عمر خالد کا مقدمہ اوراختلاف رائے کے اظہار کی آزادی

National

عمر خالد کا مقدمہ اوراختلاف رائے کے اظہار کی آزادی

ڈاکٹر سلیم خان

ڈاکٹر عمر خالد کی گرفتاری کو 20  دن بعد ایک سال ہوجائے گا۔ یواے اپی اےقانون کی دفعات  کے تحت گرفتار کیے جانے والے عمر خالد پر پولیس نے الزام لگایا تھا  کہ شہریت قانون(سی اےاے) اوراین آرسی کے خلاف مظاہروں میں شامل عمر خالد اور دیگر نے دہلی میں فسادات کی سازش کی تاکہ دنیا میں مودی سرکار کی شبیہ بگاڑی  جا سکے۔ اس کے برعکس  سماجی کارکنان ،ماہرین تعلیم اور وکلاء  نے اس  بےبنیادالزام پر گرفتاری کی مذمت کی تھی  اور خالد کو ‘ملک کے آئینی ا قدار  کی حفاظت کرنے والی نوجوان آواز’قرار دیتے ہوئے  کہا تھا کہ یہ پرامن  سی اے اے مخالف مظاہرین کو پھنسا نے کی سازش ہے۔ امسال 15؍ اپریل کو فساد کی ایف آئی آر پر ان کو دہلی کڑوکڈوما کورٹ نے ضمانت دے دی مگر وہ یو اے پی اے کے سبب  وہ رہا نہیں ہوسکے ۔ فی الحال  ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں ان کی ضمانت زیر سماعت ہے جس میں یہ بات بتائی گئی کہ ایک مسخ شدہ ویڈیو کی بنیاد پر عمر خالد کو پھنسایا گیا وہ تھی اور اسے بی جے پی کے امیت مالویہ  نے نشر کیا  تھا نیز ذرائع ابلاغ نے بغیر جانچ کے پھیلادیا ۔ اس بابت  شواہد کے بیانات بھی مختلف ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والی دہلی پولس نے اختلاف رائے پر قدغن لگانے کی خاطر یہ مذموم  حرکت کی۔ اختلاف رائے کی  آزادی یعنی (Dissent) کے مفہوم کی بابت  عام طور پر انتہا پسندی  پائی  جاتی ہے ۔ کچھ لوگ اس  کومعمولی اختلاف سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے اور کچھ لوگ اسے غداری (Sedition)  کے زمرے میں ڈال کر قابلِ گردن زدنی  جرم بنادیتے ہیں  جبکہ یہ ایک درمیان کی چیز ہے۔  لغت کے مطابق اس کا مطلب ہے    کسی موضوع پر رائے میں شدید اختلاف ۔   خاص طور پر کوئی سرکاری ہدایت  یا منصوبہ یا معروف عقیدے  سے شدت کے ساتھ  ناراضی یا بیزاری  ۔ اس میں سرکار دربار سے اختلاف میں شدت کے عناصر اہم ہیں۔   اس کا ہم معنی لفظ عدم اتفاق ہے اور اس کی ضد رضامندی  ہے یعنی کسی  خیال ، منصوبے یا گزارش کی   باضابطہ  تائید و حمایت۔    اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بغاوت و غداری تو نہیں ہے لیکن ایسا اختلاف ہے کہ جسے کسی صورت برداشت کرنے کی گنجائش نہ  ہو۔  یہی وہ صورتحال ہے جس میں فرد احتجاج کرتاہے یا اجتماعیت  مظاہرےکی خاطر سڑکوں پر اترتی ہے۔

