جمعیۃ علماءلیگل ٹیم کےاہم قانونی نکات پر سپریم کورٹ کی مہر شولاپور کے 4؍ بے گناہ نوجوانوں کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

National

جمعیۃ علماءلیگل ٹیم کےاہم قانونی نکات پر سپریم کورٹ کی مہر

شولاپور کے 4؍ بے گناہ نوجوانوں کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

         جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کا میاب پیروی ،یہ صداقت اور سچائی کی جیت ہے : مولانا ندیم صدیقی
ممبئی : 7؍ ستمبر ( پریس ریلیز ) دہشت گردی ،ملک کے خلاف بغاوت اورمبینہ طور پر سیمی سے تعلق رکھنے کے الزامات میں شو لا پور مہا راشٹرسےگرفتار کئے گئے4؍مسلم نو جوانوں کو آج عدالت عالیہ سپریم کورٹ نے جمعیۃ علماء لیگل ٹیم کے اہم قانونی نکات پر مہر لگاتے ہوئے فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ کافیصلہ آنے کے بعد شو لا پور کے چاروں نوجوان صادق لنجے ،عمیر ڈنڈوتی ،عرفان مچھالے ، اسماعیل ماشالکر اور انکے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی اور خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ادا کیا کہ انہیں اذیت ناک سزاء سے نجات ملی۔مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صداقت اور سچائی کی جیت ہے انشاء اللہ اسی طرح دیگرمقدمات میں گرفتار نو جوان بھی عدالتوں سے رہا ہو نگے ۔

 
واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۱۳ء؁ میں شولا پو مہا راشٹر سے پا نچ ۵؍مسلم نو جو انوںکو دہشت گردی، ممنو عہ تنظیم سیمی سے تعلق، پولیس پر فائرنگ ، اور جیل سے فرار ہو نے میں مدد ، اور غیر قانونی ہتھیا ر وغیر ہ جیسے کئی سنگین معاملات کے تحت مدھیہ پر دیش اے ٹی ایس نے گر فتا ر کیا تھا ۔ اور ان پر آ ئی پی سی ، یو اے پی اے ، اور آرم ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا  تھا ۔ ان نو جوانوں پر اسپیشل سیشن کیس 541/2014,جوکہ یو اے پی اے10,13,16,18,38,39, تعزیرات ہند کی دفعہ 307 اور دھماکہ خیز مادہ دفعہ 4,5,6, کے تحت چارج لگائے گئے تھے۔

گرفتاری کے فوری بعد ان کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء مہا راشٹر سے رابطہ کیا تھا ،اسی وقت سے جمعیۃ علماء اس کیس کی پیروی کررہی ہے ،دفاع کا یہ موقف تھا کہ ان پر یواے پی اے کی دفعات غیر ضروری طور پر لگائی گئی ہیں ،اور این آئی اے ایکٹ کے جو ضابطے ہیں اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔اور 2014 میں پہلی بار دفاع نے یہ مدعا اٹھایا کہ مجسٹریٹ کورٹ کو قطعی کوئی اختیار نہیں ہےکہ وہ ریمانڈ یا چارج شیٹ کی Cognizance    لے سکے ۔بہرحال Default Bail   CJM    بھوپال خصوصی سیشن عدالت ،اور پھرمدھیہ پردیش کے جبل پور ہائی کورٹ تک گئی جہاں ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کے موقف کو جبل پور ہائی کورٹ نے کچھ حد اعتراف کیا کہ یہ ضابطے کے خلاف ہے لیکن غیر قانونی نہیں ہے ۔مسلسل سات سال کی کاوشوں کے بعد بالآخر سپریم کورٹ آف انڈیا نے دفاع کی جا نب سے اٹھائے گئے قانونی نکاۃ کو صحیح ٹھہراتے ہوئے ان چاروں ملز مین کو ضمانت پرجیل سے رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ہمیں اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ اگر یہ فیصلہ پہلے آیا ہوتا تو بھوپال میں۸؍ نوجوانوں کا انکاونٹر نہ ہوا ہوتا ۔

عدالت عالیہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پرحضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہندنے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اپنی نا کا میوں کو چھپانے کے لئے محض شک اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر نو جوانوں کو گر فتار کرکے ان کی زندگیاںتباہ کرتی ہیں ایسے آفیسران کے خلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے تاکہ مزید نوجوانوں کی زندگیاں تباہی سے بچ سکیں۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں کئی اہم مقدمات پر اثر انداز ہوگا ،سپریم کورٹ میں اس کیس کی پیروی ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان سکریٹری لیگل سیل کی نگرانی میںجناب ایڈوکیٹ راجو صاحب ایڈوکیٹ آن رکارڈ فرخ رشید صاحب، ایڈوکیٹ ابو بکر سباق سبحانی صاحب ،ایڈوکیٹ عشرت علی خان صاحب کر رہے تھے۔