دیکھو ہم نے کیسے بسر کی

Education

دیکھو ہم نے کیسے بسر کی

فہیم اختر۔لندن

 

            برطانیہ میں اردو جنوبی ایشیائی لوگوں میں وسیع پیمانے پر بولی اور پڑھی جاتی ہے۔یہاں زیادہ تر اردو بولنے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔تاہم اس کے علاوہ ہندوستان، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگ بھی اردو بولتے ہیں۔  ۲۰۰۰ ء میں زبان کے متعلق لندن کے اسکولوں میں ایک سروے کروایا گیا تھا۔ جس میں یہ پایا گیا کہ لندن میں اردو دس سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ تاہم برطانیہ میں اردو چوتھی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔   ۲۰۱۱ء کے مردم شماری کے مطابق ۲۶۹۰۰۰ ہزار لوگ برطانیہ میں اردو زبان بولتے تھے۔

            ’کمیونٹی میں ہم آہنگی‘  کے حوالے سے برطانیہ میں دسمبر  ۲۰۱۶ ء میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیمبرج یونیورسٹی کی پروفیسر وینڈی آئیر بینٹ نے برطانوی لوگوں کو’سماجی ہم آہنگی‘ کو مضبوط بنانے کے لئے دیگر زبانوں کو سیکھنے کا مشورہ دیا۔ خاص کر ان زبانوں کو جن کے بولنے والوں کی تعداد اُن علاقوں میں زیادہ ہے جس سے سماجی ہم آہنگی میں مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت برطانیہ کے مقامی کمیونٹی میں سماجی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔اس کے علاوہ انگریزوں کو بیرونی زبانوں کو سیکھنے کے لئے سہولیات فراہم کرنی چاہئے۔جہاں بھی اردو زبان بولنے والوں کی تعداد کافی ہے وہاں اردو زبان بولنے اور سیکھنے کی آسانیاں فراہم کرنی چاہئے تاکہ اس سے سماجی انضمام کو فروغ ہو۔

 

            اُردو میری مادری زبان ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ اردو زبان نے مجھے ادب، شعور اور سلیقہ سکھایا ہے۔ برطانیہ میں ہزاروں لوگوں کی زبان اردو ہے اوراپنے اپنے طور پر لوگ اردو زبان کے فروغ اور ترقی میں لگے ہوئے بھی ہیں۔ کلکتہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں جب روزگار کے سلسلے میں  ۱۹۹۳ء میں برطانیہ آیا تو مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ اردو زبان بولنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔یوں تو مجھے برطانیہ میں رہتے ہوئے اب اٹھائیس سال ہو چکے ہیں۔ دراصل ۰ ۲۰۰ ؁  میں مجھے پہلی بار اردو تحریک لندن کے عالمی سیمینار اور مشاعرے میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا۔ مجھے اس موقع پر لوگوں سے مل کر اس بات کا اندازہ ہوا کہ برطانیہ میں اردو زبان کی مقبولیت کافی فرو غ پا ررہی ہے۔

 

            جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ برطانیہ میں اُردو بولنے والوں کی تعداد کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار سے زائد ہے تب مجھے اس بات پر حیرت کے ساتھ بے حد مسرت بھی ہوئی۔ مسرت اس بات کی کہ اردو زبان سے لگاؤ رکھنے والوں کی ایک خا صی بڑی تعداد نظر آئی۔ لیکن جو بات قابلِ تشویش محسوس ہوئی وہ تھا نئی نسل کی عدم موجودگی کا المیہ،جو کہ اب بھی زیرِ بحث ہے۔

 

            برطانیہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں مشغول چند ایسی ہستیاں بھی ہیں جو عالمی سطح پر اردو ادب کے منظر نامے میں اپنے اسلوب کے ذریعہ اپنا ایک منفرد مقام بنا رکھا ہے اور ایسی ہستیوں سے نئی نسل بھی کما حقہ واقفیت رکھتی ہے۔ ایسے ہی گراں قدر شخصیت میں جتیندر بلّو کا بھی نام اہم ہے۔ جنہوں نے پچھلے چالیس برسوں سے اردو ناول اور افسانوی مجموعہ کے ذریعہ دنیا بھر میں اپنا اعلیٰ مقام بنا یا ہے۔آپ کی اب تک گیارہ کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔

