ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی  مصر سے تعلق رکھنے والی عربی النسل اردو شاعرہ اور ادیبہ

National

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی 

 

مصر سے تعلق رکھنے والی عربی النسل اردو شاعرہ اور ادیبہ

 

انتخاب اور پیشکش 

سلمی صنم 

 

 

میں نیل کے کنارے ہوں لیکن نگاہ میں 

جہلم ہے گنگا جمنا ہےروای چناب ہے

 

اس شعر کی خالق ڈاکٹر ولا جمال العسیلی عربی النسل ہیں اور قاہرہ ( مصر) میں رہتی ہیں لیکن اردو کے عشق میں سرشار ہیں ۔اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب سے متاثر ہوکر اردو میں شاعری کرتی ہیں۔ولا( جس کا مطلب ۔۔وفاداری، محبت،اپنائیت،اور دوست کے ساتھ کھڑا ہونا ہے) تخلص ہے۔ قاہرہ میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے والد کی خواہش پر میڈیکل فیکلٹی میں داخلہ کی کوشش کی مگر مطلوبہ نمبر حاصل  نہ کرنے کے باعث انہیں مجبورا عین شمس یونیورسٹی قاہرہ کے فیکلٹی آف آرٹس کے شعبہ اردو میں داخلہ لینا پڑا۔اردو کے سلسلے میں ان کا کوئی پس منظر نہ تھا نہ ہی انہوں نے اس کےبارے میں کچھ سنا تھا۔کیونکہ مصر میں اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن جیسے میڈیا میں اردو کا کوئی وجودنہیں ۔اردو پڑھنے کے دوران جب لوگ ان سے پوچھتے کہ کیا پڑھتی ہیں؟ اور یہ اردو کیا ہے؟ تو جواب دیتے ہوئے وہ جھجک سی جاتی تھیں کیونکہ عام مصری لوگ اردو کے نام سے ناواقف تھے۔چار سال انہوں نے اردو زبان کی تعلیم حاصل کی اور جب نتیجہ سامنے آیا تو انہیں پہلی پوزیشن ملی۔شعبہ اردو میں ہی 2004 میں ان کی تقرری ہوئی اور اس طرح انہوں نے اردو زبان و ادب کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا ۔2009 میں ایم ۔اے ایک مقالہ بعنوان سرسیداحمدخان کے اخلاقی و اصلاحی مضامین۔۔ایک تنقیدی مطالعہ اور پیشکش ایچ ڈی 2013 میں ایک مقالہ بعنوان فہمیدہ رياض کی شاعری مکمل کیا اس کے بعد شعبہ اردو میں ہی بحثیت لیکچرر درس و تدریس کے کام میں مصروف ہوگئیں ۔2015 اور 2019 کے درمیان انہوں نے اردو ادب کے حوالے سے 6 مقالے تحریر کیئے جن کے موضوعات ہیں منیر نیازی کی شاعری میں بیگانگی،دلاور فگار کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری، اردو اور عربی میں حسینی شاعری، علامہ اقبال کی شاعری میں فطرت نگاری،اردو شاعری میں قومیت اور وطنیت کے تصورات اور غضنفر کے ناول مان بھی میں عصر حاضر کے مسائل۔

 

بچپن ہی سے وہ فطری صلاحیتوں کی مالک تھیں ۔انہیں عربی شاعری پڑھنے اور لکھنے کا شوق تھا لیکن حصول تعلیم اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیا اور تعلیم پر دھیان دیا۔اردو نظم لکھنے کا آغاز ہندوستان کے پہلے سفر کے بعد ہوا۔وہ فروری 2019 میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے دہلی آئیں۔کانفرنس کا پہلا حصہ دہلی اور دوسرا کولکتہ میں تھا۔اس سفر کے دوران اردو زبان کے بہت سے اساتذہ سے ان کی ملاقات ہوئی جن سے وہ کافی  تاثر  ہوئیں۔منقعدہ کانفرنس میں جب وہ کولکتہ پہنچیں تو بقول ان کے وہاں ان پر ایک جادو سا چھا گیا جو واپس مصر پہنچنے کے بعد بھی برقرار رہا جس کے زیر اثر انہوں نے اپنی پہلی اردو نظم 'جادو لکھی۔ابتدا میں اپنی نظمیں فیس بک تک ہی محدود رکھیں۔یہاں چند اردو داں سے جب انہیں داد ملی تو وہ حیران رہ گیئں ۔انہیں یقین ہی نہ آتا تھا کہ واقعی وہ اردو میں شاعری کرسکتی ہیں۔یہ مختلف اور حیرت انگیز تجربہ تھا جو ان کے لئے ایک چیلنج بن گیا۔۔وہ لکھتی ہیں "میں دباؤ اور ذہنی الجھنوں کے باوجود لکھتی رہی۔مصر میں اردو جاننے والوں سے کم حوصلہ افزائی ملتی تھی۔لکھنا چھوڑنے یا کنٹرول کرنے کے لئے میرے اردگرد لوگوں کے رویے بہت سخت تھے۔ان تمام باتوں کی وجہ سے میں خود کو اداس اور لاچار محسوس کرتی تھی۔رات کو نیند بھی نہیں آتی تھی۔مگر میں لکھنا کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی اس لئے لکھتی رہی اور اس کےلئے میں نے بہت کچھ برداشت کیا "۔اس موقع پر بعض اردو والوں نے ان کی کافی ہمت افزائی کی۔ پھر ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ "سمندر ہے درمیان " منظر عام پر آیا۔

 

2020 میں وہ دوبارہ ہندوستان آئیں جہاں سے ڈھاکہ میں ایک کانفرنس میں انہیں شرکت کا موقع ملا۔پھر وہ ممبئ میں ہو رہی عالمی فیسٹیول میں شریک ہوئیں جہاں انہیں ظفر گورکھپوری ایوارڈ برائے حوصلہ افزائی ملا۔۔اس کے بعد انہوں نے غزل اور افسانے لکھنا شروع کیا۔ مصر کی مختلف روایات ،رسومات اور تاریخ  کے متعلق اردو میں لکھ کر برصغیر میں  مصریات سے دلچسپی رکھنے والوں کی معلومات میں اضافہ کرنے لگیں ۔

ان کی اب تک 5 کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں تین کتابیں اردو میں اور دو عربی زبان میں 

 

اردو کی کتابیں

۱۔۔"سمندر ہے درمیان "(شعری مجموعہ )

۲۔"اردو شاعری میں قومیت اور وطنیت کے تصورات "(تحقیق و تنقید )

۳۔"عربی  اور اردو میں معاصر حسینی شاعری"( تحقیق و تنقید )

اردو میں ایک اور کتاب "دشت جنوں" زیر اشاعت ہے

 

 

عربی  کتابیں 

۱۔" الملاح"۔۔غضنفر کے ناول مانجھی کا عربی میں ترجمہ 

۲۔"دیفداسی"۔۔فہیم اختر کے افسانوی مجموعہ کا عربی ترجمہ 

 

ان کتابوں کے علاوہ انہوں نے درجنوں فیچرز اور انشائیے بھی لکھےہیں۔یوں جس قدر اردو ادب کی خدمت ہمارے ملک اور بیرونی ممالک کے شعراء کرام نے انجام دی ہے ان سے کہیں زیادہ خدمت اردو ادب کی ہمارے وطن عزیز کی مٹی،یکجہتی، ملنساری اور آپسی بھائی چارہ سے متاثر ہو کر مصری شاعرہ ولا جمال العسیلی کررہی ہیں ۔

 

وہ نرم اور سنجیدہ لہجے کی شاعرہ ہیں ۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی ان کی نظموں کے حوالے سے لکھتے ہیں " ولا جمال العسیلی کی نظموں کی قراءت کے بعد جو تاثرات ذہن میں ابھرتے ہیں ان کو اگر مختصر لفظوں میں پیش کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ نظمیں واقعی  نم آنکھوں اور دل مضطرب کا تخلیقی اظہار ہے اور زندگی کے سمندر کی تلخ و شیریں یادوں کا بیان کہنے کی بجائے لفظ و معنی کے حسین و دلکش شعری پیکر میں پیش ہوا ہے:"

