غوثیہ سلطانہ نوری کی خدمات ناقابلِ فراموش:رونق جمال

National

غوثیہ سلطانہ نوری کی خدمات ناقابلِ فراموش:رونق جمال

 

امریکہ شکاگو میں مقیم حیدرآباد کی معروف خاتون ادیبہ غوثیہ سلطانہ نوری کے اعزاز میں

 

بین الاقوامی آن لائن کانفرنس و عالمی مشاعرہ منعقد

سولاپور(رپورٹ غلام ثاقب) گذشتہ 40 برسوں سے امریکہ کے شکاگو اسٹیٹ میں مقیم خاتون شاعر و ادیبہ غوثیہ سلطانہ نوری جن کا آبائی وطن و جائے پیدائش حیدر آباد دکن ہے ان کے اعزاز میں 23 اگست 2021 کو ایک عظیم الشان آن لائن بین الاقوامی کانفرنس اور عالمی مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کی صدارت سینئر شاعر و ادیب امین سولنکی آرزو راجستھانی نے فرمائی۔ اس پروگرام کا انعقاد مہاراشٹر کی موقر ادبی انجمن بھارتیہ اردو وکاس فاو ¿نڈیشن سولاپور نے بہ اشتراک ادب اسلامی بیڑ، بزم شمع فروزاں ممبئی اور بزم اردو بیڑ عمل میں لایا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں چھتیس گڑھ اردواکادی کے چئیرمن نواب رونق جمال درگ چھتیس گڑھ ، عالمی شہرت کے حامل شاعر و ادیب نوشاد نوری کے فرزند ہیکل ہاشمی ڈھاکہ بنگلہ ،ڈاکٹر نزھت شاہ نیو یارک، محقق ادیب و شاعر ڈاکٹر شبیر اقبال دھولیہ، ہندوستان کے مو ¿قر روزنامہ اودھ نامہ کے ایڈیٹر موسی رضا ، ایشیا ایکسپریس اورنگ آباد کے ادبی ایڈیٹر اظہر فاضل جالنہ ،معروف شاعرہ و ادیبہ نزھت شاہ نیویارک ، نامور محقق شاعر و ادیب ریاض توحیدی کشمیر ، مراٹھواڑہ کے مو ¿قر ادیب محمد ارشد صدیقی ودیگر نے غوثیہ سلطانہ نوری کی چالیس سالہ ادبی خدمات ان کی شخصیت اور اردو دوستی پر مقالے اور آراءپیش کیں۔نواب رونق جمال نے کہا کہ غوثیہ سلطانہ نوری صاحبہ کی زبان بیان اس قدر فکر انگیز ہوتا ہے کہ ہر باران کی تقریر و تحریر سے کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔اردو زبان اور ادب کو لیکر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ان کا کام کافی وسیع ہے اور سراہنے لائق ہے۔انہوں نے سبھی کو بین الاقوامی سطح پر ساتھ لیااور کام کررہی ہیں ۔ غوثیہ نوری صاحبہ نے انڈیا، پاک، بنگلہ دیش ممالک کے علاوہ لندن،فرانس، شکاگو ،نیویارک اور دیگر مغربی ریاستوں تک اردو کی آواز پہنچائی۔نیویارک سے ڈاکٹر نزھت شاہ نے کہا کہ غوثیہ آپی سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔غوثیہ نوری صاحبہ اتنا اچھا کہتی اور لکھتی ہیں کہ کاش ہم بھی ان جیسا لکھ پائیں۔بنگلہ دیش ڈھاکہ کے ادیب ہیکل ہاشمی نے کہاکہ یہ سلطان اختر کی ادبی کرامت ہے کہ دنیاکے دو الگ الگ گوشوں سے ادیب حضرات آن لائن کانفرنس کررہے ہیں۔غوثیہ سلطانہ نوری اپنے آپ میں ایک انجمن ایک ادارہ ہیں تاعمر انہوں نے ادب اور اردو کے لئے کام کیا ہے جسے آئندہ نسلیں یاد رکھیںگی۔ڈاکٹر شبیر اقبال نے کہا کہ غوثیہ نوری دیارغیر میں بھی اردو زبان و ادب کی شمعیں روشن کررہی ہیں۔ان کی شاعری ان کی بے پناہ قابلیت پیش کرتیہے اور عالم اردو میں ان کی خدمات قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ندیم مرزا نے کہا کہ غوثیہ سلطانہ نوری مغرب سے روشن ہوکر مشرق کو سنوارنے والے آفتاب کی مانند ہیں۔کشمیر کے موقر و مقبول ادیب ریاض توحیدی نے اپنے خوبصورت الفاظ میں غوثیہ سلطانہ نوری کی شخصیت کو ایک بہترین ادیبہ اور ایک نیک انسان سے تعبیر کیا۔بیڑ مہاراشٹر کے ادیب و شاعر غلام ثاقب نے کہا کہ غوثیہ سلطانہ ایک سچے محب اردو شیدائے زبان و ادب ہی نہیں بلکہ ایک دردمنددل رکھنے والی ہمدرد انسان ہیں جنہیں حیدرآباد دکن اور اردو زبان وادب سے بے پناہ محبت ہے۔وطن ثانی میں بھی وہ اپنی مٹی اپنی تہذیب اور جڑوں سے جڑ ی ہوئی ہیں۔نامور ادیب و شاعر محمد ارشد صدیقی نے کہا کہ غوثیہ سلطانہ نوری نے اپنے فن کی روشنی کو مغرب سے مشرق سے پھیلا دیا ہے۔ان کی کتابیں ، ان کی تحریریں اور ان کی آواز ادبی حلقوںمیں ہمیشہ زندہ تابندہ رہیں گی۔

