ونسٹن چرچل میموریل ٹرسٹ اور قحط بنگال

Education

ونسٹن چرچل میموریل ٹرسٹ اور قحط بنگال

فہیم اختر۔لندن

 

 

            ونسٹن چرچل کے نام سے ہم سب واقف ہیں۔ تقسیم ہند اور اس سے قبل دوسری جنگ ِ عظیم میں برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے نمایاں رول ادا کیا تھا۔خاص کر دوسری جنگِ عظیم میں جب برطانیہ کی کمر تقریباً ٹوٹ چکی تھی اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ جرمنی کے ہٹلر کے جارحانہ جنگ کے آگے برطانیہ سمیت ان کے اتحادیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے گیں۔

 

            لیکن ہٹلر کو آخر کار شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور اس طرح ونسٹن چرچل منہ میں سگار لئے دنیا والوں کو اپنی دو انگلیوں سے فتح کی نشانی دکھاتے ہوئے اخبارات کی سرخیاں بن گئے۔ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ نے فتح تو پالی لیکن دھیرے دھیرے برطانیہ کا کمزور ڈھانچہ اس قابل نہ رہا کہ کہ وہ دنیا کے درجنوں ممالک پر قابض رہے۔اسی بنا پر برطانیہ نے اُن تمام ممالک سے اپنے انگریز حکمرانوں کو واپس بلانے کا اعلان کیااور اس طرح ایک کے بعد ایک ممالک اپنی آزادی کا جشن منانے لگے۔جس میں سب بڑا نام ہندوستان کا تھا۔ تاہم انگریزوں نے اپنی کمزوری کے باعث ہندوستان کا بٹوارہ عجلت میں کر کے ایسی حالت میں ملک کوچھوڑا کہ آج تک وہاں امن و شانتی قائم نہ ہوسکی۔بلکہ اس کے برعکس ہندوستان اور پاکستان میں آج بھی تو تو میں میں چل رہا ہے۔

 

            جمعرات 09/ ستمبر کو ایک خبر ونسٹن چرچل کے حوالے سے شائع ہوئی ہے جس پر اچھی خاصی بحث چھڑی ہوئی ہے۔یہ خبر سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے نام سے ایک فلاحی ادارے اور بنگال قحط کے حوالے سے ہے۔ ونسٹن چرچل میموریل ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو  جولیا ویسٹن نے برہم ہو کر ایک پریس ریلیز میں ونسٹن چرچل کے نسل پرستی کے بارے میں اُن کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ یقین ہے کہ جس آدمی نے اس قوم کو ہماری تاریک گھڑی میں بچایا وہ آج خود کو اس طرح منسوخ پایا‘۔۔جو کہ چرچل کے حامیوں کے لئے ایک دھچکا تھا۔

 

            اس کے علاوہ ونسٹن چرچل میموریل ٹرسٹ نے دوسری جنگِ عظیم کے وقت کے رہنما کی تصاویر کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے اورا س کا نام تبدیل کر کے چرچل فیلو شپ رکھ دیا ہے۔ٹرسٹیوں نے اس کا نام چرچل فیلو شپ رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ونسٹن چرچل میموریل ٹرسٹ کو اپنی ویب سائٹ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے۔اس کے بعد قدامت پسند برطانوی لوگوں نے جولیا ویسٹن پر الزام لگایا کہ وہ  بائیں بازو کا ایجنڈا رکھنے والی خاتون ہیں اور اس پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ جولیا ویسٹن نے ادارے کے نام کی تبدیلی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’کچھ عرصے سے ہم جانتے ہیں کہ ہمارا پچھلا نام الجھا ہو اور تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب فلاحی ادارہ ’عدم مساوات‘ سے نمٹنے اور ماحول کی حفاظت پر زیادہ توجہ دے گا۔

           

            ٹرسٹ کے ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا کہ آج سر ونسٹن چرچل کی زندگی کے پہلوؤں کے بارے میں تنازعہ ہے۔نسل پرستی کے بارے میں ان کے بہت سے خیالات کو آج وسیع پیمانے پر ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو ہم شئیر کرتے ہیں۔ تاہم بہت سارے لوگوں نے برسوں سے سر ونسٹن چرچل پر نسل پرستہ کا الزام لگایا ہے۔ برطانیہ کے نو آبادیاتی ماضی سے ان کے روابطہ کو اجاگر کیا کیا اور یہاں تک کہ ان کا موازنہ ایڈولف ہٹلر سے بھی کیا گیا ہے۔حال ہی میں پارلیمنٹ اسکوائر میں ان کے عالیشان مجسمے کو لندن کے بی ایل ایم(بلیک لائفس موومنٹ) احتجاج کے دوران خراب کر دیا تھا اور جسے وہاں سے ہٹانے کی بھی مانگ کی گئی تھی۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ 2002ء میں بی بی سی کے ایک سروے میں، سر ونسٹن چرچل کو نازی جرمنی کو شلست دینے میں ان کے کردار کے لیے اب تک کا عظیم ترین برطانوی قرار دیا گیا۔تاہم بہت سارے لوگ جو مہم چلا رہے ہیں ان کی جانب سے نسل پرستی کے حوالے سے 1943میں ہندوستان میں بنگال قحط میں مبینہ طور پر غیر فعال ہونے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، جو اُس وقت برطانوی سلطنت کا حصہ تھا۔

