اخباروں میں پڑھاتو معلوم ہوا کہ کورونا ویکسین لینا کتنا ضروری ہے

National

اخباروں میں پڑھاتو معلوم ہوا کہ کورونا ویکسین لینا کتنا ضروری ہے

 

خود تو ویکسین لی ہی، اب دوسروں کی بھی رہنمائی کر رہے ہیں

بھاگلپور، 30 جولائی:ضلع میں کورونا کے خاتمے کے لئے ہر قسم کی بیداری مہم جاری ہے۔جانچ اور علاج کے ساتھ ضلع میں ویکسینیشن مہم بہت تیز رفتار سے جاری ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم نہ صرف لوگوں کو ویکسین لینے کے لئے آگاہ کر رہی ہے بلکہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ سماجی کارکن اور نوجوان بھی ویکسینیشن کے بارے میں بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ اس میں اخبارات کا اثر بھی قابل تحسین ہے۔ کھریک بلاک کے کچھ نوجوانوں نے اخبارات میں خبریں پڑھ کر ویکسین کی اہمیت کو سمجھااور اس کے بعد انہوں نے نہ صرف خود ویکسین لی، بلکہ اب وہ دوسروں کو بھی ویکسین لینے کے لیے آمادہ کررہے ہیں۔

 

کھریک بازار کے مشرقی گھراری کے رہنے والے کشور کمار پنڈت نے بتایا کہ جب ویکسینیشن متعارف کروائی گئی تو ان کے درمیان ویکسین کے بارے میں خوف تھا کہ ویکسین لینے کے بعد نہیں معلوم کہ اس کے کیا مضر اثرات ہوں گے۔ کورونا ہو گا یا نہیں، یہ بعد کی بات ہے۔ لیکن اس سے بچنے کے لیے آئی ویکسین،معلوم نہیں کیا تباہی لائے گی۔ محکمہ صحت کی ٹیم مسلسل ویکسینیشن کے لیے آ رہی تھی، لیکن ہم لوگ ویکسین لینے سے گریز کر رہے تھے۔ اس دوران اخبارات کے ذریعہ ویکسین کے تعلق سے مستقل اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ جب میں نے ویکسینیشن سے متعلق کئی خبریں پڑھیں تو میں نے اس کی اہمیت کو سمجھا۔اور یہ احساس ہوا کہ کورونا سے بچنے کے لیے ویکسین لینا کتنا ضروری ہے۔اس کے بعد میں نے نہ صرف خود ویکسین لی، بلکہ اب میں لوگوں سے ویکسین لینے کی اپیل بھی کر رہا ہوں۔ اس کا اثر بھی ہوتا نظر آرہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے میرے کہنے پر بھی کورونا کی ویکسین لی ہے۔

 

 محکمہ صحت کی ٹیم کو دیکھ کر بھاگ جاتے تھے: کھریک بازار کے ارون کمار نے بتایا کہ ہم لوگ پہلے یہی سمجھتے تھے کہ محکمہ صحت کا تو کام ہی یہی ہے، لیکن جب ویکسینیشن سے متعلق معلومات اخبارات میں پڑھی تو ویکسین کی اہمیت کو سمجھ میں آئی۔ اس نے فوراًجا کر کورونا کی ویکسین لی۔ اب لوگوں کو ویکسینیشن کے فوائد بتا رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے 10 لوگوں کو آمادہ کرکے کورونا کی ویکسین دلائی ہے۔

میر جعفری پنچایت کے موہت کمار کا کہنا ہے کہ اگر کورونا ویکسین کی اہمیت کے بارے میں خبریں اخبارات میں سلسلہ وار شائع نہ ہوتی تو وہ ابھی تک ویکسین نہ لیتا۔ مقامی صحت کے عہدیدار بھی بہت تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی ویکسین کے فوائد کے بارے میں بتایا، تب ہی وہ ویکسین لینے کے لئے راضی ہوا۔میر جعفری کے ہی رمیز راجہ نے بتایا کہ شروع میں ہم اس پر یقین نہیں کرپارہے تھے۔ ان کی پنچایت میں لوگ محکمہ صحت کی ٹیم کو دیکھ کر بھاگ جاتے تھے، لیکن جب انہوں نے اخبارات میں لوگوں کو مسلسل ویکسین لینے کے بارے میں پڑھا تو آہستہ آہستہ اعتماد ہوا۔ اب صرف میں ہی نہیں، میری پنچایت کے زیادہ تر لوگوں نے یہ ویکسین لے لی ہے۔ اور وہ ویکسین لینے کے لئے  دوسرے لوگوں کو بھی آگاہ کر رہے ہیں۔

 

اخبارات میں خبروں کی اشاعت کا لوگوں پر مثبت اثر پڑا: کھریک پرائمری ہیلتھ سنٹر کے منیجر مدھوکانت جھا نے بتایا کہ یقینی طور پر اخباروں میں ویکسی نیشن کے بارے میں آنے والی خبروں کے بعد لوگوں پر بہت مثبت اثر پڑا۔ پہلے لوگوں میں خوف تھا کہ ویکسین لینے کے بعد کیا ہوگا؟۔علاقے کے بہت سے لوگ نامردی اور خواتین کے بانجھ پن کی بات کر رہے تھے۔ ہم لوگ تو انہیں سمجھا ہی رہے تھے، لیکن جب اخبارات میں خبریں آئیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ ویکسین لینے کے بعد ہی ہم کورونا سے محفوظ رہ پائیں گے۔