 

             ہفتہ 03/ستمبر کی صبح رائل میل کے ذریعہ ایک وزن دار لفافہ موصول ہوا۔ موصول ہوئے لفافے کو کھول کر دیکھنے کی جلدی تھی اور جب لفافہ کھولا تو یہ دیکھ کر خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا کہ اس میں جتیندر بلّو کا ایک نہیں بلکہ دو سوانح کولاژ ’دیکھو ہم نے کیسے بسر کی‘ (سوانحی کولاثر) حصہ اول اور دوئم میرے ہاتھوں میں ہے۔سرسری نگاہ سے کتاب پر نظر دوڑانے سے ہی اندازہ ہوا کہ کتاب دلچسپ مضامین سے پرُہے۔ جب اسے الٹ پلٹ کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں کہیں طنز تو کہیں تلخ،تو کہیں بے بسی تو کہیں زمانے کا حالِ زار کوجتیندر بلّو نے خوش اسلوبی سے بیان کیے ہیں۔جب ان کتابوں کا بغور مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جتیندر بلّو نے صاف گوئی سے اپنی زندگی کی ان تمام باتوں کو پیش کیا ہے جسے پڑھ کر قاری کی دلچسپی میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے۔جتیندر بلّو کی خود نوشت ’دیکھو ہم نے کیسے بسر کی‘ کے مطالعے کے بعد اس بات کو کہنے میں مجھے کوئی جھجھک نہیں کہ اردو زبان و ادب میں ایسی خود نوشت کبھی کبھار ہی منظر عام پر آتی ہے۔

 

            ممبئی سے پروفیسر الیاس شوقی ’دیکھو ہم نے کیسے بسر کی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سونح کے تعلق سے یہ خیال عام ہے کہ وہ کسی شخص کی پیدائش سے اس کی موت تک کے واقعات اور حالات کا احاطہ کرتی ہے۔ خودنوشتوں میں بھی یہی رویہ موجود ہے چوں کہ وہ مصنف خود لکھتا ہے اس لیے ابتدا سے اس وقت تک کا تزکرہ ہوتا ہے جب اسے لکھ لیا جاتا ہے۔ بلّو نے اس روایت سے انحراف کرتے ہوئے اسے ایک سانحی کولاژ کا نام دیا ہے‘۔

 

            جتیندر بلّو سے میری پہلی ملاقات بیس برس قبل ہوئی تھی۔ پنجابی رنگ میں رنگے جتیندر بلّو کا لہجہ اب بھی ویسا ہی جیسا انہوں نے اپنے اوائل دور میں پشاور اور دلّی میں پایا تھا۔ ان کی گفتگو بے باک ہوتی اور وہ جب بھی ملتے ایک عام دوست کی طرح پیش آتے۔ مثلاً اکثر فون پر برجستہ کہہ جاتے، فہیم اختر کیسا ہے تو، اور پھر کچھ ہی پل میں ’آپ آج کل کیا لکھ رہے ہیں‘۔چند سال قبل میری ان سے ملاقات  میرے گھر پر ہوئی جب جان ایلیا کی بیوی اور معروف کالم نویس زاہدہ حنا کراچی سے مجھ سے ملنے آئی تھیں۔ جتیندر بلّو حسبِ معمول خاموشی سے ہماری گفتگو سنتے رہے اور کبھی کبھار مسکرا کر کسی بات پر کچھ کہتے یا ’ہاں جی‘ وغیرہ کہہ کر مسکرانے لگتے۔