ویسے تو یہ ایک فطری چیز مگر اس کے باوجود اس پر فکری اور عملی میدان میں   پہلے تو  اعتراض ہوتا ہے اور پھر دھونس ، دھمکی بلکہ تعذیب تک   کی نوبت آجاتی ہے۔  اس بابت سوال یہ  ہےکہ اعتراض  اور آگے کا سلسلہ   کس کی جانب سے  اور کیوں  سامنے آتا ہے؟  یہ رویہ عام طور پر    حکمراں طبقہ  کا ہوتاہے ۔ وہ اس کو برداشت نہیں کرپاتا اور اسے کچلنے کی خاطر مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتاہے۔  اس  سوال کا دوسرا پہلو زیادہ اہم  ہے کہ آخر  ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟  اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ اول تو اقتدار کے سبب ان کے اندر ایک تفاخر یا گھمنڈ گھر کرلیتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنے حقیر سمجھتے ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں  ان  کی ہر بات کو بلا چوں و چرا تسلیم کرلیا جائے گا۔  یہ چیز ان کے اندر عدم برداشت کا مزاج پیدا کرتی ہے۔  وہ اپنے اوپر ہونے والے  اعتراض کو اپنی توہین سمجھ کر معترض سے  انتقام لینا چاہتے ہیں یا اس کو سبق سکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ کسی فردِ خاص یا قوم کے تئیں ان کے دل میں  پائی جانے والی نفرت و یا کینہ پروری بھی  رعونت پسند مغرور  حکمراں  کو  اس فعل پر آمادہ کرتی ہے۔  سیاسی مفاد بھی ان سے یہ سب کرواتا ہے ۔ کسی مخصوص قوم کو بدنام کرکے یا دشمن قرار دے کر  اس کو سزادینا اور اپنے حامیوں کی خوشنودی حاصل کرلینا بھی اس کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ جمہوریت اور انتہا پسند  قوم پرستی کا ایک  اشتعال انگیز مرکب  فسطائیت  ہے ۔اس میں  اپنی قوم کے خلاف ایک کمزور اقلیت کو نہایت خطرناک  دشمن بناکر پیش کیا  جاتا ہے۔  اس کو بدنام کرنے کی خاطر من گھڑت کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ ماضی کے حوالے سے اس کی ایک ظالمانہ شبیہ بنائی جاتی  ہے۔  سارے قومی مسائل کو اس سے منسوب کردیا جاتا ہے۔ہندوستان کے تناظر میں مسلمانوں  کی بابت  یہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے ان کے آباو اجداد نے سومنات کے مندر کو لوٹا اور رام مندر کو توڑ کر وہاں بابری مسجد تعمیر کردی ۔ انتقام کی آگ بھڑکا کر مسجد کو شہید کردیا جاتا ہے اور اس  کو احسان عظیم  کے طور پر پیش کرکے اپنے ہمنواوں سے اس کے عوض  ووٹ   حاصل کرکے  حکومت سازی کی جاتی ہے۔

گائے کو بے وجہ کا تقدس عطا کرنے کے  بعد      مسلمانوں کو گئو کشی کا مجرم بناکر پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح ہجومی تشدد کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے۔ گئو رکشا کی آڑ میں ایک طرف تو  گائے کی تجارت کرنے والوں سے غیر قانونی خراج  وصول کیا جاتا ہے  اور دوسری طرف گئو شالہ کے نام سرکاری زمینوں پر قبضہ کرلیا جاتا ہے۔ دودھ نہ دینے والی گایوں کی دیکھ بھال کے لیے سرکار سے روپیہ لے کر اپنا پیٹ بھرا جاتا ہے۔  کبھی گھر واپسی کا شوشہ چھیڑا جاتا ہے۔ اس میں ناکامی ہوتی ہے زبردستی تبدیلیٔ  مذہب کا الزام لگا کر    مولانا عمر گوتم جیسے لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔  لو  جہاد کا واویلا مچا کر  ہندووں کے دل میں مسلمانوں کا ڈر پیدا کیا جاتا ہے اور خود  کو ان کا محافظ یا نجات دہندہ  بناکر پیش کیا جاتا ہے تاکہ انتخابی سیاست چمکائی جائے ۔

