سچن وزے پر دہشت گردی  کا مقدمہ کیوں ؟

Maharashtra

سچن وزے پر دہشت گردی  کا مقدمہ کیوں ؟

ڈاکٹر سلیم خان

مکیش امبانی کے گھراینٹیلیا کے پاس  بارود بھری گاڑی کے معاملے میں مرکزی سرکار کی دوہری دلچسپی ہے۔  اول تو مکیش امبانی مودی سرکار کی ناک کا بال ہے اور اس کو نشانہ بنانے والے نشانہ بنانا حکومت کا فرض عین ہے۔  دوسرے اس معاملے میں مجرم نمبر ایک سابق پولس انسپکٹر سچن وزے بی جے پی کے اولین دشمن شیوسینا کی آنکھوں کا تارہ ہے۔ اس کے ذریعہ  نہ صرف ادھو ٹھاکرے   بلکہ شرد پوار کے چہیتے سابق وزیر داخلہ  انل دیشمکھ کو رسوا کرنے کا نادر موقع مرکزی سرکار کے ہاتھ لگا  ہے اور اس  کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے متوقع دھماکے  کے ساتھ من سکھ ہیرن قتل کیس کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی نے عدالت کے اندر  اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کردی ۔ گزشتہ ماہ 4؍ اگست کو این آئی اے نے عدالت میں یہ چونکانے والا انکشاف کیا تھا کہ  گواہوں کو دھمکیاں مل رہی  ہیں، جس کے سبب بہت سے گواہ خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔ چین اور افغانستان کو    اسلامی دہشت گردی کے مراکز قرار دینے والے ہندوتوا نواز دانشور وں کو پتہ لگانا چاہیے کہ یہ دھمکیاں کہاں  سے آرہی ہیں؟

پچھلے سال 25؍مارچ کو جب  نیشنل انویسٹی گیو ٹیو ایجنسی نے معطل پولیس افسر سچن وازے کی حراست میں 15 دن کے اضافہ کا  مطالبہ کیاتھا تو اس نے خصوصی عدالت سے کہا تھا  کہ اس جرم سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ممبئی میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر وازےنے اس وقت  کہا تھا  کہ وہ  ڈیڑھ دن تک اس کیس کا تفتیشی آفیسر رہا حالانکہ وہ ۱۲ دن کو ڈیڑھ دن کہہ رہا تھا ۔وازے کے مطابق  وہ  خود این آئی اے کے دفتر گیا اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔ این آئی اے کے وکیل ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل انیل سنگھ نے عدالت میں یہ اعتراف کیا انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ ا یک پولیس اہلکار اس جرم میں ملوث ہے۔  سالیسیٹر جنرل اگر سچن وازے کے ماضی سے واقف ہوتے تو انہیں اس پر ذرہ برابر حیرانی نہیں ہوتی۔ یہ وہی وازے ہے جس نے خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کے دن   ہونے والےگھاٹکوپر بم دھماکہ کے الزام میں 23؍ دسمبر 2002  کو گرفتارکیا اور5جنوری  2003  کو  اس کا انکاونٹر کردیاگیا ۔

 

سن 2004 میں ممبئی ہائی کورٹ نے ساتھیوں سمیت  سچن وازے کےخلاف تادیبی تفتیش کا حکم دیا  مگر خواجہ یونس کے قتل کا مقدمہ ٹھنڈے بستے کی نذر ہوگیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ  خواجہ یونس سے متعلق   سی آئی ڈی کی  چارج شیٹ میں  فاسٹ ٹریک عدالت نے 16؍ سال میں  صرف ایک گواہ کی گواہی  لی۔ اس کے بعد  سچن وازے کو16؍ سال کی معطلی کے بعد 13؍جولائی 2020 کو ممبئی ہائی کورٹ کی  اجازت کے بغیر ملازمت پر بحال کرلیا گیا اس طرح عدالت کے حکم کی خلاف وزری بلکہ  توہین کی گئی  ۔  آگے چل کر امبانی کے معاملے میں سچن وازے گرفتار ہوا  اور  29؍ دن کے اندر این آئی  نے اس کو مجرم قرار دے دیا۔   وازے کو بحال کرنے کی غلطی اگر نہیں کی جاتی تو نہ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو استعفیٰ دینا پڑتا اور نہ من سکھ کی جان جاتی ۔ سچن وازے بھی جیل کی سلاخوں کے بجائے اپنے گھر میں عیش کررہا ہوتا  لیکن مشیت الٰہی کو خواجہ یونس کے انکاونٹر کا انتقام جو لینا تھا  ۔   بقول والی آسی؎

وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا

وقت کے پاس کہاں رحم و کرم ہوتا ہے

 

سچن وازے پر اکیلے خواجہ یونس کے انکاونٹر کا الزام نہیں ہے بلکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے 63 ؍ لوگوں ماورائے قانون قتل کیا ہے۔ اس بار این آئی اے نے سچن کے ساتھ ساتھ اس کے گرو پردیپ شرما پر بھی شکنجا کسا ہے۔ پردیپ شرما کو انکاونٹر کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی 35 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں 300؍انکاونٹرس کیے ہیں ۔  اس برائی کو ہمارے سماج میں اچھا سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے شرما کی زندگی  پر مختلف فلمیں بنائی  جاچکی ہیں مثلاً’اب تک چھپن‘، ستیہ اور کمپنی وغیرہ ۔  یہ بات تو سبھی جانتے ہیں   کہ معطلی کے بعد سچن وازے  شیوسینا  میں شامل ہوگیا تھا اور اس کو پارٹی کا ترجمان بھی بنایا  گیالیکن شرما نے بھی  شیوسینا کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی  کا الیکشن لڑنے کی خاطر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔  پردیپ شرما نے سچن وازےکی ملازمت بحال  کرنے کی بہت کوشش بھی  کی تھی ۔ من سکھ ہرین  کے قتل سے پہلے اور بعد میں وہ     سچن وزے اور اس کے ساتھی  ونایک شندے کے ربط میں تھا ۔  کیا اس سرکاری دہشت گردی کو  بنارس ہندو ہونیورسٹی کے نصاب  میں شامل کیا جائے گا؟

 

سچن وازے نے بڑی معصومیت سے عدالت میں کہا تھا کہ وہ تو صرف ڈیڑھ دن کے لیے تفتیش میں ملوث رہا لیکن اس دوران اس نے  جو کچھ کیا  اس  سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے جرم کو چھپانے کی خاطر اس کے ارادے کیا تھے؟ این آئی اے  اگر  درمیان میں نہیں آتی اور  اس کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا موقع  مل جاتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور  نہ جانے کتنے بے گناہ لوگ  ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت  رہے ہوتے اور ممکن ہے اسے جے این یو میں کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھایا جاتا۔ آگے بڑھنے سے پہلے  ان واقعات کو یاد کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو 25 ؍ فروری 2020 کو بارود سے بھری   مشکوک گاڑی کی دریافت کے بعد رونما ہوئے۔      26؍ کو پتہ چلا کہ گاڑی میں کئی نمبر پلیٹ تھیں  اور ڈرائیور نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے نقاب پہن رکھا تھا۔ مکیش امبانی نے ممبئی پولس کا شکریہ ادا کردیا۔5 ؍مارچ کو گاڑی کے مالک  من سکھ ہرین کی لاش ملی  اور بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فردنویس نے این آئی کے ذریعہ تفتیش کا مطالبہ کردیا ۔ اگلے دن ہنس مکھ کی بیوی وملا نے قتل کا الزام لگا دیا  اور معاملہ این آئی اے کے پاس چلا گیا۔

 

