دہشت گردی کی حقیقت اور دہشت گردی کا فسانہ

National

دہشت گردی کی حقیقت اور دہشت گردی کا فسانہ

ڈاکٹر سلیم خان

موجودہ حکومت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو مار مار کر ہندو فرقہ پرست بنانے میں لگی رہتی  ہے۔ ابھی حال میں اکادمی کاؤنسل کی جانب سے ڈیول ڈگری پروگرام میں تعلیم حاصل کر رہے انجنیئرنگ کے طلبا کے لیے نئے 'انسداد دہشت گردی' کورس کو منظوری ملی ہے۔ جس کے بعد تنازع کا دور شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کو ہوئی اکیڈمک کاؤنسل کے اجلاس میں بھی اس کورس کو منظوری مل گئی ہے۔ یہ متبادل کورس ان طلبا کے لیے ہے، جو جے این یو میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈیول ڈگری کے اپشن کے طور پر منتخب کر سکتے ہیں اور بین الاقومی رشتوں میں مہارت کے ساتھ ای ایس کی تعلیم حاصل کریں گے۔ اس میں طلباء کو یہ پڑھایا جائے گا کہ دہشت گردی سے کیسے نپٹا جائے اور اس میں عالمی طاقتوں کی کیا حصہ داری ہو؟ اس مضمون میں مذہبی دہشت گردی کے مسئلے پر یہ کہا گیا ہے کہ 'جہادی دہشت گردی' ہی 'بنیاد پرست  مذہبی دہشت گردی' کی ایک شکل ہے۔ اس طرح گویا مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ایک فسانہ گھڑنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس دہشت گردی کی حقیقت خود دیش بھکت سرکار کی این آئی اے نے مکیش امبانی کے گھر پر لگائی جانے بارود کی گاڑی کیس میں کھول کر رکھ دی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ۔ ملک کے سب سے بڑے صنعت کار مکیش امبانی کے گھر کے باہر بارود سے بھری گاڑی پر غالب کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎

تھی خبر گرم ریلائنس  کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے پر یہ دھماکہ نہ ہوا

جے این یو کے طلباء کو یہ نہیں پڑھایا جائے گا کہ مکیش امبانی کے گھر کے باہر پائی جانے والی بارود سے بھری گاڑی کی تفتیش کے دوران کون کون سی باتیں سامنے آئیں؟ ۔ حکومت کو چاہیے کہ  اسلامی دہشت گردی جیسی خیالی شئے کا شور مچانے کے بجائے سرکاری ایجنسی این آئی کی رپورٹ یونیورسٹی کے طلباء کو کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔   اس معاملے کو الجھانے کی خاطر یکم مارچ کو جیش الہند نامی ایک تنظیم نے اس کی ذمہ داری لی بٹکوئن کے ذریعہ روپیوں کا مطالبہ کیا ۔  گاڑی میں ملے خط میں لکھا تھا خدا کے فضل سے جس بھائی نے امبانی کے گھر کے باہر ایس یو وی کھڑی کی تھی  وہ صحیح سلامت گھر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تو صرف ایک ٹریلر تھا ۔ بڑی پکچر آنے والی ہے۔ ہم تمہارے سب سے خوفناک خواب ہیں ۔ ہم تمہارے آس پاس موجود ہیں۔ ہم تمہارے آفس میں کام کرتے ہیں ۔ ہم ایک عام آدمی کی طرح تمہارے آس پاس سے گزرتے ہیں۔ ہم ہر جگہ موجود ہیں۔۔ ہمیں تمہارے جیسے کارپوریٹ پراسٹیٹیوٹ سے پرابلم ہے جنہوں نے اپنی آتما بی جے پی اور آر ایس ایس کو بیچ دی ہے۔

 

آگے للکارتے ہوئے لکھا تھا روک سکتے ہو تو روک لو ۔ تم کچھ نہیں کرپائے تھے جب ہم نے تمہاری ناک کے نیچے دہلی میں تمہیں ہِٹ کیا تھا ۔ تم نے موساد کے ساتھ ہاتھ ملایا لیکن کچھ نہیں ہوا ۔ اللہ کے رحم و کرم سے تم بار بار ناکامیاب ہوگے۔ آخر میں لکھا تھا ۔ نیتا بھابی اور مکیش بھابی اور پریوار ۔ اگر آپ  ہماری مانگیں نہیں مانتےتو اگلی بار یہ ایس یو وی آپ کے ’فیٹ کڈس‘ کی کار پر چڑھ جائے گی ، ۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ جو آپ سے کہا گیا ہے وہ رقم آپ ٹرانسفر کردو ۔ اس کے بعد آپ کے فیٹ کڈس خوشی سے جی سکیں گے۔ این آئی  اے کی تفتیش میں پتہ چلا کہ سچن وزے  اس معاملے کو انڈر ورلڈ ڈان داود ابراہیم سے جوڑ کر اہلکاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔  این آئی اے کو   داود کے ساتھی سبھاش سنگھ ٹھاکر پر شک ہے کہ اس کے ذریعہ جیش الہند کے نام سے وہ پیغام بھجوایا گیا۔  ٹھاکر جے جے شوٹ آوٹ کے زمانے میں ممبئی میں تھا مگر فی الحال وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب وارانسی کی جیل  میں  ہے۔ اس کارستانی کے دوران  وہ بی ایچ یو اسپتال میں علاج کے لیے بھرتی تھا۔    ٹھاکر سے کہا گیا کہ وہ دبئی سے پیغام بھجوائے مگر اس نے تہاڑ جیل میں انڈین مجاہدین سے منسلک  شدہ اپنے گرگے  تحسین اختر سے پیغام بھجوا دیا۔  اختر کا نام ۱۳ جولائی ۲۰۱۱ کے ممبئی بم دھماکوں میں شامل  ہے۔

