ناقابل رسائی والے علاقوں تک جاری ہے ویکسینیشن کا کام

National
برسات میں ندی بھی نہیں روک پارہی ہے ویکسینیشن ٹیم کا راستہ

ناقابل رسائی والے علاقوں تک جاری ہے ویکسینیشن کا کام

 

برسات میں ندی بھی نہیں روک پارہی ہے ویکسینیشن ٹیم کا راستہ

بتیا، 10 ستمبر: خواہ پہاڑوں کے درمیان آباد گاؤں ہو یا دیارا کا سیلاب زدہ علاقہ۔ محکمہ صحت ہر جگہ تعینات اور چوکس نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوویڈ ویکسینیشن کا کام چنپٹیا ہو یا رام نگر ضلع کے تمام ناقابل رسائی علاقوں میں تیزی سے ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ شہری علاقوں میں کوویڈ ویکسینیشن پر جتنی توجہ دی جا رہی ہے، محکمہ صحت دیہی علاقوں میں ویکسین پہنچانے کے لیے بھی اسی عجلت مگر پائیداری سے کام کر رہا ہے۔

رام نگر کا راستہ چھ ماہ تک بند رہتا ہے:ڈی آئی او ڈاکٹر اودھیش کمار سنگھ نے بتایا کہ رام نگر کے کچھ حصے اونچی پہاڑیوں پر واقع ہیں جس پر لوگ آباد ہیں۔ یہاں کی سڑکیں چھ ماہ بند رہتی ہیں،یہاں پہنچنا بھی بہت مشکل ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی ہمارے ہیلتھ ورکر اور اے این ایم وہاں جا رہے ہیں اور ویکسینیشن کا کام کر رہے ہیں تاکہ لوگ کوویڈ سے بے خوف رہیں۔ یہاں پہلی خوراک کا تقریباً 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہاں کے لوگوں میں بیداری بہت تیزی سے آئی ہے، لوگ ویکسین کا انتظار کرتے ہیں۔ جو تھوڑی بہت غلط فہمی تھی وہ بھی اب لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکی ہیں۔

ویکسینیشن ٹیم ندی کے اس پار پہنچ رہی ہے:ڈی آئی او ڈاکٹر اودھیش کمار سنگھ نے کہا کہ بی ایچ ایم اور اے این ایم چنپٹیا کے نونیواں ٹولہ میں دیارہ علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔ یہ علاقہ کچھ وقت پہلے تک سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ علاقہ بھی برسات کے دنوں میں سال کے تین مہینوں کے لیے بندرہتا ہے۔ اس کے باوجود ہماری ٹیم کشتی سے ندی عبور کر کے وہاں جاتی ہے اور ویکسینیشن کا کام کرتی ہے۔

دونوں خوراکیں ضروری ہیں:ڈی آئی او ڈاکٹر اودھیش کمار نے بتایاکہ کوویڈ ویکسینیشن کی ایک خوراک دوسری کے بغیر ادھوری ہے۔ اگر ہم کووی شیلڈ حاصل کر رہے ہیں، تو 84 دن کے بعد دوسری خوراک 4 مہینوں کے اندر لینی چاہیے۔ تب ہی ہم مکمل طور پر کورونا کو شکست دے پائیں گے۔