پولیس ایکشن سے آج تک مظالم، نا انصافی،توہین و تذلیل کا ایک مذموم سلسلہ اور ہماری بے بسی

National

پولیس ایکشن سے آج تک مظالم، نا انصافی،توہین و تذلیل کا ایک مذموم سلسلہ اور ہماری بے بسی

محمد ضیا ء الدین ، پربھنی9822651193

پولس ایکشن گزشتہ صدی کا ایک ناقابل فراموش سانحہ ہے جس  میں حیوانت اور بربریت کو شرمانے والے مظالم کے واقعات ہیں اس میں جہاں ایک طرف اسٹیٹ کانگریس کی  درندگی اور بہیمیت ہے فرقہ پرستوں اور شرپسند ہندووں کے فوج کے ساتھ مل کر کئے مظالم کی داستانیں ہیں  انسانوں کے شیطانی کرتوت ہیں   مسلمانوں کی  حالات حاضرہ سے بے خبری ہے  ان کی قیادت کی بے بصیرتی اور  اندھی  جذباتیت ہے  نظام کے دربار  میں ہونے والی سازشیں  غداری اور  منافقت ہے  قاسم رضوی جیسے ناعاقبت اندیش  قائد ہیں جن کے پاس  کھوکھلی جذباتیت کی فراوانی تھی  تنظیمی فقدان تھا  وہیں  انصاف پسند اور انسانیت رکھنے والے ہندووں کی شرافت اور انسانیت نوازی  کے واقعات بھی ہیں جو امید کی کرن ہیں  پربھنی کے شیل گاوں نامی قصبے کے 88سالہ ریٹایرڈ صدرمدرس قاضی نوازالدین

   نے بتایا کہ پولس ایکشن کے زمانے  میں ان کی عمر دس  بارہ برس کی رہی ہوگی لیکن انھیں یہ ہنگامہ آرائی آج بھی یاد ہے انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر فوج آئی جس کے سامنے گاوں کے کچھ فرقہ پرستوں نے   گاوں کے مسلم طبقے کے کچھ غندہ گرد عناصر سے ان کی پرانی دشمنی کے سبب مسلمانوں کے مظالم کی داستان ملٹری افسروں کے سامنے بین کی جس پر سارے گاوں کے مسلمان مردوں جن میں  دس بارہ برس کے بچے بھی شامل تھے ایک میدان  میں جمع کیا گیا  (اس موقع پر یہ عمل ہر اس بستی  میں کیا جاتاتھا جہاں مسلمان موجود ہوں بتایا جاتاہے بستی کے سارے مسلمانوں کو ایک میدان  میں جمع کرکے ہاتھ اوپر کرکے  گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور کیا جاتا جو کمزوری کے سبب گر پڑتے فوجی ان کو بوٹ سمیت لاتوں سے مار کر کھڑے کرتے )  قاضی نوازالدین کے مطابق گاوں کے ہندو اشرار کی شکایت پر سارے گاوں کے مسلمانوں کو میدان میں کھڑا کردیا گیا  فوجی ان پر بندوقیں تانے فائر کے لیے حکم کے منتظر تھے کہ معا  گاوں کا ایک ذی حیثیت برہمن دوڑتا ہو ا آیا اور اس نے چیخ کر کہا کہ اگر ان کو گولی مارنی ہے تو پہلے  مجھے مارو اور یوں یہ معاملہ  ٹل گیا اور مسلمانوں کی جان بچ گئی  ایسے کئی مقامات تھے جہاں پر مسلمانوں کو ان کے شریف ہندو پڑوسیوں  نے اپنے ہاں پناہ دی اور ان کی جان بچائی لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم تھی یا پھر کچھ اور لوگ ان واقعات کو برا سمجھ رہے تھے لیکن اشرار کی غندہ گردی کے سامنے  مجبور تھے  جبکہ کئی مقامات پر ہندو اشرار مظالم ڈھارہے تھے یا ان مظالم کے تماش بین تھے  ناندیڑ کا باجی راو شیولی ایک ایسا گاوں تھا جہاں مسلمانوں اور ہندووں کے مابین نہایت اچھے تعلقات تھے پھر بھی یہاں جے ہند کے نام پر ہندووں نے مسلمانوں کی دکانیں لوٹنا شروع کی  اور پھر مسلم خواتین سے بدتمیزی کے لیے بڑھنے لگے تو اس گاوں کے بہت سارے مسلمان اپنی عورتوں اور بچوں کو لے کر رات کے اندھیرے  میں ناندیڑ کی سمت چل پڑے زبردست بارش میں بھی یہ لوگ چلتے رہے ان میں بچے بھی تھے بوڑھے بھی تھے  بیمار  بھی اور حاملہ خواتین بھی  اور یہ سب اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے جارہے تھے اس گاوں  میں پندرہ بیس  مسلم خاندان  باقی رہ گئے تھے اس گاوں کے ہندووں نے مسلمانوں کی ساری املاک لوٹ لی تھی حتی کہ گھروں کے پترے بھی لوٹ لیے گئے تھے  یہی نہیں گاوں  میں بچی ہوئی خواتین کی گاوں کے ہندو کئی روز تک عصمت دری کرتے رہے جن میں گاوں کے ادھیڑ عمر کے لوگ بھی شامل تھے جن خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کے شوہر گھروں میں موجود تھے جو اس صدمے سے جانبر نہ ہوسکے ایسی ہی بلکہ اس سے زیادہ گھناونی وارداتیں  ناندیڑ ضل کے مختلف مقامات پر ہوئیں،بیڑ ضلع کے  کیج نامی مقام پر عثمان آباد پرانڈہ سے آنے والے مسلمانوں کو مقامی ہندووں اس لیے پناہ دی کہ ان کو لوٹا جاسکے ان کو فوج کے سامنے لوٹا گیا اور پھر فوج نے انھیں گولیوں سے بھون دیا  کیج کی قاضی  مہذب الدین کی درگاہ کے احاطہ  میں بے شمار لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں بد  میں وہاں کے پولس پٹیل نے ٹھکانے لگادیا ۔

