پیگاسس پر حزب اختلاف کا اتحاد اور اسدالدین اویسی

National

پیگاسس پر حزب اختلاف کا اتحاد اور اسدالدین اویسی

ڈاکٹر سلیم خان

کورونا کی وبا کے سبب 18؍ ماہ  تک ایوان پارلیمان کا مکمل اجلاس نہیں ہوسکا  اور فی الحال  19؍ جولائی سے 13 ؍اگست تک مانسون  سیشن چل رہا ہے۔ اس  میں جملہ 19 اجلاس ہونے تھے لیکن پہلے گیارہ دن ہنگاموں کی نذر ہوگئے اور صرف 8 قوانین کو بغیر بحث کے  منظوری مل سکی ۔  اس بار حزب اختلاف اس قدر جارحانہ موڈ میں تھا   وزیراعظم نریندر مودی کونوتشکیل شدہ  کابینہ کے تعارف کا بھی موقع نہیں دیا گیا ۔ کورونا کی وباء کے سوا کسی بحث میں حزب اختلاف نے حصہ نہیں لیا  ۔ اس کی و جہ  یہ ہے کہ  حزب اختلاف  ملک بھر میں  پھیلی افراتفری اور بدعنوانی ، پٹرولیم مصنوعات اورضروری اشیاء کی مہنگائی، کسان تحریک ، کورونا  ویکسین کی قلت ، اترپردیش کے مجوزہ آبادی کنٹرول قانون  اور پیگاسس کی  جاسوسی سے قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کرنا چاہتا ہے جبکہ  ، حکومت 23؍ غیر اہم قوانین کی  منظوری میں وقت ضائع کرنا چاہتی  ہے۔

 

ایوانِ پارلیمان میں حکومت کو گھیرنے کی خاطر   راہل گاندھی کی سربراہی میں حزب اختلاف کی 14 جماعتوں کےرہنماوں  نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میٹنگ کی اور پیگاسس و کسانوں کےاحتجاج  جیسے متعدد مسائل پر آئندہ کی حکمت عملی پر غوروخوض  کیا۔  اس نشست  میں یہ طے پایا کہ راہل گاندھی کے ساتھ ہم خیال جماعتوں کے لیڈر ایوان میں ایک مشترکہ  تحریک التواء پیش کریں گے۔ اس میٹنگ میں کانگریس کے ساتھ ڈی ایم کے،نیشنلسٹ کانگریس پارٹی،سماج وادی پارٹی،شیوسینا،راشٹریہ جنتا دل،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا،عام آدمی پارٹی،آئی یو ایم ایل، این سی ، آر ایس پی، وی سی کےاور کے سی ایم  کے رہنما شریک تھے ۔ ایوان  زیریں  میں تعاون ا شتراک کے لیے بھی اسی طرح کی ایک نشست کا انعقاد کا حزب اختلاف رہنما کے کمرے میں ہوا جس میں انہیں جماعتوں کے لوگ موجود تھے۔

 

مذکورہ  اجلاس میں جہاں بہت ساری علاقائی  جماعتیں موجود تھیں کئی لوگ غیر حاضر بھی تھے ۔ ٹی ایم سی نہیں تھی حالانکہ ممتا کے سونیا سے ملاقات نے اس کا ازالہ کردیا۔   این ڈی اے کے لوگوں کی غیر حاضری قابل فہم ہے لیکن اس سے الگ ہونے والے پی ڈی پی  اور اکالی دل بھی  غائب تھے۔  شاید ان کے دامن سے  ابھی تک این ڈی اے  کا داغ نہیں دھلا ہے۔ اس کے علاوہ این ڈی اےکا آڑے وقت میں ساتھ دینے والے بیجو جنتا دل، وائی ایس آر کانگریس اور ٹی آر ایس بھی موجود نہیں تھے۔ مایا وتی  سے بی جے پی کے رشتے زبان زدِ عام ہوچکے ہیں اس لیے بہوجن سماج پارٹی     کی غیر موجودگی بھی حسبِ توقع تھی مگر بیرسٹر  اسدالدین اویسی کی ایم آئی ایم کی عدم موجودگی نے سب کو چونکا دیا اور وہ ذرائع ابلاغ میں بحث کا موضوع بن گئی۔

