اے این ایم دیپ شیکھا انفیکشن کو روکنے کے لیے لوگوں کو آگاہ کر رہی ہے

National

اے این ایم دیپ شیکھا انفیکشن کو روکنے کے لیے لوگوں کو آگاہ کر رہی ہے

ویکسینیشن کے ساتھ کوویڈ پروٹوکال میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت

ارریہ، 07 ستمبر:سیشن کے مقامات پر جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ کورونا ویکسینیشن کے بارے میں پہلے سے زیادہ باخبر اور سنجیدہ ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل ضلع میں جہاں ایک دن میں 15 سے 17 ہزار افراد کو ویکسین دی جاتی تھی۔ ضلع میں گزشتہ دو دنوں سے چلائی جانے والی خصوصی مہم کے دوران لوگوں کے غیر متوقع ہجوم ویکسینیشن کے لیے مراکز پر جمع ہو رہے ہیں۔ ایک دن میں 60 سے 70 ہزار افراد کو ویکسین دینا ممکن ہورہا ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام میں ویکسین کی افادیت اور یقین مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مگر انفیکشن کے چند کیس روزانہ سامنے آرہے ہیں۔ اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکٹی بلاک کے تحت برداہا پنچایت کے سبکدوش مکھیا محمد پرویز کا کہنا ہے کہ ہم کورونا ویکسین لے رہے ہیں۔ لیکن ہم نے انفیکشن کے خطرات کو روکنے کے لیے ضروری عملی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ جو نہ صرف پریشان کن ہے بلکہ ممکنہ خطرات کو بھی دعوت دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدشات درست ہیں۔ ویکسینیشن مہم کو تقویت دینے کے ساتھ وہ اس سے متعلقہ عملی پہلوؤں سے بھی لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سکٹی پی ایچ سی میں کام کرنے والی اے این ایم دیپ شیکھا کی کوشش اس معاملے میں قابل ذکر ہے۔

لوگ ویکسینیشن کی اہمیت سمجھ چکے ہیں:کورونا دور کے آغاز سے اے این ایم دیپ شیکھا بلاک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو صحت کی ضروری سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو اس وقت علاقے میں چلائی جانے والی ویکسینیشن مہم کی کامیابی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ باقاعدہ سیشن کا انعقاد اس کے روز مرہ کے معمول کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ دیپ شیکھا کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کے لیے مختلف سطحوں پر کی جانے والی مہم کا اثر یہ ہے کہ لوگ اب ویکسینیشن کے حوالے سے پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہو گئے ہیں۔ سیشن کے انعقاد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد سیشن کے مقامات پر لوگوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیا ہے۔ جو کورونا انفیکشن کو روکنے کی مہم کے لیے اہم ہے۔

لوگوں کو عملی پہلوؤں سے آگاہ کرتی ہے: جو لوگ سیشن سائٹس پر ویکسین لینے آرہے ہیں، وہ کم ہی ماسک پہنے ہوتے ہیں۔ ہجوم میں جسمانی دوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ باقاعدہ وقفوں سے ہاتھوں کی صفائی کے لیے غیر ذمہ دار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ ان عملی چیزوں کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ میں ویکسینیشن کے لیے آنے والے لوگوں کو مشورہ دیتی ہوں کہ وہ   ماسک پہنیں، اگر ماسک نہیں ہے تو چہرے کو کسی صاف کپڑے سے ڈھانپیں۔ گھر واپس آنے کے فوراً بعد اپنے ہاتھوں کی صفائی صابن اور پانی سے کریں، میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ مذکورہ باتوں کو اپنی باقاعدہ عادت کا حصہ بنائیں۔