کرشن لیلا : متھرا سے دوارکاتک

National

کرشن لیلا : متھرا سے دوارکاتک

ڈاکٹر سلیم خان

دہلی اور لکھنو دربار کی کشمکش  شاہد ہے کہ   سنگھ پریوار کے اندر فی الحال ایک  مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ  کیشو پرشاد موریہ کے خلاف  وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اعلان جنگ کررکھا ہے۔ یوگی  کے خلاف امیت شاہ دہلی میں بیٹھ کر ریشہ دوانیاں کررہے ہیں۔ امیت شاہ کو کمزور کرنے میں اترپردیش کی گورنر آنندی بین مصروف عمل ہیں ۔ ان کے قریبی بھوپندر سنگھ نےامیت شاہ کے چہیتے سابق وزیر اعلیٰ وجئے روپانی سمیت  سارے وزیروں کی چھٹی کردی ہے۔ اس سے سابق نائب  وزیر اعلیٰ      نتن پٹیل نے علم بغاوت بلند کیا اورپھر دبک کر بیٹھ گئے  ۔ گجرات اور اترپردیش میں بی جے پی  مختلف دھڑوں میں بنٹی ہوئی  ہے اور سب ایک دو سرے کی چتا جلانے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ اس کھیل تماشے کو بے بس و لاچار  وزیر اعظم  نابینا دھرتراشٹر کی مانند آنکھیں موند کر دیکھ رہے ہیں حالانکہ گجرات  ان کی جنم بھومی اور یوپی   کرم بھومی ہے یعنی ان کی جائے پیدائش گجرات کے اندر ہے اور ان کا حلقۂ انتخاب اتر پردیش میں ہے ۔ اس خانہ جنگی کو قابو  کرنے کی ترکیب ان کی  سمجھ سے باہر ہے۔ ان حالتِ زار پر ایک مشہور شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے ؎

مریضِ  سیاست پہ لعنت خدا کی

مرض بڑھ گیااس کی جوں جوں دوا کی

وزیر اعظم کی حالت مہابھارت کے معروف کردار کرشن جیسی   ہے کہ جن  کی پیدائش اترپردیش کے متھرا میں ہوئی اور سامراج گجرات کے دوارکا میں قائم ہوا۔ گجرات اور اترپردیش  کے سیاسی ماضی پر غائر نظر ڈالیں تو یہ مشابہت دکھائی دیتی   ہے کہ   وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل  مودی جی کی اپنی کوئی  مقبولیت نہیں تھی۔ وہ دہلی کے اندر سیاسی بن باس کی زندگی گزار رہے تھے۔ کیشو بھائی پٹیل کے دست راست سنجے جوشی انہیں گجرات میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ مرکز کی مہربانی سے انہیں اسی طرح  وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا جس طرح یوگی جی مرکز کے نظر کرم سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کیے گئے حالانکہ نہ تو ان کے چہرے پر انتخاب لڑا گیا تھا اور نہ وہ رکن اسمبلی تھے ۔  2011 میں پارٹی پر  لال کرشن اڈوانی کی پکڑ اسی طرح مضبوط تھی جیسے آج کل امیت شاہ کی ہے فرق یہ ہے کہ اڈوانی اور اٹل میں ان بن تھی جو مودی اور شاہ میں بظاہر نہیں ہے مگر سی آر پاٹل جیسے شاہ مخالف کا گجرات میں پارٹی سربراہ بن جانا  اور وجئے روپانی  کو بے آبرو کرکے ہٹا دیا جانا اس بات کا غماز ہے کہ اندرونِ خانہ  سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔  

 

اڈوانی جی  نے بیس سال قبل  اٹل جی کو کمزور کرنے کے لیے اپنے شاگرد نریندر مودی  کو دہلی سے احمد آباد بھیجا ۔ ان کو جب گودھرا فساد کے بعد ہٹانے کا فیصلہ ہونے لگا تو اپنے دیگر شاگردوں یعنی پرمود مہاجن اور ارون جیٹلی کے ذریعہ دفاع کیا اور یہ کہا کہ انتخاب سے قبل اگر انہیں ہٹا دیا گیا تو عوام میں غلط پیغام جائے گا اس لیے اسے موقوف کردیا جائے ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے تو اڈوانی  کو وان پرستھ آشرم میں بھیج کر سبکدوش کردیا اور پھر اگلے الیکشن میں ٹکٹ سے محروم کرکےبن باس آشرم  کی سیر کرادی ۔ اتفاق سے یہی تاریخ پھر سے دوہرائی  جارہی ہے۔    امیت شاہ نے اڈوانی  کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کو ٹھکانے لگانے کی خاطر یوگی ادیتیہ ناتھ کو اتر پردیش کا وزیر اعلیٰ بنوا دیا۔ اس  فیصلے  کا سب سے زیادہ فائدہ امیت شاہ کو ہوا کیونکہ 2019؍  انتخاب کے بعد انہوں نے راجناتھ سنگھ کو وزیر دفاع بنوا کر خود وزیر داخلہ کا  یعنی دوسرا سب سے اہم قلمدان جھپٹ لیا ۔ یہ بھی ایک حسن اتفاق ہے کہ  فی الحال امیت شاہ کے ساتھ  یوگی وہی کررہے ہیں جو مودی نے اڈوانی کے ساتھ کیا تھا ۔ وہ شاہ کی ایک نہیں سنتے انہوں نے خود کو مودی کا جانشین  بنانے میں  امیت شاہ کو پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔  

 

امیت شاہ نے اپنی سیاست چمکانے کی خاطر  نریندر مودی  کا راستہ اختیار کیا۔ مودی نے جس طرح گجرات کے فسادات سے اپنی مقبولیت بڑھائی تھی اسی طرح امیت شاہ نے   اپنی  سیاسی رتبہ بڑھانے کے لیے  پہلے توکشمیر کی  دفع 370ختم کروائی  اور سی اے اے کا قانون  بنوایا۔ یہ معاملہ جب گلے کی ہڈی بن گیا تو دہلی کے  فساد کا اسی طرح فائدہ اٹھایا جس طرح مودی جی نے گودھرا فساد کا اٹھاکر اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگا یا تھا ۔  معروف  وکیل پرشانت بھوشن نے امیت شاہ کی دہلی پولس پر الزام  لگایا  ہے کہ یہ سازش کی جانچ نہیں کرہی ہے ، بلکہ قصورواروں کو بچانے کے لیے بےگناہوں پر الزام عائد کرنے کی سازش  رچ رہی ہے۔بھوشن نے کہا  ہے کہ ، ’معاملے کی جانچ کرنے والی پولیس کو جوابدہ ٹھہرایا جانا ضروری ہے ‘۔ انہوں نے یاد دلایا کہ  2006 میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق  نظم ونسق  نافذ کرنے والی پولیس فورس کو جانچ کرنے والوں سے الگ ہونا چاہیے۔

 

اس  حقیقت کا انکار ناممکن  ہے کہ امیت شاہ نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے اپنی پولس کے ذریعہ  دہلی کے ایک ایک فسادی کو بچایا ۔ اس کی خاطر راتوں رات دہلی  ہائی کورٹ کے باضمیر اور دلیر  جج مرلی دھر ن  کا تبادلہ کردیا گیا    کیونکہ انہوں نے کپل مشرا کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا اور  آگے چل کر ان کا نام سپریم کورٹ کے لیے متوقع ججوں کی فہرست سے بھی خارج کردیا گیا لیکن یہ معاملہ اب قابو سے باہر ہورہا ہے۔ حال میں سابق کونسلر طاہر حسین کے گھر کی  دو تھانوں میں الگ الگ ایف آئی آر درج کرنے پر عدالت نے حیرانی ظاہر کی ۔ حیرت  کی بات یہ ہے کہ کہاں تو کپل مشرا جیسے بدمعاشوں پر کوئی ایف آئی آر نہیں اور کہاں طاہر حسین پر دو دو تھانوں میں ایف آئی آر؟  عدالت نے اے سی پی گوکلپوری اور دیال پور تھانہ انچارج سے اس  معاملے میں وضاحت  طلب کی تھی  مگردونوں تسلی بخش وضاحت کرنے سے قاصررہے۔ طاہر حسین کے وکیل رضوان نے عدالت  کو بتایا ان کھجوری خاص تھانے میں بھی ان کے مؤکل کے خلاف معاملہ  درج کیا گیا یعنی ایک فرد کی ایک مقام سے متعلق  پاو درجن تھانوں میں  ایف آئی آر ہے۔

