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

واضح رہے کہ اس میں سے تین ملزمین کی در خواست ضمانت ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد کے پنچ کے رو برو سماعت کے لئے تیار ہے دفاع کی جا نب سے مقدمہ روز بروز کی بنیاد پر چلانے کی درخواست ایک سال قبل ہی داخل کی جا چکی ہے ۔ اس مقدمہ میں باالراست کوئی گواہی موجود نہیں ہے اور تمام واقعاتی ثبوت پر ہی یہ کیس مشتمل ہے۔محض شک کی بنیاد پر مذکورہ بالا ۹؍وئوں بے گناہ نوجوانوں کو سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ،جو اورنگ آباد کی ہرسول سینٹرل جیل میں جنوری ۲۰۱۹ سے قید و بند کی زندگی گذار رہے ہیں ۔

اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سکریٹری و سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے بتایا کہ ممبرا، اور اورنگ آباد معاملےمیں بڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے۔ ان نو جوانوں پر یواے پی اے جیسے سخت ترین قوانین سمیت چار دفعات لگائے گئے ہیں جن میں 18،20،38،اور 39 شامل ہیں اور تعزیرات ہند کے دفعہ 201 اور 120 بی اور ممبئی پولیس ایکٹ کا دفعہ 135 لگایا گیا ہے ۔یہ کیس جھوٹی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے حقیقت سے کوسوں دور ہے یہ سارے ملز مین بے قصور تھے ،ہیں اور رہیںگے اور انشاءاللہ ہم ان کی بے گناہی عدالت میں ثابت کرکے رہیں گے۔