کیا ہم اپنے مفروضات کے اسیر بن گئے ہیں؟

Education

راہ نما: مبارک کاپڑی

کیا ہم اپنے مفروضات کے اسیر بن گئے ہیں؟

            ہوتا یہ آیا ہے کہ ہمارے اپنے کچھ مفروضات ہوتے ہیں، کچھ پہلے ہی سے رائج ہوتے ہیں اور ہم اُنھیں شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ ہماری تعلیمی، سماجی، معاشرتی، ہر قسم کی پیش رفت کی رُکاوٹ اِن مفروضات کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔

            اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک انتہائی تابناک اور روشن تاریخ کے وارث ہیں اور اس کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے کافریضہ بھی ہم نے احسن طریقہ سے ادا کیا ہے یہ انتہائی احسن کارنامہ انجام دیا ابن خلدون نے۔ یہ تھا ہماری تعلیمی تاریخ کا پس منظر! البتّہ اب اس کا پیش منظر؟ہم مایوس ہرگز نہیں ہیں مگر ہماری پیش رفت کچھ ایسی بھی نہیں ہے کہ جس سے ہم زندگی اور زمانے کی موجودہ رفتار سے ہم آہنگ ہوسکیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے پیدا کردہ مفروضات کے اسیر بن گئے ہیں اور اب یہ مفروضات کچھ اس طرح رائج ہوگئے کہ ہمارے معاشرے کے وہ محاورے وضرب المثل بن گئے۔ آئیے اِن سب کا جائزہ لیں:

 

۱۔  یہ ایک سازش ہے

            ہماری قوم میں سب سے زیادہ مشہور (اور مقبول) محاورہ یہی ہے کیوں کہ ہم مسلمانوں کو ہر بات میں صرف سازش نظر آتی ہے۔ صہیونی سازش، یہودی سازش، اسرائیلی سازش یا سنگھ پریواری سازش، قومی سازش، مغربی سازش، یورپی سازش، عالمی سازش!مسلمان پچھڑے ہوئے ہیں تو یہ ایک سازش ہے۔ تعلیمی میدان میں پیش قدمی نہیں کر پارہے تو یہ بھی ایک ’سازش‘ ہے۔ ہرکوتاہی، محرومی و ناکامی کو ہم اوروں کی سازش قراردے رہے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اعلان کرتے ہیں اور اعتراف بھی کہ ہم بآسانی کسی سازش شکار ہوجاتے ہیں کیوں کہ ہمیشہ سازش رچنے والا، اس کا شکار ہونے والے سے زیادہ قابل ہوتا ہے یا کم از کم چالاک ہوتا ہے۔

            ہمیں اعتراف ہے کہ دولت اور میڈیا کے زور پر عالمی سطح پر مسلمانوں کو اذیّت ناک حد تک ستایا جارہا ہے مگر اس کی سازشوں کا شکار ہم کیوں بن رہے ہیں؟ مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوئی صہیونی سازش ہورہی ہے تو ہم اُتنا ہی مؤثر میڈیا کیوں تیار نہیں کرتے؟ ڈالر، پاؤنڈ اوریوروکوئی طاقت بن گئی ہے تو دینار، درہم اور ریال کوئی طاقت کیوں نہیں بنتے؟ سیکڑوں ڈھروں میں بٹے ہوئے پسماندہ طبقات ریزرویشن کے نام پر ایک ہوجاتے ہیں تو درجنوں دھڑے میں بٹے ہوئے مسلمان اس موضوع پر ایک کیوں بن جاتے؟ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو منظوری اور مالی امداد میں اگر حکومت سازش کر رہی ہے تو ہم سب سے مؤثر معاشی ہتھیار یعنی زکوٰۃ کا استعمال اس کے لیے کیوں نہیں کرتے؟ ہم ابھی تک اس اُلجھن کا شکار کیوں ہیں کہ زکوٰۃ کو حصول تعلیم کے لیے استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟اور پھر وہ تعلیم کون سی ہو؟

 

            آج مسلم ممالک میں بھی مسلمان پلمبر، فِٹر، ہیلپر، آفس بوائے، روم برائے، ان سب کی بہتات ہے مگر کسی اعلیٰ پوزیشن کے لیے ضرورت ہوتی ہے، تب اس کے لیے کسی سبرامنیم اور دکشت ہی کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اب بتائیے کہ ہمارے مسلم ممالک میں کون سازش کر رہا ہے؟ وہاں پر سنگھ پریوارکے پانڈے، جوشی کیسے سرخروہوگئے اور اپنی شرائط پر وہ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ والی ملازمتیں کیسے حاصل کر رہے ہیں؟ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، سائنسی تحقیقات ادارے قائم کرنے سے بھی عرب ممالک کو اسرائیلی سازش نے روکے رکھا ہے؟ برہمنوں کی بستیوں میں ساتویں، آٹھویں جماعت کے بچّوں میں بھی اپنے کرئیر کے تعلق سے سنجیدگی و کمٹمنٹ آجاتا ہے۔ ہماری بستیوں کے نکّڑوں پر ہمارے نوجوانوں کی رَت جگائی بھی یہودی سازش کا نتیجہ ہے؟ کیا یہاں پر بھی سی آئی اسے اور موساد متحرک ہیں؟

