دھولیہ مآب لنچنگ ڈاونڈائچہ کیس میں ملز مین خواتین کی گرفتاری سے قبل ضمانت منظور

Maharashtra

دھولیہ مآب لنچنگ ڈاونڈائچہ کیس میں ملز مین خواتین کی گرفتاری سے قبل ضمانت منظور

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد پنچ کا اہم فیصلہ

24؍ اگست ( پریس ریلیز ) ماہ مارچ میں ضلع دھولیہ کے علاقہ ڈونڈائچہ میں ایک غیر مسلم لڑکی کو چھیڑنے کا الزام لگا کر شر پسندوں کی جا نب سے ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کرنے ، پولیس فائرنگ میں زخمی ہوئے نوجوانوں کی عیادت کے لئے مقامی ہسپتا ل پہونچے والے شہباز شاہ پر شر پسندوں کی جانب سے منصوبہ بند طریقے پر مآب لنچنگ کرکے شہید کردینے والے عناصر کو سزا دلانے اور مظلوموںکو انصاف دلانے کی غرض سے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ میں دائر کردہ اپیل کی آج سماعت عمل میں آئی جس میںجمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ نے ملز مین مسلم خواتین رخسانہ بی سلیم شیخ ،شفاء بی عمران شیخ کی گرفتاری سے قبل ضمانت منظور کرنے کا اہم فیصلہ صادر کیا ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 31  ؍ مارچ 2021 ڈونڈائچہ تعلقہ سندھ کھیڑا ضلع دھولیہ میں ایک غیر لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے جھوٹے الزام کا بہانا بناتے ہوئے شر پسند فرقہ پرستوں نےدو مسلم نوجوانوں کو زدوکوب کرکے پولیس کے حوالے کردیا پولیس نے بھی ان زبردست پٹائی کی اور ان پر  POC SOکے تحت مقدمہ درج کردیا ہے ۔جب ملزم عمران کے اہل خانہ او مسلم سماج کے امن پسند لوگ حملہ کرنے والے شر پسندوں کے خلاف کاروائی اور ایف آئی آر درج کرنے اور عمران اور اس کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ لیکر ڈونڈائچہ شہر پولیس اسٹیشن پہنچے تو  پولس نے شر پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے امن پسند شہریوں پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کر دی جس میں دو نوجوان زخمی ہوگئے جنہیں مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا ۔
اس واقعہ کی خبر آگ کی طرح شہر میں پھیلنے پر اہل خانہ اور شہر کے امن پسند احباب سرکاری جنرل ہاسپٹل میں عیادت کیلئے پہونچےاس درمیان عیادت کیلئے پہنچنے والے لوگوں پر فرقہ پرستوں نے ہتھیاروں سے لیس ہوکر جان لیوا حملہ کر دیا ، جس میں فرقہ پرستوں نے شہباز شاہ نامی بی جے پی سوشل ورکر کوقتل کردیا ۔ ادھر پولیس نے گرفتار شدہ دونوں نوجوانوں میں سے ایک کو اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو گیاجب پولیس کو یہ محسوس ہوا کہ وہ مر گیا ہے تو پولیس نے اسے لاکپ سے نکال کر باہر پھینک دیا ،اور الٹا ان تمام لوگوں پر پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے ملزموں کو چھڑا کر لے جانے ،پولیس والوں کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے جیسے 20 الزامات کے تحت مقدمہ درج کر دیا تھا ۔

ان تمام مظلومین کے اہل خانہ کی در خواست پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ان کے مقدمہ کی عدالت میں پیروی کرر ہی تھی ،جمعیۃ لیگل ٹیم نے شہباز شاہ کے قاتلوںاور شر پسند عناصر کو قرار واقعی سزاء دلانے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ سے رجوع کیا اور اس کیس میں ملزمہ گردانی گئیںخواتین کی جا نب سے ANTY CIPATORY BAILداخل کی تھی ۔جس کی کئی بار سماعت عمل میں آئی، بالآخر آج عدالت نے فریقین کی بحث ،دفاع اور پولیس کی جرح سننے کے بعد ہائی کورٹ نے مسلم خواتین کی گرفتاری سے قبل رہائی کا فیصلہ دیا ہے ، سنگین الزامات کے باوجود ضمانت کا جو فیصلہ سنایا ہے و قابل تعریف ہے ،عدالت کے اس فیصلے  سے ملز مین خواتین اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جمعۃ علماء مہاراشٹر کے ذمہ داران اور لیگل ٹیم کا شکریہ ادا کیا ،عدالت میں اس کیس کی پیروی بنفس نفیس سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کر رہے تھے۔