ظریفانہ: ’اور بھی ڈر ہیں زمانے میں کورونا کے سوا‘

National

ظریفانہ: ’اور بھی ڈر ہیں زمانے میں کورونا کے سوا‘

ڈاکٹر سلیم خان

کلن یادو نے للن منیار  سے پوچھا کیوں بھائی طبیعت تو ٹھیک ہے؟

للن بولا جی ہاں ابھی تک کورونا نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ٹھیک ہی سمجھو ۔

اوہو للن  کورونا کی وجہ سے باقی بیماریاں تڑی پار تھوڑی نا ہوگئی ہیں ۔ آج کل اور وائرل اور ڈینگو بخار زوروں پر ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس سے کوئی مرتا تھوڑی نا ہے لیکن کورونا  آتا ہے تو  اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے  للن ۔ کورونا کے بھی زیادہ تر مریض آج  کل اچھے ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ۔

ارے کلن بھیا  وہ آپ نے سنا ہے نا’اور بھی ڈر ہیں زمانے میں کورونا کے سوا‘ ۔

جی ہاں وہی تو میں پوچھ رہا تھا کہ آج دھندے پر کیوں نہیں گئے ۔  کہیں کورونا سے تو نہیں ڈر گئے؟

نہیں بھیا ایسی بات نہیں۔  وہ ایسا ہے  کہ  آج کل  چوڑی بیچنے کے لیے آواز لگاو تو لوگ  آدھار کارڈ پوچھتے ہیں ۔

تو اس میں کیا مسئلہ ہے ۔ اپنا آدھار دکھا دو مسئلہ حل ۔

جی نہیں آدھار کا رڈ پر مسلم نام دیکھ کر کہتے ہیں  بھاگو یہاں سے یہ ہندو محلہ ہے۔

ارے بھائی کلن کیا یہ دھمکی دینے والے لوگ چوڑی پہنتے ہیں ؟

جی نہیں وہ تو چوڑی کے بجائے کڑا پہنتے ہیں اور دس لوگ مل کر ایک آدمی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔

اچھا تب تو انہیں چوڑی پہننا چاہیے کیونکہ ایسا تو چوڑی پہننے والی عورتیں بھی نہیں کرتیں ۔

جی ہاں صاحب  چوڑی خریدنے والی عورتوں کوتو  کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر یہ خدائی خدمت گار اپنی بہادری دکھانے کے لیے ہنگامہ کرتے ہیں۔

لیکن للن   ایک آدمی اگر دس  سے لڑے تب تو بہادری ہے لیکن دس لوگوں کا مل کر ایک آدمی پر ٹوٹ پڑنا تو بزدلی ہے۔

لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتے ۔

یہ تمہیں کیسے پتہ ؟ تم نے ان سے پوچھا کیا؟

پوچھا تو نہیں لیکن چونکہ وہ ویڈیو بناکر تشہیر کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ انہیں اس پر فخر ہوتا ہے ورنہ اپنے بزدلی کا پرچار بھلا کون بیوقوف  کرے گا؟

کلن نے پوچھا یہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ ایسی حماقت آخر کیوں کی جاتی ہے؟

ارے بھائی  اگر اس نامردی  پر شاباشی دینے والے موجود ہوں تو کوئی کیوں نہ کرے ؟غلطی حملہ کرنے والوں سے زیادہ  پشت پناہی کرنے والوں کی ہے۔ 

ہاں مگر پولس اور انتظامیہ بھی تو ہے ۔  وہ کیا کرتا ہے؟

وہ کبھی تو خاموش تماشائی بنارہتا ہے کبھی فسادیوں کے ساتھ مل کر ہاتھ صاف کرلیتا ہے۔

ارے بھائی سب ایسے تھوڑی نا ہوتے ہیں۔وردی میں بھی اچھے لوگ  بھی تو ہوتے ہیں ۔

جی ہاں لیکن وہ اپنے آقاوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ۔ اس لیے لوٹ پاٹ  کا مال واپس کرواکر گھر جانے کی تلقین کرتے ہیں ۔   

اچھا تو کیا  وہ بلوائیوں  کو سزا نہیں دلواتے ؟

جی نہیں ان کی نصیحت  ہوتی ہے کہ  بات نہ بڑھاو ۔ چپ چاپ اپنے گھرچلے  جاو ۔

لیکن اگر کوئی ان کی بات نہ مانے تو کیا ہوتا ہے؟تب تو انہیں ایف آئی آر لکھنی ہی  پڑتی ہوگی ؟

جی ہاں مگر پھر اس کے خلاف بھی کوئی نابالغ لڑکی کے ذریعہ چھیڑ خانی کا جھوٹا الزام لگوا دیا جاتا ہے ۔

یار یہ تو حد ہوگئی ۔ کسی بے قصور کو اس طرح پھنسانا سراسر زیادتی ہے لیکن پولس کی بھی تو کچھ ذمہ داری ہے؟

نہیں بھائی ایسے میں پولس اس مظلوم  کو پوسکو جیسے قانون کے تحت  جیل بھیج کر اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی حاصل کرتی  ہے۔

یار یہ تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا معاملہ ہوگیا  لیکن پھر عدالت بھی تو ہے؟

جی ہاں لیکن اگر وہاں بھی آکسیجن چھوڑنے والا جج مل جائے تو سارا کھیل بگڑ جاتاہے۔  

آکسیجن چھوڑنے والا جج نہیں سمجھا !

