کسانوں کا اتحادبمقابلہ  بی جے پی کا انتشار

National

کسانوں کا اتحادبمقابلہ  بی جے پی کا انتشار

ڈاکٹر سلیم خان

اتر پردیش کے کسانوں نے دس ماہ بعد وہ کر دکھایا جو مودی اور یوگی کے خواب و خیال میں نہیں تھا۔ ایک ایسے دور میں جبکہ دس گھنٹوں تک احتجاج کرنا بھی لوگوں پر گراں گذرتا ہے کسی تحریک کا دس ماہ کے بعد بھی میدانِ عمل ڈٹے رہنا غیر معمولی صبر واستقامت کا ثبوت ہے۔سرکار  نے پہلے تو کسانوں کو ڈرایا دھمکایا۔ اس کے بعد ان پر طاقت کا بیجا استعمال کیا۔ اپنے آدمی بھیج کر ان سےتشدد  کروایا یہاں تک کہ لال قلعہ پر سکھ پرچم نشان صاحب لہرا کر انہیں بدنام کرنے کی مذموم کوشش  کی ۔ کسانوں کوخالصتانی بناکر قوم دشمن قرار دے دیا مگر کسان اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ یہ سارے حربے ناکام ہوگئے تو انہیں نظر انداز کرکے تھکانے کا منصوبہ بنایا گیا  ۔ سرکار کو توقع تھی کہ  یہ کسان قلفی  بنا دینے والی سردی سے ہار جائیں گےیا پاپڑ کردینے والی گرمی میں بھاگ جائیں گے لیکن انہوں نے تو برسات کو بھی مات دے دی ۔   اس کے برعکس حوصلہ منددہقانوں نے مظفر نگر میں ایک ایسا تاریخ ساز اجتماع کرکے دکھادیا کہ جس نے حکومت کے ہوش اڑا دئیے۔  

اس اجتماع کا وقت اور مقام دو نوں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔  مقام اس لیے کہ 2003میں مظفر نگر میں فساد بھڑکا کر بی جے پی نے مغربی اتر پردیش میں اپنے قدم جمائے اور اس نفرت کی آگ کو پورے صوبے میں پھیلا کر پہلے قومی انتخاب میں اور پھر ریاستی الیکشن میں اپنی کامیابی کا  پرچم لہرایا  لیکن اب کسانوں نے ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ لگا کر  اسی شہر سے محبت کا پیغام دے دیا۔  وقت اس لیے اہم ہے کہ اتر پردیش کے ریاستی انتخابات بالکل سر پر ہیں اور یوگی سرکار کی کمر پر لات مارنے کا اس سے اچھا موقع نہیں ہوسکتا ہے ۔ مظفر نگر میں کسانوں نے 20 لاکھ لوگوں کا اجتماع منعقد کرکے پورے سنگھ پریوار کے سامنے ایک چیلنج کھڑا کیا ہے کہ وہ اپنے سارے وسائل اور میڈیا کو استعمال کرکے وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب وارانسی میں 2 لاکھ لوگوں کو جمع کرکے دکھائے اور یہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم بی جے پی کے اندر جاری مہا بھارت کو ختم کردے ۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرے ۔ 

اترپردیش کے صوبائی انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں بی جے پی کی خانہ جنگی میں تیزی سے اضافہ  ہورہا ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی نے اترپردیش کا پچھلا انتخاب یوگی ادیتیہ ناتھ کے نام پر نہیں لڑا تھا بلکہ نتائج کے آنے تک وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں  ان کا نام و نشان تک  نہیں تھا ۔  آگے چل کر تقدیر سے  ان کی لاٹری لگ گئی اور وہ وزیر اعلیٰ بن گئے لیکن اس میں سب سے بڑادھوکہ  کیشو پرساد موریہ کے ساتھ  ہوا جو وزیر اعلیٰ بننے کے اصلی حقدار  تھے۔ پچھلے انتخاب کے وقت کیشو پرشاد موریہ اترپردیش بی جے پی اکائی کے صدر تھے ۔ ریاست بھرمیں لگنے والے پوسٹرس پر مودی اور شاہ کے ساتھ موریہ کی تصویر دکھائی دیتی تھی۔ مودی جی نے اپنے آپ کو پسماندہ طبقات کا نمائندہ بناکر پیش کیا تھا ۔ موریہ کا تعلق  چونکہ  پسماندہ ذاتوں سےہے اس لیے بجا طور پران   طبقات کے لوگ   بی جے پی کے جھانسے میں آگئے  اور بی جے پی کو خوب زور و شور سے ووٹ دے کر کامیاب کردیا۔انہیں  توقع تھی کہ   موریہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے لیکن راجناتھ کو سیاسی بساط پر  ٹھکانے لگانے کی خاطر یوگی ادیتیہ ناتھ کو لایا گیا ۔