 اپنی شاعری کے بارے میں وہ لکھتی ہیں

’’میں ذاتی طور پر جو سوچتی ہوں وہی لکھتی ہوں۔میں جو محسوس کرتی ہوں اسے قلمبند کر دیتی ہوں۔اور فن شاعری کو قوموں اور ملکوں کے درمیان محبت اور دوستی کا وسیلہ سمجھتی ہوں جو تہذیبوں کے درمیان باہمی قرب کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے ۔جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے۔اسی طرح میری تحریریں حیرت،سوالات اور اعتراضات سے بھری ہوئی ہیں۔میری کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین میں اپنے ملک کی ثقافت کی اردو زبان میں تشہیر کروں ۔اردو سے مجھے بہت لگاؤ ہے بلکہ عشق ہے‘‘

پیش ہے اردو سے عشق کرنے والی عربی النسل اردو شاعرہ ولا جمال العسیلی کا نمونہ کلام

 

غزلیات

 

غزل   ۱

 

رشتہ ہی کچھ ایسا ہے میرا تیری یادوں سے

بوجھل ہی نہیں ہوتا تو میری نگاہوں سے

میں تیری محبت سے سرشار ہوں ہر لمحہ

ظاہر  یہ علامت ہے اب میری نگاہوں سے

شدت سے مسلسل میں تکتی ہوں تیری راہیں

لپٹتی ہیں یہ امیدیں میری تیرے قدموں سے

ہے عشق بنا ایسے انسان کی حالت بھی

ٹوٹے ہوئے پتے ہوں جیسے کوئی شاخوں سے

دن رات  یہی کوشش ہے میری ولا اب وہ

نکلے نہ کسی صورت خوابوں سے نگاہوں سے

 

 

غزل   ۲

 

ترے خیال کو دل سے نکالنا ہوگا

یہ سچ ہے خود کو بھی مشکل سنبھالنا ہوگا

بہت دنوں سے تماشا بنائے ہوں خود کو

اب اپنی ذات پہ اک پردہ ڈالنا ہوگا

ہےجس میں تیری بھی رسوائی میرے ساتھ صنم

وہ قصہ اب تو مجھے بھی اچھالنا ہوگا

کھلی فضاؤں میں رکھا ہے جس پرندے کو

قفس میں اب اسے دشوار پالنا ہوگا

یہ دل پگھلنے لگا موم بن کے الفت میں

اب اس کو اک نئے سانچے میں ڈھالنا ہوگا

سیاہی جم سی گئ ہے وفا کے زیور پر

ولا تم ہی کو یہ سونا اجالنا ہوگا

 

 نظمیں

 

جادو

 

پتہ نہیں یہ جادو کیا تھا

کسی نے جادو کیا ہے مجھ پر

جادو کو اٹھانے کےلئے

اس جادوگر کی تلاش کررہی ہوں

وہ جادو جس نے میرے دل پر راج کیا

ہلاک کرسکتا ہے مجھے

زندہ کرسکتاہے مجھے

خوشی بخشی ہے مجھے

افسردگی بخشی ہے مجھے

وہ جادو ایک ہی وقت میں

دل کا مرض اور علاج ہے

جادو کو اٹھانے کےلئے

اس جادوگر کی تلاش کررہی ہوں

اگر مجھے دوبارہ زندگی مل جائے

تو اس جادوگر کا انتخاب کروں گی

اس کے ساتھ ابدی زندگی گزاروں گی

 

 

دل کی دھڑکن 

 

دل دھڑکتا ہے

دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے

دل کی دھڑکن اور ڈھول کی

تھاپ ایک ہی ہے

اس پرکوئی اختیار نہیں

اسے روکنے کی کوشش

اس پر قابو پانے کی کوشش

ایک ناکام کوشش

یہ دھڑکن مضبوط ہوتی ہے

میری زندگی پر حاوی ہوتی

ہے

اسے کیسے قابو میں رکھوں

کب ختم ہوگی

اے اللہ !

اس دھڑکن سے

مجھے چھٹکارہ دلائے