 

۲۔  ایسا ہونا چاہئیے

            مسلمانوں کا دوسرا سب سے مرغوب محاورہ ہے ’ایسا ہونا چاہئیے‘۔ محفل درمحفل اور اجلاس دراجلاس منعقد ہورہے ہیں اور صفحات درصفحات سیاہ، جس میں بتایا جارہا ہے کہ ’ایسا ہونا چاہئیے‘۔ مگر اس بات کا قطعی احتساب نہیں ہوتا کہ کیا میں خود وہ کر رہا ہوں؟ مثلاً

 (۱) مسلمانوں میں سب سے زیادہ کہا جانے والا جملہ ہے۔’مسلمانوں کو اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑنا چاہئیے‘۔ (سوچنا یہ چاہیے کہ کیا حق و صداقت کا ایک دھاگہ بھی ہمارے ہاتھ میں ہے؟)

(۲) پھر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں بیداری آنی چاہئیے (یہ کہنے والا احتساب کرے کہ اس کی آنکھ صبح کتنے بجے کھل جاتی ہیں؟)

(۳) ہمیں دوسری قوموں سے مقابلہ کرنا چاہئیے۔ (سوچئے کہ کیا میں کم از کم اپنے بچّوں کو اس لائق بنا رہا ہوں کہ وہ دوسری قوموں کے بچّوں سے بہتر ہوں؟)

(۴) ہمارے گھروں میں بچّوں کی صحیح تربیت ہونی چاہئیے‘(سوچنا یہ کہ کیا میرے اپنے گھر میں بچّوں کی صحیح تربیت کا نظم میں نے بنایا ہے؟)

(۵)ہماری قوم میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیے“ (ہونے چاہئیے،چھوڑ دیجئے، سوچئے کہ کیا میں نے اپنے یہاں ایک آدھ بال واڑی کھولنے میں کچھ مدد کی ہے؟)

(۶) قوم کی تعلیمی ترقی کے لیے ہمیں صرف تن من بلکہ دھن کی بھی قربانی کرنی چاہئیے۔“ (سوچئے کہ کیا آپ نے کسی غریب بستی کی کسی اسکول میں بچّوں کے لیے ایک آدھ چٹائی بھی عنایت کی ہے؟)

(۷) مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہئیے۔“ (سوچئے کہ کیا کم از کم ہم اپنے خاندان یا رشتہ داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے ہیں؟)

(۸)مسلمانوں میں ایک مکمل تعلیمی انقلاب آناچاہئیے“(سوچئے کہ کیا میں نے اپنے محلّے کے نہ سہی کم از کم اپنی بلڈنگ کے دو بچّوں کو اسکول سے ڈراپ آؤٹ ہونے سے بچایاہے؟)

 

            غرض کہ‘ایسا ہونا چاہئیے کہ میں آزادی کے ۵۷/سال گزر گئے کم از کم اب ہماری قوم کو ان جملوں کا استعمال کرنا ہے: ”میں ایسا کروں گا“، ”میں ایسا کرنے جارہا ہوں“،”میں ایسا کر رہا ہوں“۔ کیوں کہ ایک بات طے ہے کہ سوچ و فکر سے عمل کے میدان میں داخل ہونے کی یہ تبدیلی ہی کامیابی کی ضمانت بننے والی ہے۔

            یہ دنیا مکمل نہیں ہے۔ مکمل بن بھی نہیں سکتی۔ہر سماج اور ہر معاشرہ ادھورا ہے۔ ادھورا پن کوئی عیب نہیں البتّہ کوئی معاشرہ جب اپاہج بن جائے، دوڑنا درکنار، چلنا بھی اُسے دشوار ہوجائے اور اُسے بیساکھی کا سہارا لیناپڑے تو اُسے ایک عیب ضرور کہا جائے گا۔ لگ بھگ ہر معاشرے میں البتّہ کچھ مضروضات مسلسل رکاوٹیں بن رہی ہیں کچھ مقولے ہمارے یہاں رائج اور ہمارے دل و دماغ پر حاوی ہوگئے ہیں جو ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔(جاری……)