 

بیڑ ضلع کے دھارور میں کئی لوگ قتل کردیئے گئے بچے ہوے لوگوں سے جان بچانے کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا جاتا  مقامی ہندو غنڈے صاحب حیثیت مسلمانوں کو پکڑپکڑ کر ملٹری کے پاس لے جاتے ایک ٹولی رقم کی ادائگی کے بدلے جان بچانے کا یقین دلا کر ان سے ان کا مال لے لیتی اور دوسری ٹولی ان کا قتل کردیتی یوں مسلمان اپنی جان و مال  دونوں سے محروم رہ گئے  دھارور میں غنڈہ گردی مہینوں چلتی رہی اورمقامی غنڈوں نے مسلم خواتین کی آبرو ریزی  بھی کی بقر عید کے روز دھارور کے 33لوگوں کو ہاتھ پیر باندھ کر کاٹ ڈالا گیا  دھارور کے ایک سو اور پناہ لینے کے لیے آے باہر کے پانچ سو لوگوں کو قتل کردیا گیا  ۔آج ہم نہتے مسلمانوں کی ماب لنچنگ کے واقات دیکھ رہے ہیں لیکن یہ دہشتگردی یہ فرقہ پرست عناصر گزشتہ ۰۷ برسوں سے کرتے آرہے ہیں  جو مسلمانوں کو دہشتگرد اور جہادی کہتے ہیں جب کہ اصل دہشتگرد اور انسانیت کے دشمن یہی فرقہ پرست عناصر ہیں آزادی کے بعد ہونے والے تقریبا انتیس ہزار فرقہ وارانہ فسادات میں دیکھا گیا کہ فسادیوں نے پولس کی موجودگی میں مسلمانوں کی املاک کو لوٹا اور بلکہ کئی جگہ خود پولس بھی لوٹنے والوں  میں شامل رہی  نہ صرف یہ بلکہ قتل خون و غارتگری  میں پولس اور فرقہ پرست غنڈے برابر کے شریک رہے ہیں ۔

 

آج نئی نسل کو مظالم کے ان واقعات سے واقف کرانا اور فرقہ پرستوں کی ریشہ دوانیوں سے واقف کرانا اس لیے ضروری ہے کہ آج بھی وہی  حالات درپیش ہیں اور تو اور حکومت  بھی ان ہی غنڈہ عناصر کے   ہاتھوں  میں ہے جو مسلمانوں کی تباہی کے درپئے ہی نہیں بلکہ اس سے سکون بھی پاتے ہیں  تو کیا ہم پھر ان کا شکار  بنں گے کیا ہم ایسے ہی گاجر  مولی کی طرح کٹتے رہیں گے  مجھے حیرت ہے کہ ہماری ملت اتنے بڑے سانحے کو کیسے اتنی آسانی سے فراموش کر گئی ،کیوں اس پر چرچا  نہیں ہوئی کیوں اس کا تجزیہ نہیں کیا گیا  کیوں ایسے واقعات کے تدارک پر غور و خوص نہیں کیا گیا  اور کیا اب بھی جبکہ کشمیر کا مسلمان قید و بند کے شکنجے میں کسا ہوا ہے ان کو اس اذیت سے نجات دلانے کیلیے کچھ کرنا تو دور کی بات ہے کیا کچھ سوچا جارہا ہے؟ جب مسلمانوں کی سیاسی و  مذہبی قیادت ملت کے تحفظ و بقاء کے کام  میں ناکام ہوگئی تو بیدار مغز طلباء و نوجوان میدان عمل  میں آگئے لیکن ان کو بھی ظالم حکومتیں مظالم کا نشانہ  بنا رہی ہیں  مسلمانوں کا ساتھ دینے والوں کو بے بنیاد الزامات  میں جیلوں میں  ٹھونس کر نہ صرف ان کے حوصلے پستکرنے کی کوشش کی  جارہی ہے بلکہ دوسروں کو بھی دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کاساتھ دیں گے  مظالم کے خلاف آوازاٹھائیں گے تو ان کا بھی یہی حشر کردیا جاے گا  وقت کا تقاضہ ہے کہ ملت کا دانشور طبقہ بیدار ہو یہ   صحیع ہے کہ اس سمت کوششیں ہورہی ہیں لیکن یہ کوششیں بہت ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہم کو دوبارہ حالات کا جایزہ لینا ہوگا ہم کو اپنا  احتساب کرنا ہوگا اپنی صفوں میں موجود کالی  بھیڑوں کو باہر نکالنا ہوگا  اپنی ترجیحات طئے کرنی ہوگی اپنیمفادات وانا کے خول کو توڑنا ہوگا تب ہی جاکرہم آنے والے خطرات سے ملت کو محفوظ رکھ  سکتے ہیں ۔