صحافیوں کی جاسوسی کیوں  ؟

National

صحافیوں کی جاسوسی کیوں  ؟

ڈاکٹر سلیم خان

پیگاسس  معاملہ کو ایوان پارلیمان میں دبایا گیا تو  وہ عدالت عظمیٰ میں ابھر گیا ۔ پہلی سماعت میں چیف جسٹس رمنا نے اس  کی سنگینی کا اعتراف کیا  ۔اس جاسوسی کا  انکشاف دنیا کے چند بڑے اخبارات نے کیا ہے جن میں ہندوستان کا پورٹل دی وائر شامل ہے۔   یہ ایسے لوگ ہیں جو بغیر تحقیق کے کوئی اہم خبر شائع نہیں کرتے اس لیے ساری دنیا ان کی خبروں پر توجہ دیتی ہے ۔ فرانس جیسے ممالک نے اس کی تفتیش شروع کردی ہے بلکہ   اسرائیل نے پیگاسس کے موجد این ایس او کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا ہے ۔   عام طور پر جاسوسی ان لوگوں کی جاتی ہے جو خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں  لیکن وطن عزیز میں صحافیوں کو بھی اس کا ہدف بنایا گیا حالانکہ صحافی تو جو صبح میں سوچتا ہے شام میں قلمبند کردیتا ہے اور دوسرے دن وہ چیز شائع ہوجاتی ہے ۔ اس کی جاسوسی بے معنیٰ ہے کیونکہ وہ خود سارے راز فاش کردیتا ہے ۔ اس کے باوجود خوفزدہ  سرکاریں ان کو لکھنے سے روکنے کے لیے بلکہ سوچنے سے روکنے کے لیے جاسوسی کرتی ہیں  تاکہ کوئی ایسی چیز شائع نہ ہوجائے جو ان کا بھرم ختم کردے۔  

 

سرکار ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی جاسوسی نہیں کرتی بلکہ ان نڈر صحافیوں کی نگرانی کی جاتی ہے جو بلا خوف و خطر سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال  روزنامہ بھاسکر ہے جس  کے دفتر پر پچھلے دنوں  چھاپہ پڑا۔ اس زیادتی پر  اپنا احتجاج درج کراتے  ہوئے ہمعصر اخبار انڈین ایکسپریس نے وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا چونکہ روزنامہ  بھاسکر نے کورونا کی دوسری لہر میں ہونے والی اموات اور گنگا میں تیرتی لاشوں پر سلسلہ وار خبریں شائع کی تھیں اس لیے اسے ہدف بنایا گیا۔مرکزی حکومت   کی تشویش کا سبب قومی ذرائع ابلاغ کی ڈھکی چھپی تنقید نہیں ہے بلکہ  بین الاقوامی سطح پر بھاسکر کے اثرات ہیں ۔ پچھلے دنوں  دنیا کے ایک بہت بڑے اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے  بھاسکر کےقومی  مدیر اوم گوڑ  کی رپورٹ ’گنگا جھوٹ نہیں بولتی‘ کو ترجمہ کرکے اپنے ادارتی صفحے پر شائع کردیا ۔  اس نے سرخی لگائی ’گنگا لاشوں کو لوٹا رہی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتی‘۔

 

 ایک امریکی کے قلم سے  گنگا کا جھوٹ نہ بولنا  وزیر صحت من سکھ ماڈواویہ  کے  منہ پر زور دار طمانچہ  ہے جنہوں نے کذب گوئی کی چوٹی سے اعلان کیا کہ ہندوستان میں آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی۔  ویسے تو دنیا بھر کے اخبارات نے بھاسکر کی رپورٹس سے استفادہ کیا مگر  نیویارک ٹائمز نے اسے سند عطا کردی ۔  یہ اخبار گزشتہ 170 سالوں سے آزادانہ صحافت کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور پہلی مرتبہ کسی ہندی اخبار کی رپورٹ کو اس میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔   یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نیویارک ٹائمز نے بھاسکر سے یہ رپورتاژ تیار کرنے کی درخواست کی تھی۔  یہ معمولی بات نہیں کیونکہ صحافت کی دنیا میں نوبیل انعام سمجھا جانے والا پولٹزر پرائز اسے 133 مرتبہ مل چکا ہے۔  سرکار نے چھاپے مارکر بھاسکر کی عالمی عزت و   توقیر میں زبردست اضافہ  کیا ہے۔

 