  جمہوری نظام میں چونکہ حکمراں کو بار بار انتخاب جیتنا پڑتا ہے اس لیےایسا کرکےحکومت   اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے۔   یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ2001 میں  گجرات کے اندر کیشو بھائی پٹیل کی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی تھی ۔ بھوج کے زلزلے سے پیدا ہونے مسائل  نے اس کو غیر مقبول کردیا تھا ۔ اسی لیے نریندر مودی کو وزیر اعلیٰ بنایا  گیا ۔ سابرمتی ایکسپریس کے ڈبوں میں آگ لگی اور ایودھیا سے آنے والے رام بھکت اس میں ہلاک ہوگئے تو اس کی آڑ میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکا کر  وزیر اعلیٰ سرکاری ناکامیوں کی جانب سے توجہ ہٹا نے میں کامیاب ہوگئے اور انتخاب جیت لیا۔ پلوامہ اور سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعہ رافیل کی بدعنوانی کو ڈھانپ دیا گیا۔گجرات میں جس طرح  سہراب اور نصرت جہاں  انکاونٹر کا فائدہ اٹھایا گیا اسی طرح   یلغار پریشد کو وزیر اعظم کی جان کا دشمن بناکر مخالف نظریات کے حامل دانشوروں کو جیل کی سلاخ کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا۔ کورونا کے زمانے میں مہاجر مزدوروں کی جانب سے دھیان ہٹانے کی    خاطر تبلیغی جماعت   کا ہواّ کھڑا کرکے عوام کو گمراہ کیا گیا۔  

جابرومغرور حکمرانوں کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی نافرمانی کے آگے سپر ڈال دیا جائے تو یہ ایک عام بغاوت کی شکل اختیار کرلے گی ۔عوام کے اندران  شخصیت کا بھرم ٹوٹ جائے گا اور قیادت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔   اس کے نتیجے میں الیکشن کے اندر شکست فاش سے دوچار ہونا پڑ ے گا ۔  کسان تحریک کے ساتھ یہی ہورہا ہے ۔حکومت نے غلطی کا احساس کرلینے کے باوجود اس کو اپنی  انا کا مسئلہ بنالیا ہے۔ کسان تحریک کے اختلاف رائے کو پہلے تو بزور قوت دبانے کی کوشش کی گئی ۔ اس سے بات نہیں بنی تو   بدنام کرنے کی سعی کی   گئی ۔ اس میں بھی ناکام ہوگئے تو اب تھکاکر بھگانے کی سازش  رچی گئی  ہے۔ اختلاف رائے کو بے اثر کرنے کا یہ بھی ایک حربہ ہے۔  ویسے ان لوگوں کے خواب و خیال میں یہ بات نہیں رہی ہوگی کہ یوم جمہوریہ سے پہلے شروع ہونے والا مظاہرہ  یوم آزادی سے آگے بڑھ جائے گا۔ اس وقت جب کسان رہنما کہتے تھے کہ ہم مہینوں کی تیاری سے آئے ہیں تولوگوں کو  عجیب لگتا تھا مگر انہوں نے اپنے عزم و استقلال سے  ثابت کردیا  ہے کہ  یہ کوئی ’انتخابی جملہ‘ نہیں تھا  جس کو کہہ کر بھلا دیا جاتا۔  