14 ؍مارچ 2020 کو شیوسینا کے رکن پارلیمان  اور ترجمان سنجے راوت   نے سچن وا زے کی و کالت کرتے ہوئے اس معاملے میں مرکزی ایجنسی کی ضرورت کومسترد کردیا تھا ۔ ۔نیوزایجنسی اے این آئی سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا  کہ سچن ایک ایماندار اور قابل افسرہیں ۔  ان کو ایک مشکوک کے   معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ ممبئی پولیس نے اس کو  تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی  ۔راوت نے کہاتھا  کہ اس کے لیے کسی مرکزی ٹیم کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں  نے جس افسر کو ایمانداری کے سپاس نامہ سے نوازہ  اس کے پاس این آئی کو کئی لاکھ نقد  اور بنک میں ڈیڑھ کروڈ کا سرمایہ ملا ۔  این آئی اے کے مطابق سچن وزے کو  30 گولیاں دی گئیں ان میں سے 25 غائب تھیں جبکہ اس کے پاس 62 بے نامی گولیاں تھیں۔  این آئی کو یہ بھی پتہ چلا کہ اس نے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں ایک جعلی آدھار کارڈ کی مدد سے 100 دنوں تک کمرہ مختص کرنے کی خاطر 12لاکھ روپیوں کی ادائیگی کی تھی ۔

 

 مہاراشٹر کے اندر اگر مہا وکاس اگھاڑی کے بجائے شیوسینا اور بی جے پی کی حکومت ہوتی تو مرکزی حکومت سنجے راوت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے این آئی اے کو روک دیتی اس لیے کہ اس صورت میں خود اس ریاستی حکومت کی بدنامی ہوتی ۔ ایسے میں اپنے سیاسی فائدے کی خاطر کس طرح ایک خطرناک مجرم بچ نکلتا اور بے قصور لوگ پھنس جاتے لیکن خیر شیوسینا کی دشمنی میں دیش بھکت بی جے پی  نے مرکز سے این آئی اے کو بھیج دیا اور اس طرح یہ سازش ناکام ہوگئی ۔  اس معاملے میں این آئی اے نے200 گواہوں سے تفتیش  اور سی سی ٹی وہ فوٹیج دیکھنے کے بعد ۱۰؍ پولس افسران پر یو اے پی اے کے تحت  الزامات  لگا ئے ہیں۔   اس تفتیش کے مطابق سچن وازے اس سازش کے ہر معاملے میں شریک ہے ۔  وازے  خود گاڑی چلا کر لے گیا اور ہنس مکھ ہرین کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ کیا اس سرکاری دہشت گردی کو بھی جہادی  تشدد سے منسوب کیا جائے گا ۔

 

وطن عزیز میں شمال مشرقی صوبوں کے اندر  ہونے والی دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنا ممکن نہیں ۔ اس کے تحت پچھلے ہفتے ۷ ٹرک چلا دیئے گئے اور پانچ لوگ زندہ جل مرے۔ اسی طرح  نکسل نواز علاقوں میں ہونے والی تشدد کو بھی اسلام سے جوڑنا ناممکن ہے جس میں نکسل   جنگجوابھی حال میں سرکاری اہلکاروں کو مار کر ان کی بندوقیں چھین کر  لے گئے۔ اس سے  ہٹ  اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی دھماکہ ہوجائے تو اسے بلاتکلف و تفتیش  مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی  نہ کوئی نامعلوم  اسلامی تنظیم  اس کے لیے ذمہ دار قرار پاتی ہے اور بہت سارے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا ہے جو برسوں جیل میں رہنے کے بعد  بری کردیئے جاتے ہیں  ۔  اس معاملے پہلا استثناء  مالیگاوں بم بلاسٹ تھا  جس کی ملزم پرگیہ ٹھاکر ایوان پارلیمان کی رکن  ہے اور دوسرا سمجھوتہ ایکسپریس  کا دھماکہ ہے جس  کے8 میں سے صرف 4 ملزمان نابہ کمار سرکار، لوکیش شرما، کمال چوہان اور راجندر چودھری  عدالت نے رہا کردیا ہے  ۔ ان دھماکوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی دسمبر 2007 میں ماراگیا  جبکہ 3 دیگر ملزمان رام چندرا، سندیپ دینگی اور امیت فرار  ہیں۔ ابتدا میں ان دھماکوں کا الزام مسلمانوں  پر لگایا گیا لیکن کئی سال کی تفتیش کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سن  2011 میں ہندو انتہاپسند تنظیموں کے کارکنان کو اس کیس میں نامزد کیا مگر جب مودی جی کو اقتدار نصیب ہوا تو سارے ملزم بری ہوگئے ۔ اس طرح سرکاری سرپرستی میں ملک کے اندر ہندوتوا نواز دہشت گردی پروان چڑھتی ہے اور مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