وہ ایسا ہے جج صاحب  نے فرمایا کہ  گائے کو قومی جانور بنادینا چاہیے ۔

کیوں اس کی کیا وجہ ہے؟

اس لیے کہ گئو ماتا ہے یعنی ماں کے برابر ہے۔

یار کوئی  اپنی ماں کو قومی جانور بنا سکتا ہے؟ یہ توممتا  کی توہین ہے۔

جی ہاں فی الحال بنگالی چیتا قومی جانور ہے اور اس کو ہٹانا ممتا بنرجی کی توہین ہے۔ 

اچھا تب تو چیتے کی جگہ گائے کو  قومی جانور بنانے میں کوئی حرج   نہیں ہے۔

کیوں تمہاری چیتے سے کیا دشمنی ہے ؟

بھائی ایسا ہے کہ  وہ  بھی ممتا کی مانند  بہت خونخوار درندہ ہے اس لیے گائے جیسے بے ضرر مویشی کو قومی جانور بنانا مناسب لگتا ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے  لیکن چیتے کو ہٹانے کی وجہ اس کا خونخوار ہونا نہیں ہے کیونکہ  جج صاحب کے حامی چیتے سے بھی زیادہ خونخوار ہیں۔

اچھا پھر جج صاحب گائے کو قومی جانور کیوں بنانا چاہتے ہیں؟   

ان کو کسی نے کہہ دیا کہ  گئوماتا   سانس میں آکسیجن لے کر آکسیجن ہی چھوڑتی بھی ہے۔

اچھا ! کس بیوقوف نے انہیں یہ بات بتا دی؟

ان کے مطابق  سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے۔

سائنسداں  بھلا یہ سب کیسے کہہ سکتے ہیں؟

ارے بھائی وہ سائنسداں بھی ان کی طرح  آکسیجن چھوڑنے والے ہوں گے  ۔ آج کل ایسے لوگوں کی بہتات ہے۔

یہ پھر آکسیجن چھوڑنے والے! تم کیا کہہ رہے ہو یہ میری سمجھ سے پرے ہے  ۔

بھائی  ایسا ہے کہ آپ  آکسیجن لے کر کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے ہیں۔ اس لیےیہ  آسان سی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے ۔

لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ تو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔

بھائی فرق یہ پڑتا ہے کہ    کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعہ  بدن کی غلاظت نکل جاتی ہے اور دماغ سوچ سمجھ کر  غیر معقول باتوں کو مسترد کرنےلگتا ہے۔  

اور اگر کوئی  آکسیجن چھوڑنے لگے تو  کیا ہوتا ہے؟

اندر کی ساری گندگی اند ر ہی  رہ جاتی ہے ۔ اس لیے وہ   الٹے سیدھے فیصلے صادر کرنے لگتا ہے ۔

اچھا  للن ان پاگلوں کو چھوڑو اور یہ بتاو کہ آخر یہ بلوائی چاہتے کیا ہیں ؟

یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کاروبار صرف  مسلمانوں تک محدود رکھیں  ۔

اچھا تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد بھی تو کم نہیں ہے۔

جی ہاں لیکن آج کل کورونا کی وجہ سے مسلمانوں کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

یار تم بھی کمال کرتے ہو۔ کورونا کوئی آدھار کارڈ دیکھ کر تھوڑی نا حملہ آور ہوتا ہے ۔ وہ تو بلا  تفریق مذہب و ملت لوگوں کا شکار  کرتا ہے ۔

جی ہاں کورونا  تو نہیں کرتا لیکن اس  وباء کے دوران نیتاوں کی حالت تو نہیں بگڑتی  اور بی جے پی والے تو مسلمانوں کو وزیر نہیں بناتے ۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن سرکار دربار  میں منتری سنتری تو بہت تھوڑے سے ہوتے ہیں ۔ باقی ہندو سماج بہت بڑا ہے۔

جی ہاں لیکن سرکاری ملازمین کو بھی تنخواہ مل رہی ہےاور ان دفاتر میں بھی مسلمان نہ کے برابر ہیں ۔

ارے ہاں مگر سرکاری ملازمت بھی دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ آج کل ٹھیکوں کا دور دورہ ہے۔

یہ بھی درست ہے مگر  اور بھی تو حربے ہیں مثلاً مندر کے لیے چندہ جمع کرنا اور اس میں کمیشن نکال لینا ۔ یہ بھی مسلمانوں کے بس کی بات نہیں ۔

اوہو للن اس کمیشن سے کیا ہوتا ہے؟

بہت کچھ ہوتا ہے جہاں 2 کروڈ کی زمین خرید کر مندر کے لیے  18کروڈ میں بیچ دی جائے تو کیا نہیں ہوتا ؟

جی ہاں لیکن ایسے حریص  لوگوں کا پیٹ کا کہاں بھرتا ہے ؟

ارے بھائی اتنا کمانے پر بھی نہ بھرے تب تو جہنم کی آگ ہی ان کا  پیٹ بھر سکتی ہے۔

جی ہاں ان کو چھوڑو ۔ اب ہم لوگ ساتھ میں مل کر شراکت داری میں  کام کریں گے ۔

کیا مطلب میں نہیں سمجھا ؟

یہی کہ تم میرے ساتھ سبزی بیچو اور میں تمہارے ساتھ چوڑی بیچوں گا ۔ اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں ؟

یار یہ تو کمال کا آئیڈیا ہے ۔

جی ہاں لیکن اس  سے پہلے  ہم ان بدمعاشوں  کو چوڑی پہنا کر ان کی بارات نکالیں گے ۔