آئین میں ترمیم کرکے ریاستی حکومت کو اختیار بحال کر نے سابق رُکن اسمبلی سید سلیم کا موقف سچ ثابت ہوا ہے

Beed

آئین میں ترمیم کرکے ریاستی حکومت کو اختیار بحال کر نے سابق رُکن اسمبلی سید سلیم کا موقف سچ ثابت ہوا ہے

 

طبقات کو بیک وارڈ کلاس قرار دینے  کا حق ریاستوں کو دینے کی تجویز مرکزی وزرات کمیٹی کی جانب سے منظور

 

 

 بیڑ  (آر ۔این۔ خان) طبقات کو بیک وارڈ کلاس قرار دینے کا حق ریاستوں کو دینے کی تجویز مرکزی وزرات کمیٹی کی جانب سے منظور کرلی گئی ہے۔تفصیلی معلومات کے مطابق سپریم کورٹ نے  102 ویں آئین کی ترمیم آرٹیکل 342 (اے) کو منسوخ کرنے کے حکومتی فیصلے پر غور کرنے کے لئے مرکز کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ اس سے مراٹھا ریزرویشن کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا لگا تھا۔ عدالت  عظمیٰ نے ریزرویشن کو کالعدم قرار دینے کے بعد فیصلہ میں 102 ویں ترمیم کے معاملے پر مرکز کی بحالی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ 102 ویں ترمیم نے قومی پسماندہ طبقات کمیشن قائم کیا گیا تھا ۔ اس کمیشن کے قیام کے بعد ، ایس ای بی سی ریزرویشن کا نیا زمرہ بنانے کا حق صرف صدر کے دستخط کے ساتھ کمیشن کو دیا گیا تھا۔ بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ ریاستوں کو یہ حق نہیں تھا۔ مرکزی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ لیکن پانچ ججوں کے بنچ نے سپریم کورٹ میں مرکزکی اپیل کو بھی مسترد کردیاتھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایس ای بی سی جیسے نئے زمرے بنانا ہیں تو ، یہ فیصلہ صرف مرکزی سطح پر ہی کیا جاسکتا تھا۔چونکہ مراٹھا ریزرویشن کے بارے میں مرکز کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی گئی تھی ، اس معاملے کو ریاستوں پر نہیں بلکہ مرکز پر واضح ہوگیا تھا۔ اب 50 فیصد ریزرویشن حد اور دیگر امور پر ریاستی حکومت کی نظر ثانی کی پٹیشن کا کیا ہوگا؟ یہ سوال تھا۔ اس اپیل کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر درخواستوں کو بھی مسترد کرنے کا امکان تھے۔ اب جو کچھ باقی ہے وہ رسمی تھا۔ مراٹھا ریزرویشن سوال مرکز کے ذریعہ سپریم عدالت میں دوبارہ سماعت کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ، این سی پی کے سابق ایم ایل اے اور مسلم ریزرویشن کے ضمن میں ہائیکورٹ میں عرض گذار سید سلیم نے اس ضمن میں اہم مدعا منظر عام پر لاتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے ۲۰۱۸ میں مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کو ممبئی ہائیکورٹ میں چیلینج  کیا گیا تھا۔ اس پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ نے مراٹھا سماج کو دیا گیا ریزرویشن صحیح ہے یہ واضح کر دیا تھا ۔ لیکن اس فیصلے کو پھر سپریم کورٹ میں چیلینج کیا گیا تھا جس پر ۵ مئی ۲۰۲۱ کو سپریم کورٹ نے ریزرویشن کا قانون منسوخ کرتے ہوئے ۱۰۲ ویں آئین کی ترمیم کے بعد ریاستی حکومت کو سماجی ، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پچھڑے زمرہ کو طے کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ یہ حق صرف مرکز کو حاصل ہے یہ واضح کر دیا تھا ۔ اس ضمن میں مرکز کی جانب سے داخل دوبارہ سماعت کی عرضی بھی سپریم کورٹ نے خارج کر دی تھی۔اس میں ۱۰۲ ویں آئین کی ترمیم کے ضمن میں قبل میں دئے گئے فیصلہ کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے یہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سماجی ، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے کسی بھی سماج کو ریزرویشن دینے کا اختیار مرکز کا تھا۔ اس لئے مرکزی حکومت نے مانسون اجلاس میں آئین میں ترمیم کرکے ریاستی حکومت کے اختیارات کو دوبارہ بحال کرے اس طرح کا مطالبہ سابق ایم ایل اے سید سلیم نے کیا تھا۔جس کو گزشتہ یوم  طبقات کو بیک وارڈ کلاس قرار دینے کا حق ریاستوں کو دینے کی تجویز مرکزی وزرات کمیٹی کی جانب سے منظور کرلی گئی ہے۔اس فیصلے سے مسلم ریزرویشن کے لئے قانونی لڑائی لڑنے والے بیڑ کے سابق رُکن اسمبلی سید سلیم کا موقف سچ ثابت ہوا ہے