 

ملک کے ہندو  رائے دہندگان میں نریندر مودی جس قدر مقبول ہیں مسلمانوں کے اندر اسدالدین اویسی کی مقبولیت اس سے کم نہیں ہے۔   ویسے موجودہ سیاسی ماحول میں وزیر اعظم مودی اوروزیر اعلیٰ یوگی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں  کسی رہنما   کا مقبول عام ہونا اس کے باصلاحیت یا مفید ہونے کی دلیل نہیں ہے۔    مجلس  کے مخالفین اس پر بی جے پی کی درپردہ حمایت کا الزام لگاتے رہتے ہیں حالانکہ بیرسٹر اسدالدین اویسی ایوان کے اندر اور باہر فسطائیوں کی جم کر مخالفت کرتے ہیں ۔ ایم آئی ایم کی مخالفت کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یوگی  جیسا بدزبان اور مسلم مخالف آخر اس قدر احترام سے ’اویسی صاحب عوامی حمایت کے حامل رہنما‘ کہہ  کر ان کو خراج عقیدت کیوں  پیش کرتا ہے ؟ ان کو اس پر حیرت ہے کہ  ای ڈی کے ذریعہ بی جے پی کے سارے مخالفین کو تو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے مگر ایم آئی ایم ہمیشہ نظر بد سے محفوظ رہتی ہے۔ ان اعتراضات کو خارج کرنے والی ایم آئی ایم  سے یہ توقع  تھی کہ وہ بی جے پی کے خلاف حزب اختلاف کے اتحاد میں شریک ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔  اس پر احمد فراز کا یہ شعر یاد آگیا ؎

 

قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو                                                             تمھارے ساتھ ہے کون؟‌آس پاس تو دیکھو

 

مغربی بنگال کی انتخابی شکست نے جہاں بی جے پی کی چولیں ہلادی ہیں اور اسے   پچھلے چار ماہ میں چار وزرائے اعلیٰ کی چھٹی کرنے پر مجبور کردیا ہے وہیں حزب اختلاف میں بھی ایک خود اعتمادی پیدا ہوئی  ہے۔ اس کا مظاہرہ  ممتا بنرجی کے دہلی دورے کے دوران ہوا۔ کل تک کولکاتہ میں گرجنے والی بنگال کی شیرنی نے دہلی میں  مرکزی حکومت پر زوردار حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ملک آج ایمرجنسی سے بھی زیادہ سنگین حالات سے دو چار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا  کہ ان کے ساتھ  ابھیشیک  بنرجی اورپرشانت کشور کے بھی فون کی جاسوسی کی گئی ہے۔ پریس کی آزادی  کا خاتمہ  ہو چکا ہےاور پیگاسس نامی  خطرناک وائرس کے ذریعے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ایوانِ پارلیمان میں حزب اختلاف کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔حزب اختلاف کے اتحاد کو ممتا بنرجی نے سیاسی جماعتوں پر منحصر قرار دیتے ہوے کہا کہ کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور وہ  پارلیمانی مانسون اجلاس کے بعد  تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گی ۔

 