 یوگی جی کو پتہ تھا کہ ان کا سب سے بڑا حریف کیشو پرساد موریہ ہے  اس لیے ان  کو قابو میں رکھنے کے لیے طرح طرح سے  رسوا کیا گیا  ۔ اس کی تازہ ترین مثال پریاگ راج کورٹ میں کیشو پرساد موریہ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری  کے الزامات والا مفاد عامہ کا مقدمہ   ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پریاگ راج محترمہ نمرتا سنگھ   کی عدالت  میں  ۱۱؍ اگست کو  کیشو پرساد موریہ کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ پیش ہوا  تو انہوں نے  ضابطہ فوجداری کے دفعہ 156 (3) کے تحت دائر کنٹونمنٹ ، پریاگ راج کے اسٹیشن انچارج کو درخواست پر  ابتدائی تحقیقات کرنے کی ہدایت دےدی ۔ ان  احکامات  کے تحت موریہ کی  ہندی ساہتیہ سمیلن ، پریاگراج کے  ذریعہ جاری کردہ مدھیامک ڈگری کی صداقت  کو جانچ کر رپورٹ دینے کے لیے کہا گیا  تھا۔  مدعی کے مطابق اس ڈگری کو ریاستی حکومت یا کسی بورڈ نے تسلیم نہیں کیا ہے ویسے ان کی تواریخ میں بھی  اختلاف ہے اس لیے معاملہ  مزید مشکوک ہوجاتا ہے۔ موریہ چونکہ آر ایس ایس  کی شاکھا سے تربیت یافتہ ہیں اس لیے سنگھ کا چال ،چرتر اور چہرہ بھی سامنے آجاتا ہے۔   

اس معاملے میں درخواست گزار دیواکر ترپاٹھی نے موریہ پر جعلی ڈگریوں  کو۵؍ انتخابات میں مسلسل  استعمال کر  نے کا  فوجداری مقدمہ درج کروا  یا ہے۔ ترپاٹھی  نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے جعلی اسکول سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پٹرول پمپ حاصل کیایعنی سیدھے سیدھے بدعنوانی کا معاملہ  بنتا ہے۔ اس معاملے میں سازش کی بو آتی ہے کیونکہ  یوگی کے خلاف انتخاب لڑنے کا اعلان کرنے  والے سابق سرکاری افسر سوریہ پرتاپ سنگھ کے خلاف ایک سال میں ۶؍ عدد ایف آئی آر درج ہوجاتی ہیں ۔ امیتابھ ٹھاکر کو تو گرفتار کرلیا جاتا ہے مگر موریہ کے خلاف مقدمہ کرنے والے بی جے پی کے رہنما دیواکر ترپاٹھی کا بال بیکا نہیں ہوتا ؟ یہ کیا بات ہےکہ ترپاٹھی  سے یوگی انتظامیہ ڈر  جاتاہے ؟ اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا؟؟  یوگی راج کی اندھیر نگری میں اعظم خان اور ان کی اہلیہ کو تو بیٹے کے جعلی سرٹیفکیٹ  کی سزا دی جاتی ہے جبکہ یہاں تو خود نائب وزیر اعلیٰ پر سنگین الزامات ہیں  لیکن تاریخ پر تاریخ  پڑتی ہے  مگر جسٹس  نمرتا  سنگھ  فیصلہ سنانے کی جرأت نہیں کرپاتیں  ۔  