ابتدا ءمیں ملت انگلش اسکول بیڑ کی طالبہ جنت فاطمہ بنت غلام ثاقب نے تلاوت قرآن پاک سے کانفرس کا آغاز کیا۔ کانفرنس کے آرگنائزر و بھارتیہ اردو وکاس فاو ¿نڈیشن سولاپور کے صدر سلطان اختر نے ابتدائیہ، تعارفی کلمات اور تمام شرکاءومہمانان کا فرداً فرداًاستقبالیہ پیش کیا۔

بین الاقوامی کانفرنس کے بعد عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ جس میں ہزار نعتیں لکھنے والی صاحب دیوان شاعرہ ہاشمی نسرین سحر نے خوبصورت لحن میں نعتیہ کلام پیش کرکے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ان کی نعت کا شعر ہے:

سارے نبیوں کے ہیں سلطان رسول عربی

دوجہاں آپ پر قربان رسول عربی

نوجوان شاعر انجینئر رضوان ناتھاپوری نے خوبصورت قطعات اور غزل پیش کرکے مشاعرے میں سبھی معززین کی داد وصول کی۔شعر ملاحظہ کیجئے:

تیری تعریفوں میں میں نے ایسا لکھ ڈالا

خود کو پیتل اور تجھ کو سونا لکھ ڈالا

سل گئے لب اور دل میں خامشی ہوگئی

روٹھے تم توآنسوں سے دوستی ہوگئی

اس کے بعد استاد شاعر اور روحانی شخصیت ندیم مرزا (رموزی شاہ صاحب) نے بہترین تثلیثات اور سلگتی ہوئی غزل سے حالات حاضرہ اور سماج کے بکھرتے شیرازے پر اپنے قیمتی اشعار پیش کئے۔ ان کے کلام و انداز کو بہت پسند کیا گیا۔ان کی تثلیث سبھی سامعین کی محورِ نگاہ رہی :

اس کے قدموں تلے جنت ہے وہ حقدار مگر

لمحہ لمحہ وہ زہر پیتا رہا جیتا رہا

باپ بوڑھا ہی سہی سب کا قرضدار مگر

ان کا شعر پیش خدمت ہے:

اشک بن کر مری پلکوں پہ ٹھہر جاتا ہے

یاد جلتا ہوا جب کوئی شہر آتا ہے

خواب دیکھوں تو نگاہوں میں سنور جاتا ہے

یاد جلتا ہواجب کوئی شہر آتا ہے

مترنم اور خوش گلوشاعرہ نسرین سحر نے غوثیہ سلطانہ نوری پر اپنی شاندار نظم مترنم انداز میں پیش کرکے داد و تحسین وصول کی۔اس خوبصورت نظم کا بند پیش ہے:

آفریں گلزارِ اردو کی بہاراں آفریں

اے وقارِ قوم!ملت کی مہرباں آفریں

میر کی غزلوں کی رعنائی کی تم ہو داستاں

مومن وخیام کے شعروں کا ہو دلکش بیاں

رشک کرتی ہے فلک پہ تم سے نوری کہکشاں

آفریں اے روکشِ خورشیدِ تاباں آفریں

 کرناٹک کے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر مومن بیجاپوری نے ترنم میں بہترین غزل پیش کی اور سامعین کا دل موہ لیا۔ان کی غزل کے خوبصورت اشعار پیش ہیں:

اپنا تو مجھ کو بنا اے زندگی

اپنے سینے سے لگا اے زندگی

موت بھی یہ دیکھ کر سہم جائے

شور ایسا تو مچا اے زندگی

غمزدہ ہوں پھر بھی مسکراتا ہوں

دیکھ مرا حوصلہ اے زندگی

 یو پی م کے معروف و معتبر استاد شاعر مولانا انصار قاسمی نے بہت خوبصورت انداز میں غوثیہ سلطانہ نوری پر اپنا مترنم کلام پیش کرکے مشاعرے کو بلندی پر پہنچا دیا۔ملاحظہ کیجئے ایک بند:

وہ شخصیت جنہوںنے پائی عزت پوری دنیا میں

جنہوں نے دیکھی اپنی خوب شہرت پوری دنیا میں

سمیٹی دونوں ہاتھوں سے محبت پوری دنیا میں

ملی ہے اتنی آخر کس کو رفعت پوری دنیا میں

 مراٹھواڑہ کے معروف و مقبول ادیب و شاعر و افسانچہ نگار ارشد صدیقی نے اپنی خوبصورت اور نئی غزل پیش کرکے مہمانان اور شعراء سے خوب داد وصول کی۔

یہ کیا دیوانگی ہے اے خدا کیا ہوگیا مجھ کو

نہ احساسِ تنزل نہ فکر ارتقا مجھ کو

جبین دار پر چمکے گا صدیوں تک لہو میرا

اگر لے جائے گا مقتل میں ظالم بے خطا مجھ کو

چمن کی رونقوں سے اس لئے میں دو ر ہوں ارشد

کہ دیوانے دلا دیتے ہیں احساسِ فنا مجھ کو

 کانفرنس و عالمی مشاعرے کے ناظم غلام ثاقب نے اپنی نظم خیال و جمال صاحب اعزاز خاتون ا داد و تحسین حاصل کی۔

اخلاق کی پیکر ہیں اردو کی ہیں شیدائی

تتلی کا تبسم ہیں پھولوں کی وہ رعنائی

تہذیب و تمدن کی راہ جس نے ہے دکھلائی

امریکہ کی ہر شام بھی اردو سے ہے مہکائی

وہ غوثیہ سلطانہ ہیں اور نوری ان کانام

تازندگی کیا ہے یوں اردو کا جس نے کام

نعت رسول پاک سے ہوتی ہے صبح و شام

اردو کی نئی نسل کی رہبر ہیں خوش مقام

معروف و معتبر شاعری کے علمبردار رو ¿ف صادق ممبئی ، عالمی شہرت کے حامل استاد شاعر افتخار راغب دوحہ قطر، خوبصورت لب و لہجے کی مالک ،مشہورشاعرہ شاذ ملک فرانس نے اپنی شرکت بڑے ہی دلکش انداز میں درج کرائی۔ نیویارک میں اردو کی خدمات انجام دینے والی اعلی اخلاق کی حامل ادیبہ و شاعرہ ڈاکٹر نزھت شاہ نے خوبصورت آواز میں غزل پیش کی۔