            دیکھو ہم نے بسر کی! کے مقدمہ میں جتیندر بلّو لکھتے ہیں کہ ’انسان کو روزِ اول سے اپنا اندرون بیان کرنے کے واسطے دوسرے شخص کی ضرورت رہی ہے تاکہ اُس سے مخاطب ہو کر بول چال کے دوران وہ اپنا دُکھ درد یا خواہشات یا خوشیاں بیان کر پائے‘۔ اسی مقدمہ میں جتیندر بلّو مزید لکھتے ہیں کہ اُن دنوں میں دہلی میں مقیم تھا۔ میری عمر بیس بائیس برس کی رہی ہوگی۔ بے کار ہونے کے سبب روزی روٹی کی تلاش میں سڑکوں پر جوروں کے نشان چھوڑا کرتا، جب میں نے خود کو اپنے پہلے عشق میں گرفتار پایا تھا۔ جوان ہونے کے ناتے صنفِ نازک کی آنکھوں میں میری قدر و قیمت بھی خاصی تھی۔ لڑکی اینگلو انڈین تھی۔ نہایے خوبصورت اور اُس کا نام گلینڈا آرم اسٹرونگ تھا۔لیکن اُس کا صرف میں ہی نہیں کئی عاشق تھے۔ وہ اپنے ہر عاشق سے کھُلے دل، چہرے اور مسکراہٹ سے ملا کرتی تھی۔ ہر مخاطب کو یقین دِلایا کرتی تھی کہ اُس کی ذاتی زندگی تم سے شروع ہو کر تم پر ہی ختم ہوتی ہے۔ دیگر تمام پیارے اور مخلص دوست ہیں۔ چوں کہ میں بھی اس اُس کھیل کا مہرہ رہا تھا، جلدی راتوں کی نیند کھو بیٹھا تھا۔ تصور میں گلینڈا کو اپنا شریکِ حیات بنائے ملکوں ملک گھوما کرتا تھا۔ لڑکی ذہین تھی اور بلا کی حد تک تیز تھی۔ اُس کے خاندان کی مالی حالت بس واجبی سی تھی۔ بات چیت کے دوران اُس کی آنکھ ہمیشہ مستقبل پر رہا کرتی۔ انجام کار گلینڈا نے اُس عاشق کو اپنا جیون ساتھی منتخب کیا جس کے والدین صاحبِ ثروت اور صاحب جائیداد تھے‘۔

 

             جتیندر بلّو کی دیکھو ہم نے کیسے بسر کی! کے مطالعے نے دل و ذہن کو ایسا مرغوب کیا کہ ہم نے نہ یک بعد دیگرے مسلسل ورق  گردانی کرتے ہوئے کم و بیش تمام مضامین پڑھ ڈالے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’میرے دادا مول چند لانبہ، صاحب جائیداد تھے اور رؤ سا میں پیش پیش بھی۔ اُن کو انگریزوں نے رائے بہادر کا خطاب اس بنیاد پر نوازا تھا کہ موصوف نے شہر کی اکثریت اور اقلیتی عوام کے درمیان بھائی چارے اور اخوت کے پُلوں کو مضبوط کیا تھا۔ اُس روز ہلکہ ہلکہ بوندا باندی جاری تھی، جب ماں جی کی ارتھی شمشان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں روتا، بلکتا، سسکتا ارتھی کے پیچھے پیچھے اپنے بھائیوں اور رشتے داروں کے ہجوم میں چلا جارہا تھا اور بھائی مجھے سنبھال رہے تھے۔ ہر پل یہی احساس ہورہا تھا کہ میرا سنسار لُٹ گیا ہے اور میں ختم ہوچکا ہوں‘۔

 

            جتیندر بلّو کے سوانحی کولاژ کو پڑھنے کے بعدنہ صرف مہں بلکہ کوئی بھی سنجیدہ قاری یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ جتیندر بلّو کی سوانحی کولاژ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس کا مطالعہ نہ صرف نئی نسل بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے۔ میں جتیندر بلّو کی لمبی عمر اور اچھی صحت کی دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی خوبصورت تحریروں سے ہمیں محظوظ کرتے رہیں گے۔

 

فہیم اختر۔لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com