 

            چرچل چیریٹی، جو علمی تحقیق کو فنڈ دیتی ہے اور جس کے چئیر مین سر ونسٹن چرچل کے اپنے پوتے جیریمی سومز ہیں۔ اسے اب بھی عطیات اور وصیتوں کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی زیادہ تر آمدنی ان ہزاروں لوگوں کی سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے جنہوں نے پچاس سال قبل چیریٹی کے قیام کے وقت چرچل سے محبت میں ان کی مدد کی تھی۔یہ ٹرسٹ 1965ء میں سر ونسٹن چرچل کی موت کے بعد قائم کیا گیا تھا تا کہ برطانوی شہریوں کو بیرون ملک سفری وظائف پر بھیجنے میں مدد مل سکے۔

 

            تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو چرچل کے بہت سارے بیانات سے نسل پرستی کی بو آتی ہے۔ 1937ء میں انہوں نے کہا کہ انہیں سفید فام آبادکاروں کے ہاتھوں بدسلوکی کے باوجود مقامی امریکیوں یا مقامی آسٹریلوی باشندوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کا دفاع کرتے ہوئے چرچل نے کہا کہ وہ غیر مہذب قبائل کے خلاف زہریلی گیس کے استعمال کے سختی سے حق میں ہیں۔ چرچل جو ہندوستانی آزادی کے سخت مخالف تھے، انہوں نے ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کو ’آدھا ننگا‘ جیسے جملوں سے بھی مخاطب کیا تھا۔

 

            ایک دلچسپ بات ان دنوں میں یہ ہوئی کہ اس مہینے کے شروع میں بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب اسے جزوی طور پر اس کے بارے میں ایک شکایت برقرار رکھنے پر مجبور کیا گیا کہ بنگال قحط کے بارے میں چرچل کا رویہ نسل پرستانہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ چرچل کی حکمرانی سے متعلق تنازعات میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ بنگال کے قحط کو روکنے کے لیے زیادہ فیصلہ کن عمل کر سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے 1943ء میں

ہندوستان میں تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔سابق وزیراعظم چرچل کے خلاف الزام یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستانیوں کو بچانے کے قابل نہیں سمجھا۔ بعض ناقدین چرچل کو بنگال قحط میں تیس لاکھ افراد کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ چرچل پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ بحران کو کم کرنے اور جنگی کوششوں کے لیے بحری جہازوں اور خوراک کے سامان کو محفوظ رکھنے کے لیے بنگال کو نظر انداز کیا۔

 

            جدید ہندوستانی تاریخ میں 1943 کا بنگال قحط واحد واقعہ تھا جو سنگین خشک سالی کے نتیجے میں نہیں ہوا تھا۔ ایک مطالعہ کے مطابق جو دلائل کے لیے سائنسی حمایت فراہم کرتا ہے کہ چرچل دور کی برطانوی پالیسیاں تباہی میں اہم کرادر ادا کی تھی۔تاہم گاندھی نگر کے انڈین انسی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے لیڈر ریسرچر اور ایسو سیٹ پروفیسر ومل مشرا نے کہا کہ یہ ایک انوکھا قحط تھا جو کسی بھی مون سون کی ناکامی کی بجائے پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے ہوا۔ لیکن نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین نے 1981میں دلیل دی کہ اس علاقے کو کھانا کھلانے کے لیے ابھی بھی کافی سامان ہونا چاہیے تھا، اور یہ کہ بڑے پیمانے پر اموات جنگ کے وقت مہنگائی، قیاس آرائیوں کی خریداری اور گھبراہٹ کے ذخیرہ اندوزی کے مجموعے کے طور پر ہوئی۔اس طرح قیمتوں میں اضافہ ہوا جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئیں ا۔

 

            آج بھی سابق وزیر اعظم چرچل کو برطانیہ اور دنیا کو ہٹلر اور نازی ازم سے بچانے میں اپنی جنگ کے وقت کی قیادت کے لیے بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ لیکن وہیں جب ہم چرچل کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے بیانات بھی افسوس ناک ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ہے۔ ہم کسی بھی قسم کی نسل پرستی کو قبول نہیں کر سکتے۔ چرچل میموریل ٹرسٹ کا نام ڈیلیٹ کرنا اور ان کی نسل پرستی کا اعتراف کرنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا نسل پرستی کے سیاہ بادل سے باہر آرہی ہے۔جو کہ ایک امید افزا قدم ہے۔تاہم چرچل جیسے فاشسٹوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ماضی کی داستان بنانا دراصل ہمیں اس بات کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ ہم اب بھی نسل پرستی کی قید سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں۔میں چاہوں گا کہ چرچل جیسے لوگوں کے مجسمے کو ہٹایا جائے اور تاریخ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ آنے والی نسل نسل پرستی سے محفوظ رہ سکیں۔

 

فہیم اختر۔لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com