ڈینگو کی روک تھام کے لیے ریاست میں مکمل تیاری: منگل پانڈے

National

ڈینگو کی روک تھام کے لیے ریاست میں مکمل تیاری: منگل پانڈے

 

1.32 لاکھ سے زائد مچھر دانی اضلاع کو دی گئیں

پٹنہ، 02 اگست: وزیر صحت منگل پانڈے نے بتایا کہ محکمہ صحت نے کورونا انفیکشن کے خلاف جنگ کے دوران ڈینگو مینجمنٹ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ عام طور پر اگست اور ستمبر کے مہینوں میں ڈینگو کے کیسوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت پہلے ہی سے الرٹ موڈ میں ہے اور ضلع اور بلاک کی سطح تک مکمل تیاریاں کی گئی ہیں۔ جولائی کے مہینے کو ریاستی حکومت نے ڈینگو مہینہ کے طور پر منایا ہے اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں میں ڈینگو کے خطرے اور انتظام کے بارے میں آگاہی پھیلائی جا رہی ہے۔

   پانڈے نے کہا کہ ڈینگو مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ڈینگو سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت نے اضلاع میں زیادہ سے زیادہ مقدار میں دواؤں والی مچھر دانی تقسیم کی ہے۔ رواں سال اب تک 1 لاکھ 32 ہزار 488 مچھر دانی اضلاع کو  دی جا چکی ہیں۔ گزشتہ سال بھی ایک لاکھ 23 ہزار مچھر دانی اضلاع میں بھیجی گئی تھی۔ اس کا مثبت اثر بھی دیکھا گیا۔ گزشتہ سال ریاست بھر میں ڈینگو کے صرف 493 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ اس سال اب تک ریاست میں صرف 10 سے 12 ڈینگو مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔ اس سال مریضوں کی تعداد کم دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت اور محکمہ صحت ڈینگو کی لعنت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ اس کے ساتھ تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں پانچ بیڈز کی گنجائش والے ڈینگو وارڈ فعال ہیں، تاکہ ڈینگو کے مریضوں کو داخل کیا جا سکے اور ان کا بہتر علاج کیا جا سکے۔ دوسری طرف ریاست کے تمام نو شناخت شدہ نوڈل ہسپتالوں میں ڈینگو کے مریضوں کے لیے ایک خصوصی وارڈ رکھا گیا ہے، جس میں ضرورت کے مطابق اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

   وزیر صحت نے بتایا کہ ڈینگو کے مریضوں کے بہتر علاج کے لیے ریاست کے نو میڈیکل کالجز اور اسپتالوں کو این بی ایچ بی ڈی سی پی، حکومت ہند نے نوڈل مراکز کے طور پر قائم کیا ہے۔ ان میں پی ایم سی ایچ(پٹنہ)،این ایم سی ایچ (پٹنہ)،آئی جی آئی ایم ایس اور اے آئی آئی ایم ایس (پٹنہ)،آر ایم آر آئی (پٹنہ)،ایس کے ایم سی ایچ (مظفرپور)،اے این ایم ایم سی ایچ (گیا)،ڈی ایم سی ایچ (دربھنگہ) اور  جے ایل این ایم سی ایچ (بھاگلپور) کو نوڈل اداروں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ڈینگو کے مریضوں کی علامات کی ابتدائی جانچ کے بعد ان نوڈل ہسپتالوں میں تمام طرح کی سہولت دستیاب کرائی گئی ہے۔ جن اضلاع میں نوڈل سنٹر نہیں ہیں وہاں ڈینگو کے مریضوں کے خون کے نمونے قریبی نوڈل سنٹر پر طلب کیے جاتے ہیں۔ محکمہ صحت کی یہ کوشش ہے کہ تمام ممکنہ مریضوں کا ڈینگو ٹیسٹ کرایا جائے۔