یو پی میں وزارت داخلہ خود وزیر اعلیٰ یوگی کے پاس ہے اس لیے سرکار نے موریہ کی جو  تحقیقی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی ہےوہ  موریہ کے سر پر  لٹکتی تلوار کی مانند ہے ۔ اس کی مدد سے  یوگی دہلی میں براجمان امیت شاہ کو بھی بلیک میل کرسکتے ہیں۔  ویسے بی جے پی کی یہ  مہا بھارت اب واقعی ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ پچھلے ساڑھے چار سالوں میں  یوگی نے  اپنی رعونت اور نااہلی کے سبب ارکان اسمبلی  کی اکثریت کو ناراض کرکے اپنے سے دور کردیا ہے اور موریہ ان کو اپنے سے قریب کرتے چلے گئے ہیں ۔  آج یہ صورتحال  ہے کہ اترپردیش قانون ساز  اسمبلی میں بیشتر  ارکان  یوگی کے بجائے کیشو پرشاد کے ساتھ ہے۔ یوگی کے سر سے مرکز کا سایہ بھی  اٹھ چکا ہے اس تناظر میں کیشو پرساد موریہ کے حالیہ انٹرویو کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔   کیشو پرساد نے اے بی پی پر کہا  کہ اگلا وزیر اعلیٰ مرکزکے نگراں کی موجودگی میں منتخب ارکان اسمبلی طے کریں گے ۔ اس جملے میں  دونوں باتیں یوگی کے خلاف  جاتی ہیں کیونکہ اول تو   ارکان اسمبلی کی واضح اکثریت یوگی کی  مخالف ہے اور  دوسرے مرکز کے نگراں پر دھونس جماکر خود کو وزیر اعلیٰ بنائے رکھنا  ان کے لیے ناممکن ہے۔

کیشو پرساد موریہ نے جو دوسری بات کہی وہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی  ۵۵ فیصد پسماندہ آبادی  کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔  وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ سرکار پر  نام نہاد اعلیٰ ذات  کا ٹھپاّ لگا ہوا ہے۔ اس میں کہنے کو براہمن ، بنیا اور ٹھاکر کا بول بالا ہے لیکن حقیقت میں  صرف اور صرف ٹھاکروں کی چلتی ہے ۔ فی الحال  براہمن اور بنیا بھی حاشیے پر لگا دیئے گئے ہیں ۔ اتر پر دیش بی جے پی اکائی کے کرمی صدر سوتنتر دیو سنگھ کی ملائم سنگھ یادو سے ملاقات  کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بی جے پی کو اب یہ فکر ستانے لگی ہے کہ اگر پھر سے  یہ پسمادہ طبقات جھانسے میں نہیں آئے تو  دوبارہ اقتدار میں آنا ممکن نہیں  ہے۔ اسی لیے سوتنتر دیو سنگھ نے اوم پرکاش    راج بھر کو اپنے  گھر بلایا اور پچھلے دنوں  خود یوگی  کو تقریباً سوا چار سال حکومت  کرنے کے بعد اپنے پڑوسی کیشو پرشاد موریہ کے گھر جانے کا خیال آیا لیکن اب شاید بہت دیر ہوچکی ہے۔

یوگی کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کےلیے فرقہ واریت کا واحد   نسخۂ           کیمیا ہے۔  ایسے میں  زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے  کسان رہنما  راکیش ٹکیت کا سرسا میں بی جے پی  کو ملک  کی سب سے خطرناک  پارٹی قرار دینا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے بعد ٹکیت ایک خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا   اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل کسی بڑے ہندو لیڈر کا قتل کیا جا سکتا ہے، تاکہ ہندو، مسلم کرکے انتخابات میں جیت درج کرائی جاسکے۔ اس بیان کی روشنی میں اگر غور ہونا  چاہیے کہ انتخاب جیتنے کی خاطر  بی جے پی کس کو بلی کا بکرا بناسکتی ہےاور یہ مذموم حرکت کس کے اشارے پر ہوسکتی ہے۔ قومی سیاست کے اندر اس خطرناک رحجان کو نظر انداز کرنے کے دور رس نتائج مرتب ہوسکتے  ہیں ۔ ٹکیت نے  یہ بھی کہا کہ جن لیڈروں نے بی جے پی بنائی تھی ان کو موجودہ رہنما وں نے  گھروں میں قید کرکے رکھاہواہے۔ اس بات کی سچائی سے انکار کرنا بھی  ناممکن ہے۔  اتر پردیش میں ایک جانب کسان  رہنما ہندو اور مسلمان عوام کو بی جے پی کے خلاف متحد کررہے ہیں اور دوسری جانب  زعفرانی بھیڑئیے ایک دوسرے کے لہو سے اپنی  پیاس بجھا رہے ہیں ۔ اس اتحاد اور انتشار کے کھیل  کا آئندہ اسمبلی انتخاب پر کیا اثر پڑے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن  اس میں شک نہیں کہ مظفر نگر کی کسان مہاپنچایت نے  اقتدار کے نشے میں چور  یوگی ادیتیہ ناتھ  کی نیند ضرور اڑادی ہوگی۔

(۰۰۰۰۰جاری)