 

پولس کمشنر   پر مبیر سنگھ نے ایک نجی ادارے سے اس کی تحقیق کروائی لیکن اپنے کسی اہلکار کو تہاڑ جیل میں  نہیں بھیجا ۔   یہ پیغام جب عام ہوگیا تو سچن وزے ڈر گیا  کہ کہیں  قومی تفتیشی ایجنسی درمیان میں نہ آجائے  اس لیے ایک دن بعد جیش الہند کی طرف سے تردیدی بیان بھجوایا گیا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  یہ زعفرانی دہشت گردی ہے یا خاکی دہشت گردی ہے؟یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے لیکن  ۲۷ دنوں کی کڑی پوچھ تاچھ کے بعد این آئی اے کو یہ بھی پتہ چلا کہ  سچن وازے جیلیٹن کیس کے بعد  ایک انکاونٹر کا منصوبہ بنا رہا تھا ۔  اس میں کچھ غیر متعلق لوگوں  ماورائے قانون قتل کرکے اس پورے معاملے کو ان کے سر ڈال کر فائل بند کردینے کا ارادہ تھا ۔ اس انکاونٹر کے اورنگ آباد سے ماروتی ایکو کار کو چرالیا گیا تھا۔  این آئی اے کو شبہ ہے کہ اس نکاونٹر میں من سکھ ہرین کو بھی شکار بنایا جاسکتا تھا ۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ دہلی کے  ایک مجرم پیشہ شخص کو بھی اس انکاونٹر میں ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا لیکن اس سے قبل این آئی اے درمیان میں آگئی اور سچن وزے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا ۔ 

 

اب ذرا تصور کریں کہ اگر سچن وازے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوجاتا تو پالتو میڈیا اس معاملے کو کس قدر اچھالتا اور سارے مسلمانوں کو کیسے میڈیا ٹرائل کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ؟  جے این یو مئی ۲۰۱۸ میں بھی اسلامی دہشت گردی سے متعلق کورس شروع کرنے کی شرارت کی گئی تھی۔اس وقت دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے رجسٹرار کو نوٹس جاری کرکے  نئے کورس سے متعلق  جواب طلب کیا تھا ۔کمیشن نے جے این یو انتظامیہ  سے سوال کیا تھا کہ  کیا ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کے بارے میں کورس شروع کرنے سے پہلے کوئی تصوراتی ورقہ (کانسپٹ پیپر) تیار کیا گیا ہے۔ اگر ہاں  تو اس کی کاپی مہیا کی جائے۔ کیا ’’اسلامی دہشت گردی کا موضوع کسی دوسری ہندوستانی یا غیر ملکی یونیورسٹی میں پڑھایا جارہا ہے۔ اگر ہاں تو تفصیلات بتائی جائیں ۔ کورس کے فوکس ،  مصادر ، طریقۂ کار اور ریفرنس کتابوں  سے متعلق استفسار کیا گیا تھا ۔ کیمپس میں، طلبہ پر اور باہر کی سوسائٹی پر ہونے والے اثرات پر غورکرنے کی تلقین کی گئی تھی  اور اکیڈمک کاؤنسل کے ارکان  کی فہرست کے ساتھ ان لوگوں کے نام  مانگے  گئے تھےجن کو اس سے اختلاف تھا ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ  یونیورسٹی نے اپنے تحریری جواب میں اس طرح کا کورس شروع کرنے کی خبر سے انکار کردیا تھا۔

 

تین سال بعد پھر سے  شروع کیے جانے  جہادی دہشت گردی کورس میں اس کو مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سابقہ سوویت یونین اور چین کو ‘ریاستی دہشت گردی کے اہم’ اسپانسر‘ قرار دیا گیا ہےحالانکہ یو اے پی اے اور مکوکا جیسے قوانین کا خود اپنے ملک میں بول بالہ ہے۔ اس کورس کو  یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے باہمی تبادلہ خیال کے بغیر ہی رواں تعلیمی سال سے شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی جو اپنے آپ میں ایک تعلیمی دہشت گردی ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اسے  مخصوص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس مذہب میں دہشت گردی نہیں ہے؟ ہندوؤں میں ہے، سکھوں میں ہے، بودھوں میں ہے، مسیحیوں میں ہےاور یہودیوں میں ہے۔ ہر جگہ اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں۔انہوں نے ہندوتوا    نوازبجرنگ دل اور کرنی سینا جیسے لوگوں کی نشاندہی کی  جو بے گناہ لوگوں کو سر عام قتل کرتی ہیں ۔  آج کل ہر ہفتہ ہجومی تشدد کے واقعات منظر عام پر آتے ہیں ۔ اس میں ملوث لوگ دھڑلے سے ویڈیو بناکر اس کی تشہیر کرتے ہیں اور سرکار ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ اس کھلے عام دہشت گردی کی پردہ پوشی کے لیے جہادی تشددکا شور بپا کیا جاتا ہے لیکن سچن وازے جیسے معاملے میں تو دیش بھکت سرکار کی قومی تفتیشی ایجنسی نے اس کا راز فاش کردیا ۔ اس کا کیا کریں گے؟

(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)