ایک غزل دریائے نیل کے نام

National

ایک غزل دریائے نیل کے نام

 

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی

ایسوسی ایٹ پروفیسر، قاہرہ۔ مصر

 

دیکھتے ہیں مصر والے جب کنارا نیل کا

یاد آجاتا ہے ان کو سارا  قصہ نیل کا

 

چیر کر سینہ ہوئے جو پار موسی نیل کا

کر گیا فرعون کو غرقاب دھارا نیل کا

ِ

مصر آؤ دوستو تم کو اگر فرصت ملے

کم سے کم اک بار تو دیکھو نظارہ نیل کا

 

عمر بھر وہ بھول پاتا ہی نہیں ہے ذائقہ

جو کوئی پیتا ہے میٹھا پانی دریا نیل کا

 

غور سے دیکھیں تو یہ لگتا ہے اکثر دوستو

آسماں پر پڑ رہا ہے نیلا سایہ نیل کا

 

عشق، تنہائی ، خوشی اور غم کے ان لمحات میں

قاہرہ والوں کو ملتا ہے سہارا نیل کا

 

اس کی موجیں خون بن کر دوڑتی ہیں جسم میں

ان رگوں میں موجزن ہے قطرہ قطرہ نیل کا

 

بیٹی ہے تو اے ولا اس غیر فانی نیل کی

تیرا ہر اک شعر ہے گویا کہ نغمہ نیل کا