بدعنوان اور ظالم حکمرانوں کو اور بھی  کئی مسائل لاحق ہوتے ہیں۔مثلاً  اقتدار میں آنے  کے بعد وہ سرکاری خرچ پر  عیش و عشرت کے عادی ہوجاتے ہیں۔  جو وزیر اعظم تنہا اپنے خدمتگاروں کے ساتھ پورے جہاز میں سفر کرتا ہو اسے عام جہاز میں دیگر مسافروں کے ساتھ بیٹھنا  کیسا لگے گا یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔  ان کو  بے حد  خاص مراعات  کے   چھن جا نے کا اندیشہ  ہر صورت میں  کرسی سے چپکے رہنے پر مجبور کرتا ہے اور مخالفین کو کچلنے پر اکساتا  ہے۔   وزیر اعظم کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی خطاب عام میں شرکت کے لیے جاتے ہیں تو دس ہزار لوگ ان کی حفاظت پر تعینات ہوتے ہیں کل اگر یہ تعداد گھٹ کر دس پر پہنچ جائے تو وہ اپنے آپ کو کتنا غیر محفوظ کریں گے اس کا تصور کرکے دیکھیں تو ان کی مجبوری سمجھ میں آجائے گی ۔  اقتدار کے دوران یہ لوگ جن پر مظالم کرتے ہیں ان کے حکومت میں  آجانے پر انتقام کا امکان بھی پریشان کن  ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کی شاندار کوٹھی کے بعد جیل  کی کال کوٹھری میں  جانے کے تصور بھی روح فرساں  ہوتا ہے ۔   رافیل کی بدعنوانی میں  ملوث لوگوں کے لیے اس کا قوی امکان   پیدا ہوجاتاہے۔ اس لیے  معقول ترین اختلاف رائے کو بھی   برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ آہنی آہنی ہتھوڑے سے  کچل دیا جاتا ہے۔   

حکمرانوں کی دو اقسام ہیں ایک تو وہ  کہ جو کسی نے کسی نظریہ کے حامل ہوتے ہیں اور علمی اعتراض کا جواب دینے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ فکری اختلافات سے پریشان نہیں ہوتے بلکہ افہام و تفہیم کے ذریعہ اپنے مخالف کو زیر کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ دوسرا طبقہ اس صلاحیت سے محروم  لوگوں کا ہوتا ہے  ۔  وہ لوگ  ہر وقت گالی گلوچ اور مارپیٹ پر آمادہ رہتے ہیں ۔  سنگھ پریوار ویسے تو ایک نظریاتی تحریک ہے لیکن اس کا نظریہ کتابوں کی حد تک ہی  ٹھیک ہے کیونکہ انہیں ایک خاص طبقہ پڑھتا ہے اور اس کا گرویدہ بھی ہوجاتا ہے ۔ عمل کی دنیا میں سنگھ کے نظریات کی بنیاد پر کوئی جماعت انتخاب نہیں جیت سکتی اس لیے وہ جذباتی مسائل اٹھا کر نفرت و عناد کی سیاست کرتا ہے ۔  سنجیدگی کے ساتھ اپنے موقف پر چند  منٹ بھی  مدلل بحث نہیں کرپاتا اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں اگر اقتدار  ہوتو  وہ اس کے ذریعہ جبرو استبداد کا بازار گرم کردیاجاتاہے ۔ دولت پاس ہوتو ذرائع ابلاغ کو خرید کر جعلی ماحول سازی کی جاتی ہے۔ دونوں یکجا ہوجائیں توجو طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہےاس کی مثال عمر خالد کا مقدمہ ہے جس میں ایک امن و آشتی کی ترغیب دینے والی  تقریر کو سیاق و سباق  سے کاٹ کر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ میڈیا ٹرائل کیا گیا ۔

 یہ ساری مشق اختلاف رائے کے  اظہار کی حوصلہ شکنی کی خاطر ہوتی ہے کیونکہ اس کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ  کا فقدان ہوتا ہے۔  ابتدا میں عوام کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا مگر وقت کے ساتھ یہ حقیقت ان کے آگے آشکار ہوجاتی ہے۔ اس وقت تک صبرو استقامت کے ساتھ اپنا کام کیے جانے والوں کا ایثار و قربانی  عوام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ جذباتیت کے چنگل سے آزاد ہوجاتے ہیں اور ان کی رائے تبدیل  ہوجاتی ہے۔ انسانی تاریخ شاہد  ہے کہ   کوئی قوم اگر کسی غلط بات پر اصرار کرے تو ایک  خاص  مدت عمل  تک اسے موقع دیا جاتا اور پھر وہ   مشیت کی جانب سے سزا کی مستحق ٹھہرتی ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی ‘‘۔  اس کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیاجاتا ہے یا بے وزن کرکے چھوڑ دیاجاتا ہے۔      بقول علامہ اقبال؎

فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے                                         کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف