عر شی قریشی داعش معاملہ میں این آئی اے کے تفتیشی افسر کی گواہی جاری

Maharashtra

عر شی قریشی داعش معاملہ میں این آئی اے کے تفتیشی افسر کی گواہی جاری

کیس فیصلہ کن مرحلہ میں داخل، اگلی سماعت 30 ؍ ستمبر کو عمل میں آئے گی  

 
ممبئی ۔21؍ ستمبر (پریس ریلیز) آئی۔ آر۔ایف سے تعلق رکھنے والے عرشی قریشی جس پر غیر مسلم نو جوانوں کو مذہب تبدیل کراکے داعش میں بھرتی کرانے سمیت کئی سنگین الزامات لگائے ہیں اس مقدمہ کی کاروائی عالمی وباءکووڈ 19  کی وجہ سے التواء کا شکار تھی ،حالات میں سدھار کے بعد اس کی کار وائی دوبارہ شروع ہو چکی ہے ، اس کیس سے متعلق آج ممبئی خصوصی این آئی اے عدالت میں استغاثہ کی جا نب سے پیش کئے گئے ایک اہم سرکاری گواہ وزارت داخلہ کے سکریٹری ِبھیست صاحب Sanctioning Authorityکی گواہی اور جرح مکمل ہو چکی ہے ،اس گواہ نے کئی ایسے سنسنی خیز انکشافات کئے جس سے سچائی اجاگر کرنے میں کافی مدد ملے گی اس مقدمہ کی اگلی سماعت30؍ ستمبر کو عمل میں آئے گی اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے دی ہے۔  

مزید تفصیلات دیتے ہوئےانہوںنے بتایا کہ آج عدالت میںیک اہم سرکاری گواہ وزارت داخلہ کے سکریٹری ِبھیست صاحب Sanctioning Authorityکی گواہی اور جرح مکمل ہو چکی ہے۔دفاع کی جرح کے دوران وزارت داخلہ کے سکریٹری کئی چیزیں بتانے سے قاصر رہے مثلا پولیس نے ان کے پاس کیس چلانے کی منظوری دینے کے لئے جو پر پوزل بھیجا تھا وہ کتنے صفحات پر مشتمل تھا ؟ ۔ البتہ اس کیس کی تفتیشی افسر محترمہ نمرتا پاٹل کی گواہی جاری ہے جس کی تکمیل 30 ھ ستمبر تک عمل میں آئے گی ۔

 اس کیس کی عدالت میں پیروی کرنے والے سینیر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ آج صبح سے لے کر شام تک چلنے والی عدالتی کاروائی اور بحث اور جرح کے درمیان کئی ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جس سے انصاف کے راستے پر چلنے اور حقیقت کا سامنا کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی بہرحال معاملہ فیصلہ کن مرحلہ میںداخل ہو چکا ہے، کاروائی کو دیکھتے ہوئے اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ انشااللہ ملزم کو انصاف ملے گا۔عدالت میں اس کیس کی پیروی  کے لئے آج عدالت میںجمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان ،ایڈوکیٹ عشرت علی خان،ایڈوکیٹ فیضان قریشی مو جود تھے ۔