ممتا بنرجی نے حسب عادت نیا نعرہ یہ اچھالا  کہ ’اچھے دن کا بہت انتظار کر لیا ، عوام اب سچّے دن دیکھنا چاہتے ہیں‘ ۔ان کے مطابق ’کھیلا ہوبے‘ کی گونج اب پورے ملک میں سنائی دے گی اور اگر سیاسی آندھی چل گئی تو اسے کوئی نہیں روک پائے گا۔ ممتا کو یقین ہے کہ   اگر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں سنجیدگی سے متحد ہو کر کام کریں تو 6 مہینے میں نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے سونیا گاندھی اور اروند کیجریوال سے گفت و شنید کا عزم  کیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ  لالو یادو سے تبادلہ خیال ہوچکا ہے۔سونیا گاندھی بھی حزب اختلاف کا اتحاد چاہتی ہیں ، تمام لوگ ساتھ آنا چاہتے ہیں۔  آگے چل کر  ممتا بنرجی نے راہل گاندھی کی موجود گی  میں سونیا گاندھی سے  ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی اور پیگاسس و مرکز ی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد جیسے مدعوں پر گفتگوکی ۔سونیا گاندھی نے ممتا سے  کہا کہ کانگریس علاقائی پارٹیوں پراعتماد کرتی ہے اور علاقائی پارٹیاں بھی  کانگریس پر یقین کرتی ہیں۔

 

پیگاسس کے معاملے نے حزب اختلاف کو متحد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس بابت کانگریس کے رہنما  پی چدمبرم نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو اس معاملہ کی تفتیش کے لئے جے پی سی تشکیل دینا چاہیے یا پھر سپریم کورٹ کے کسی جج کو مقرر  کرکے جانچ کی جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی  سے  پیگاسس  پر  ایوان پارلیمان میں بیان دینے کا مطالبہ کیا اور یہ  واضح کرنے کا اصرار کیا   کہ  جاسوسی کرائی گئی تھی یا نہیں ؟  چدمبرم نے آئی ٹی پر مرکزی کمیٹی کے ذریعے تفتیش کی بہ نسبت جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی جانچ   کو زیادہ مؤثر قرار دیا  ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پیگاسس جاسوسی معاملہ پر فرانس اور اسرائیل کی حکومتوں نے  تحقیقات کا حکم دے  دیا ہے مگر حکومتِ ہند اس پر بحث تک نہیں کرنا چاہتی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دال میں کالا ہے۔ شیو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے یہ سوال کرنے کے بعد کہ   پیگاسس جاسوسی کی فنڈنگ کس نے کی؟ اس کا موازنہ ہیروشیما کے ایٹم بم حملے سے کرتے ہوئے کہا کہ پیگاسس کے ذریعے لوگوں کی آزادی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا  ہے۔

 

 پیگاسس پر زبانی جمع خرچ تو بہت ہوا مگر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اس پر کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت تفتیشی  پینل  تشکیل دے دیا ۔ یہ انکوائری کمیشن سپریم کورٹ کے سابق جج مدن لوکور اورکلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج جیوترموئی بھٹاچاریہ پر مشتمل ہوگا  اور  مغربی بنگال میں فون ہیکنگ، ٹریکنگ اور فون ریکارڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کرےگا۔یہ کمیشن پتہ لگائے گا کہ جاسوس  کیسے کی گئی  اورعوام  کی آواز کو کیوں دبایا گیا؟  ممتا نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ  پیگاسس جاسوسی کی تحقیقات کے لئے مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری سے کنی کاٹ  رہی  ہے۔ممتا بنرجی نےالزام لگایا  کہ پیگاسس کے ذریعہ عدلیہ اور سول سوسائٹی سمیت ہر کوئی نگرانی میں ہے۔انہیں  توقع تھی کہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران مرکز سپریم کورٹ کی نگرانی میں تفتیش کا فیصلہ  کرے گا لیکن ایسا نہیں  ہوا ۔ فی الحال پیگاسس مرکزی  سرکار کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ وہ  ایوان پارلیمان میں اس پر  کسی صورت بحث نہیں کرنا چاہتی جبکہ حزب اختلاف کا اصرار ہے کہ اگر اس اہم موضوع پر گفتگو نہیں ہوتی تو ایوان کی کاروائی  چلنے نہیں دیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے دوہفتوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ سرکار بحث پر راضی ہوتی ہے حزب اختلاف مصالحت پر رضامند ی دکھاتا ہے؟  بقول غالب ؎

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں                                            ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا