گلبرگہ دہشت گردی کیس سےعبد الرحمن کی ۱۵ سال بعد رہائی

National

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

گلبرگہ دہشت گردی کیس سےعبد الرحمن کی ۱۵ سال بعد رہائی

ممبئی ۔۸؍ ستمبر ( پریس ریلیز )دہشت گردی کے جھوٹے الزام میںگذشتہ ۱۵؍ سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والا جو گیشوری ممبئی کا بے گناہ نوجوان عبد الرحمن ولد عبد الغفار جسے مارچ ۲۰۰۶ میں گلبرگہ سے اے ۔ٹی ۔ایس نے گرفتار کیا تھا جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب جدو جہد اور کو ششوںکے نتیجہ میںبالآخر سپریم کورٹ نے آج رہا کرنے کا فیصلہ صادرکردیا ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں ناجائز مقدمات میں ماخوذ بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کے لئے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

واضح رہے کہ ملزم محمد عبدالرحمان عرف محمد سمیع شاہ کو مارچ ۲۰۰۶ میں گلبرگہ سے اے ۔ٹی ۔ایس نے گرفتار کیا تھا اور اس پر دہشت گردی اور ملک کے خلاف جنگ وبغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے قبضے سے دھماکہ خیز اشیاء کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھانیز اس کے خلاف تعزیراتِ ہند اور یو اے پی اے کی مختلف ناقابلِ ضمانت اور قابلِ مواخذہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت ابتداء میں گلبرگہ سیشن کورٹ میںہوئی جس نے تقریباً چار سال تک سماعت کے بعدجولائی ۲۰۱۰ میں ملزم کو پانچ  بار عمر قید اور ڈیڑھ لاکھ روپئے جرمانے کی سزا دی تھی ۔سیشن عدالت سے سزا کا تعین ہونے کے بعد ملزم کے والد نے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب سے رابطہ قائم کیا اور اس مقدمے کی قانونی پیروی کی درخواست کی، جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے  سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے سیشن عدالت کے مذکورہ فیصلے کو کر ناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بنچ میں چیلنج کردیا اور اس اس مقدمے کی سماعت کے بعد ۲۰۱۷ میں کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بنچ نے تعزیرات ہند اور دہشت گردی کے تمام الزامات سے بری کردیاتھا اور ۴؍ عمر قید کی سزاء اور ڈیڑھ لاکھ کا جرمانہ بھی معاف کر دیاتھا۔

البتہ گرینڈ اور دھماکہ خیز مادہ ساتھ رکھنے کے الزام میں ایک عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔آج سپریم کورٹ نے اس کی SLP    پر رہائی کا حکم جاری کیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کی پیروی ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان سکریٹری لیگل سیل کی نگرانی میںجناب ایڈوکیٹ سدہارتھ دوے صاحب  ایڈوکیٹ آن رکارڈ فرخ رشید  صاحب کر رہے تھے ۔جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے عبد الرحمن کی رہائی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے ہمارا یہ موقف تھا کہ وہ بے قصور ہے اسے پھنسایا گیا ہے بالآ خر سچائی سب کے سامنے آگئی،اس رہائی کے نتیجہ میں ملزم اور اسکے اہل خانہ کو بڑی راحت حاصل ہوئی ہے ۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسطرح کے فیصلوں سے قانونی لڑائی لڑنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ ہم اپنے وکلاء کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نےعدالت میں بھر پور جد وجہد کرتے ہوئے ملزم کو رہائی دلانے میں ہر ممکن کوشش کی۔