حکومت کی اس غیر دانشمندانہ اقدام کا   تیسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ  بہت جلد  روزنامہ  بھاسکر ہندوستان کا دوسرا سب سے کثیرالاشاعت اخبار نہیں بلکہ پہلا سب سے بڑا اخبار بن جائے گا اس لیے  کہ سارے لوگ جان چکے ہیں کہ روزنامہ  بھاسکر کو سچائی پیش کرنے کی سزا مل رہی ہے اور عام آدمی سچ پڑھنے کے لیے اخبار خریدتا ہے۔ ان چھاپوں کے بعد روزنامہ  بھاسکر نے اپنے قارئین کی رائے جاننے  کے لیے ایک  سروے کیا ۔ اس میں لوگوں نے  یہ مشورہ نہیں دیا کہ اسے احتیاط برتنا یا حکومت کی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے بلکہ  92.5  فیصد نے اپنے پسندیدہ اخبار کی بے خوف  صحافت کا ساتھ دیا۔ وہ حضرات جو کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار نے سارے ہندووں کا برین واش کردیا ہے ان کے لیے اس خبر میں نشانِ عبرت ہے۔

 

   اس کے علاوہ عام سوشیل میڈیا میں آزاد بھاسکر کے عنوان پر جب جائزہ لیا گیا تو 83.5%  فیصد صارفین نے  کہا ڈٹے رہیں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جن لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ لوگ ان کا ساتھ نہیں دیتے انہیں جان لینا چاہیے کہ رونے دھونے والوں کی حمایت  کوئی نہیں دیتا ۔ ان نڈر لوگوں  کا ساتھ دیا جاتا ہے جو بے خوف ہوکر مقابلہ کرتے ہیں۔  آگے بڑھنے سے قبل سوشیل میڈیا پر شائع ہونے والے چند ٹویٹ پر ایک غائر نظر ڈال لینا مفید ہے جن میں قارئین بین السطور یہ کہتے نظر آئے کہ مجھے بھاسکر کا قاری ہونے پر فخر ہے۔  راہل سینی نے لکھا ’بچہ بچہ جانتا تھا روزنامہ بھاسکر  پر چھاپہ پڑے گا۔ بچہ بچہ اس سرکار کو سمجھتا ہے۔ اس بیان سے صحافت کی ذمہ داری کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا کام محض اپنی مظلومیت کی   شکایت پلندہ کھول کر بیٹھے رہنا نہیں بلکہ قارئین کے اندر سیاسی شعور اور عزم و حوصلہ پیدا کرنا ہے۔

 

 انکت پرتاپگڈھی   ٹویٹ پر رقمطراز ہیں کہ جو بی جے پی کی اور مودی و یوگی کی کمیاں اجاگر کرے گا وہ ناپ دیا جائےگا ۔ ہنگامی حالات کا اعلان چاہے نہ ہوا ہو  لیکن جو حالات ہیں وہ ایمرجنسی سے بھی زیادہ خوفناک ہیں ۔  بابا کیسری نے لکھا بھاسکر سے عزت نفس کی خوشبو آتی ہے۔ محمد فارو ق لکھتے ہیں آج بھاسکر کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت  ہے۔ روزنامہ بھاسکر پر قارئین کے اعتماد کا اندازہ ان مختصر سے جملوں میں ہوسکتا ہے مثلاًامیت جھاجھریہ کا ٹویٹ  کہ بھاسکر ہمیشہ سچ دکھاتا ہے۔ کسی بھی سرکار کے سامنے جھکا نہیں ہے۔ میڈیا کو اسی طرح کام کرنا چاہیے۔  رویندر سین لکھتے ہیں ’جاب نہیں ہے، بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔ روزمانہ بھاسکر نے سچ دکھایا تو ا نکم ٹیکس کے درشن ہوجاتے ہیں۔

 

اس موضوع پر   گورو سنچیتا  کے قلم کی جنبش ملاحظہ فرمائیں وہ لکھتے ہیں’آپ صحافت کے لیے کھڑے نہیں ہوسکتے اور کہتے ہیں کہ میڈیا بک  چکا ہے‘۔  یعنی دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے انسان اپنے گریبان میں جھانک کردیکھے تو اس کا نقطۂ نظر اور طرز عمل دونوں بد ل سکتاہے۔ ایک فحاشہ کی مانند بھرے بازار میں  اپنی عزت و ناموس کے سوداگر صحافیوں  کو عار دلانے کے لیے یہ ایک جملہ   کا فی ہے۔  عمار اختر نے کیا خوب لکھا ’  روزنامہ بھاسکر آج کی صحافت کررہا ہے‘۔   اس سے پتہ چلتا ہے آج کا قاری کیا پڑھنا چاہتا ہے اور اس دور کا صحافتی مطالبہ کیا ہے۔    اس دوران نے بھاسکر نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا وہ بھی قابلِ توجہ ہیں  لیکن یہ کام دیوان خانے میں بیٹھ کر نہیں ہوسکتا ۔ اس کے لیے میدان عمل کی خاک چھاننا پڑتا ہے۔

