ملیریا کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں: منگل پانڈے

National

ملیریا کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں: منگل پانڈے

 

ملیریا کے 80 فیصد کیس ریاست کے 7 اضلاع میں ملے

پٹنہ، 31 جولائی: وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ برسات کے موسم میں مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے امکان کے پیش نظر محکمہ صحت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے ضروری تیاری کی گئی ہے۔ ملیریا سے متاثرہ اضلاع کی شناخت لگاتار 3 سال کے کیس کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ریاست کے 7 اضلاع میں ملیریا کے 80 فیصد کیس ہیں، جن میں گیا، کیمور، مونگیر، اورنگ آباد، نوادہ،  روہتاس اور جموئی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں متاثرہ اضلاع میں جنگی بنیادوں پر ملیریا کی روک تھام اور انتظام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

 

  مسٹر پانڈے نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے گزشتہ سال جاری کردہ ورلڈ ملیریا رپورٹ کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں بھارت واحد ملک ہے، جہاں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں ملیریا کے کیسز 17.6 فیصد کم ہوئے ہیں۔ سال 2018 کے مقابلے میں 2019 میں بھی 27.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ بہار میں بھی ملیریا کے کیسز میں کمی آئی ہے۔ جون کا مہینہ اینٹی ملیریا مہینے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اس دوران متاثرہ اور ممکنہ علاقوں میں ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ ملیریا کے موثر کنٹرول کے لیے جون سے اکتوبر تک ایسے علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈی ڈی ٹی کا مسلسل سپرے بھی کیا جا رہا ہے، تاکہ مچھروں کی وبا کو کم کیا جا سکے۔

 

   وزیر صحت نے بتایا کہ ملیریا کی بہتر روک تھام اور علاج کے لیے ضروری ہے کہ علامات کے مریضوں کا صحیح وقت پر ملیریا کے لیے ٹیسٹ کیا جا سکے۔ اس کے لیے آشا ورکرز کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ہر آشا ورکر کو 15 روپے فی مریض کی ترغیبی رقم دی جاتی ہے تاکہ مریض کے خون کے نمونے کو جانچنے کے لیے تعاون کیا جا سکے اور شناخت شدہ مریضوں کو 3 دن تک دوا کو یقینی بنانے کے لیے 75 روپے دیے جائیں۔ اس طرح ملیریا کی تحقیقات اوردوا کو یقینی بنانے کے لیے آشا کو 90 روپے کی ترغیبی رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سے ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں ملیریا کی بروقت شناخت اور لوگوں کی طرف سے 100 فیصد دوا کے استعمال کو یقینی بنانا آسان ہوگیا ہے۔