اس سے قبل کئی معاملات میں عدالت پولس کو پھٹکار لگا چکی ہے اور یہاں تک کہا جاچکا ہے کہ اس تفتیش کو عدلیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یاد کیا جائے گا۔ پولیس کے غیر ذمہ دارانہ رویہ  سے ناراض ہو کر دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے  ماہِ جولائی میں دہلی پولیس پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ بھی  عائد کیا ہے۔ اس پر تو  کسی باوقار وزیر داخلہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا لیکن امیت شاہ سے اس کی توقع  ٹھیک نہیں ہے۔ اس معاملے میں جب  فساد زدہ محمد ناصر اپنی  آنکھ میں لگی  گولی  کی شکایت پر ایف آئی آر کرانے گیاتو دہلی پولیس نے اس  کی شکایت دوسری ایف آئی آر میں جوڑ دی۔ اس پر عدالت  نے یہ تبصرہ کیا  کہ پورا معاملہ دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے پولیس ملزمین کو بچا رہی ہے۔ امیت شاہ کی پولس اور کر بھی کیا سکتی ہے؟کڑکڑڈوما کورٹ کی سیشن عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس نے اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیابلکہ  بڑا ہی ڈھیلا رویہ اختیار کیا اور نریش تیاگی، سبھاش تیاگی، اتم تیاگی، سشیل اور نریش گور کو بغیر جانچ کے کلین چٹ دے دی۔  اس طرح  کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ امیت شاہ نے مودی کے تمام حربے استعمال کرکے ان کا جانشین بننے کی تمام  کوشش کرڈالی مگرجس  ادیتیہ ناتھ کو وہ لائے تھے اب  ان کی  راہ  کا روڑہ بن گیا  ۔

 

سنگھ پریوار کی خانہ جنگی سے  وہی لوگ حیرت زدہ ہیں جنہیں  ہندوستان کی دیو مالائی تاریخ کا علم  نہیں ہے۔ شری کرشنا کا جنم  اترپردیش کےمتھرا میں ہوا لیکن وہ آگے چل کر گجرات کے دوارکا چلے گئے ۔ وہاں سونے کی نگری بنائی جو بالآخر سمندر میں غرقاب ہوگئی ۔  وہ گجرات کیوں گئے اور دوارکا نگری کیوں ڈوبی یہ جاننا بہت اہم ہے۔ شری کرشنا نے اپنی والدہ  کےعم زاد بھائی کنس کا قتل کردیا  تو اس کے خسر اور مگدھ (بہار) کے طاقتور راجہ  جر سندھا    نے متھرا پر پہ در پہ کئی حملے کیے۔  اس سے اپنے لوگوں کو بچانے کی خاطروہ پورے  قبیلہ سمیت 1300؍ کلومیٹر دور دوارکا  چلےگئے ۔ آگے چل کر یادو قبیلہ آپس میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوگیا۔ خوب قتل و غارتگری ہوئی اور بالآخر  شری کرشن کی موت کے بعد دوارکا نگری کو سمندر نے نگل لیا۔ مودی جی کی جائے پیدائش گجرات میں  ضرور ہے لیکن قومی سیاست میں وہ اترپردیش کے وارانسی  سے پرکٹ ہوئے۔ ابتداء میں شری کرشن کی مانند بڑی کامیابی حاصل کی لیکن   اب پھر ان کے اپنے قبیلے بھارتیہ جنتا پارٹی   میں خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔ دواپر یگ کی مہابھارت کے بعد   دوار  نگری  ڈوب گئی  تھی ۔  کل یگ میں کیا ہوگا   یہ تو وقت ہی بتائے گا