آج گھر ہم نے چمن جیسا بنا رکھا ہے

پھول کلیوں سے ہر اک گوشہ سجا رکھا ہے

تتلیوں نے آج رنگ جمانے کے لئے

جگنوں کو تری خاطر ہی بلا رکھا ہے

 صاحب اعزاز ادیبہ غوثیہ سلطانہ نوری نے تمام مہمانان اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور امریکہ میں رہ کر بھی اردو اور حیدر آباد دکن سے محبت ک ذکر کیا۔ انہوں نے کہا وطن ثانی میں اپنی تہذیب اپنی زبان اپنی مٹی اپنے لوگ بہت یاد آتے ہیں۔امریکہ میں اردو کو جینا اہم ہے ۔اپنی تہذیب و ثقافتی امانت کو سنبھالنا ایک عظیم کام ہے۔یہ سب علم طئے کرتا ہے کہ کیا کہنا ہے اور طرز عمل طئے کرتا ہے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پوری زندگی انہوں نے کوشش کی ہے۔ انہوں تمام مقالہ خواں اور آرگنائزر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ وہ اس محفل کو کبھی فراموش نہیں کرینگی۔انہوں نے سراپا ممنون و مشکور ہوتے ہوئے کہا کہ ان کی ڈکشنری میں تمام کا شکریہ اداکرنے کے لئے الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔غوثیہ سلطانہ نوری نے اپنا کلا م سناتے ہوئے تانیثی احساس کی ترجمان غزل پیش کی اور ذیل کے اشعار سنائے:

مٹامٹا سا ہے مرے وجود کا سایہ

وجود درد کا تری لگن میں زندہ ہے

وہ ایک علم کا بھنڈار ہے تمہارے پاس

تمام عزمِ سفر ترے تن میں زندہ ہے

میں زندگی کے تجربہ کدے میں ہوں نوری

مری کتاب بھی مرے کچن میں زندہ ہے

اور پروگرام و مشاعرے کے صدر آرزو لکھنوی نے بہت خوبیوں کے ساتھ استادانہ کلام پیش کیا اور ہر ہر شعر پر سامعین و شرکا کی داد و تحسین وصول کی۔اپنی دلکش غزل پیش کرتے ہوئے ذیل کے اشعار سامعین کی نذر کئے :

اگر قاصد کے ہاتھوں یہ خبر آئی تو کیا ہوگا

کہ اس نے کی مرے خط کی پذیرائی تو کیا ہوگا

تیری باتوں میں آکر میں نے توبہ کرتو لی لیکن

کبھی اس شوخ نے پھر زلف بکھرائی تو کیا ہوگا

وقت کے ساتھ کبھی زخم نہیں بھرتے ہیں

شدت درد میں ہاں کچھ کمی آجاتی ہے

میں نے مانا نفرتوں کی آندھیوں کا زو ر ہے

اک محبت کا دیا پھر سے جلا کر دیکھ لو

جو بیٹھے ہیںگھروں میں قسمت کے بھروسے پر

پھر کسی صورت اس گھر کی پریشانی نہیں جاتی

 انہوں نے بہت ہی شاندار طریقے سے صدارت کی ذمہ داری نبھائی۔ اخیر میں پروگرام کے آرگنائزر سلطان اختر سولاپور نے ہدیہ تشکر پیش کیا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔دیگر مہمانان میں ڈاکٹر جاوید حسین شارب پالوجی ممبئی، بلقیس جمال صدر بزم شمع فروزاں ممبئی، ڈاکٹر عقیلہ غوث بی سی یو ڈی چئیر من بامو یونیورسٹی ، ڈاکٹر شوکت اللہ حسینی صدر شعبہ فزکس ملیہ سینئر کالج بیڑ،ڈاکٹر زبیر حسینی پرنسپل کے ایس کے فوڈ ٹیکنالوجی کالج بیڑ، علیم الدین علیم، جاوید پاشاہ روزنامہ اعتماد و روزنامہ رہبر ، سراج احمد خان آرزو روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز، رئیس خان پٹھان روزنامہ ایشیا ایکسپریس و روزنامہ تہلکہ ٹائمز ، شیخ مختار کنٹریکٹر بیڑ،عمیر سلیم سر سرپرست ملت گروپ آف اسکولس،بیڑ، آفرین زاہد حسین پرنسپل ملت انگلش اسکول ،زاہد حسین سرصدرمدرس ملت پرائمر ی اسکول بیڑ ، بلبھیم کالج بیڑ شعبہ اردو کی لکچرر ادیبہ تسنیم ودیگر نے پروگرام میں شریک رہ کر پروگرام کے وقار میں اضافہ کیا۔