 

روزنامہ بھاسکر اپنے 30 نامہ نگاروں کو اترپردیش کے 27 ضلعوں کے دورے پر بھیجا ۔ ان لوگوں نے جملہ  1140کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اپنی زمینی رپورٹ مرتب کی۔  اس میں انکشاف کیا گیا کہ اناو میں ریت کے اندر دومقامات پر 900 لاشیں دفن ہیں  اور گنگا میں 2000 لاشوں کو بہایا گیا ہے۔ بھاسکر صرف بی جے پی کے پیچھے نہیں پڑی رہی بلکہ  اس نے راجستھان  کے 8 ضلعوں کا دورہ کرواکے ڈھائی ہزار ویکسین ڈوز کے ضائع ہونے کی خبر دی جبکہ مرکزی حکومت کے مطابق پانچ ماہ میں راجستھان کے اندر11.5 لاکھ ڈوز برباد ہوئے۔  اس نے اتر پردیش کے للت پور ضلع کے 13 گاوں سے خبر دی کہ  وہاں اموات میں غیر معمولی  اضافہ تو ہوا ہے مگر ٹسٹ کی سہولت نہیں ہونے کے سبب کورونا  کا اندراج نہیں ہورہا ہے۔

 

گجرات سرکار کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بتانے میں جھوٹ بول رہی تھی تو اس نے احمدآباد اور جام نگر  کووڈ  اسپتالوں  کے باہر اپنے نامہ نگار تعینات کردی اور صبح سے شام تک لاشوں کی تعداد گن کر سرکار کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اب کوویڈ اسپتال میں مرنے والا تو کورونا کا مریض ہی ہوگا۔ سورت میں شمشان کا دورہ کرواکر تعداد نکال لی ۔  بہار ویکسی نیشن مہم میں8.93  لاکھ فرضی آنکڑوں کا راز فاش کردیا۔ پٹرول ڈیزل میں سرکاری لوٹ کو بے نقاب کیا۔ ساری دنیا   کی نظر میں ہندوستانی اعداو شمار کی وقعت اور ان کے اندازے جو کئی گنا زیادہ تھے پیش کردئیے۔ ان موضضوعات سے پتہ چلتا ہے کہ کیا لکھنے سے سرکار کی نیند اڑتی ہے اور اس کے ہوش ٹھکانے آتے ہیں ۔

 

  پیگاسس کا معاملہ آیا تو بھاسکر نے بتایا کہ2005  میں بی جے  پی کے اندر مودی کے مخالف گوردھن جھڑپیا نےجاسوسی کا الزام لگایا تھا ۔ آگے چل کر کانگریسی موڈواڈیہ ، شکتی سنگھ اور شنکر سنگھ  واگھیلا نے مودی اور شاہ کے خلاف یہی الزام لگائے۔وزیر اعلیٰ  وجئے روپانی اس وقت  بی جے پی گجرات کے سربراہ تھے۔ انہوں نےاس اہانت آمیز اقدام کا جواز پیش کرتے  ہوئے کہا  تھاکہ مرکزی حکومت کو اس کا حق ہے ۔ ایسی غیر مشروط چاپلوسی نے انہیں وزیر اعلیٰ بنادیا۔   وزیر اعظم بن جانے کے بعد 2016میں کیجریوال نے حقوق نسواں کے کمیشن سے مودی جی کے ذریعہ ایک خاتون کی جاسوسی کرنے کی شکایت کی تھی۔   انہوں نے اس سے متعلق ڈیجیٹل ثبوت منسلک کرتے ہوئےلکھا  تھاکہ مودی   جی کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔یہ ایک ایسی خبر  تھی جس نے شاہ جی کے تن بدن میں آگ لگا دی اور   انہوں نے اپنے پیروں پر چھاپہ مار کر کلہاڑی مارلی ۔ اس طرح کام کرنے والے لوگ  دشمن کی ضرورت سے بے نیاز ہو تے ہیں ۔ وہ ایک ایسا بھسما سور بن جاتے ہیں  جو اپنی تباہی کے لیے خود کفیل  ہو ۔ اس معاملے میں  وہ اپنی تباہی کا سامان  فراہم کرنے کے لیے کسی کے محتاج نہیں ہوتے ۔   بقول انور جمال (ترمیم میں معذرت کے ساتھ)؎

 

وہ اچھائی نہیں دیتی ، برائی کھینچ لیتی ہے

سیاست  آپ ہی اپنی تباہی کھینچ لیتی ہے