راجا  رام کے مندر سے فقیرے رام  مندر کو خطرہ

National

راجا  رام کے مندر سے فقیرے رام  مندر کو خطرہ

ڈاکٹر سلیم خان

اتر پردیش  اسمبلی انتخابات  سیاسی پارہ جیسے جیسے چڑھتا جارہا ہے   قیاس آرائیوں کا آتش فشاں  نت نئے دھماکے کررہا ہے۔ 2017 میں چونکہ اکھلیش یادو  اپنے کاموں سے خوش فہمی کا شکار ہوگئے اس لیے بی جے پی کی  لاٹری لگ گئی  ۔ اس بار بی جے پی کی وہی حالت  ہے اور  وہ 403 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے خواب دیکھ رہی  ہے ۔ بی جے پی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے کاغذی شیر یوگی آدتیہ ناتھ ان کے ڈپٹی کیشوپرساد موریہ ،ڈاکٹر دنیش شرما اور بی جے پی ریاستی شاخ کے صدر سوتنتردیو سنگھ ودھان پریشد کے چور دروازے سے اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ کسی نے ہمت کرکے اسمبلی انتخاب جیتنے کی  جرأت  نہیں کی۔ ضمنی انتخاب میں یوگی اور موریہ اپنی لوک سبھا سیٹ بھی بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔   وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ  دونوں ڈپٹی سی ایم اور بی جے پی کے ریاستی صدر کی مدت کار ستمبر 2022 میں ختم ہوجائے گی  اس لیے ان کی خاطر  محفوظ اسمبلی  نشستوں کی تلاش جاری ہے۔

 

کسی پارٹی  کے سرکردہ  رہنما  اگراس طرح  عدم تحفظ کا شکار ہوجائیں تو  اس کے عام سیا ستدانوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔   رام نگری ایودھیا کے بی جے پی ایم ایل اے وید پرکاش گپتا  اس کی  جیتی جاگتی مثال  ہیں۔انہوں نے برضاو رغبت   یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے اپنی سیٹ خالی کرنے کی پیشکش کی ہے ۔ وہ  2017 سے انتظار میں ہیں۔انہوں نے 2017 میں کہا تھا  اگر یوگی  ایودھیا سے انتخاب لڑتے ہیں تو یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہوگی لیکن وزیر اعلیٰ   نے یہ  خطرہ مول نہیں لیا اور قانون ساز کونسل کے رکن بن گئے۔   بزدل  یوگی  کی پیروی ان کے نائبین نے بھی کی لیکن سوال یہ ہے کہ آخر گپتا جی خود ایودھیا نگری سے انتخاب لڑنا کیوں نہیں چاہتے؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رائے دہندگان کی خاطر کوئی ایسا فلاح بہبود کا کام نہیں کیا کہ جس کے نام پر ووٹ مانگ سکیں ۔ رام مندر کا چھلاوہ اب  بدعنوانی کا پنڈورا بکس بن چکا ہے اس لیے کوئی بی جے پی رہنما اس کا نام اپنی زبان پر لانے کی غلطی نہیں کرتا ۔ ایسے میں یوگی جی  کے لیے اپنا محفوظ  قلعہ گورکھپور چھوڑ کر ایودھیا  میں آنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔  

 

بی جے پی کے لیے فی الحال ایودھیا کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ پر پہلے تو عآپ کے  رکن پارلیمان سنجے سنگھ اور سماجوادی کےسابق رکن اسمبلی   پون پانڈے نے بدعنوانی کا الزام لگا  یا لیکن اب  مختلف پجاری اور دھرمادھیکاری بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔  رام مندر احاطہ سے ملحق قدیم فقیرے رام مندر کی زمین کو رام مندر ٹرسٹ نے 27 مارچ 2021 کو خریدا مگر اب  یہ معاملہ فیض آباد سول جج سینئر ڈویژن کورٹ تک پہنچ گیا ہےاور عدالت نے ملکیت کو فروخت کرنے والے رگھوور شرن کے ساتھ وزیر اعظم کے نامزد کردہ  رام مندر ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے کو بھی  نوٹس جاری کر جواب طلب کرلیا ہے۔ مذکورہ مقدمہ سنتوش دوبے اور سوامی اویمکتیشورانند نے داخل کیا ہے۔ اس میں رگھوور شرن کی ملکیت کے اختیار کو چیلنج کرنے اور  زمین کی رجسٹری رد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ  مندر کی زمین پر ریسیور مقرر کرنے، مندر کو نقصان نہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ مندر میں بھگوان کو روزانہ ’بھوگ راگ‘ جاری رکھنے کی بات  بھی کہی گئی ہے۔

 

سنگھ پریوار کے لوگ  اس مقدمہ کے پیروکار کو بابر کی اولاد کہہ کر اپنی سیاسی روٹیاں نہیں سینک سکتے  کیونکہ  اس کا مدعی   سنتوش دوبے بابری مسجد انہدام میں ملزم تھا۔  اس کا دعویٰ ہے کہ  رام مندر کے لیے میں نے اپنا بچپن سے لے کر جوانی لگا دی۔ میں نے چار گولیاں کھائیں، کئی ہڈیاں تڑوائیں۔ اس کا کہنا  ہے کہ شری رام جنم بھومی کے لیے جو 70؍ ایکڑ زمین کافی ہے۔ ایودھیا کے فقیرے رام مندرمیں بن باس  سے پہلے شری رام اور ماتا  سیتا، لکشمن جی نے اپنے کپڑے بدلے تھے۔  اس تاریخی مندر کو توڑنے سے بچانے کے لیے یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے یعنی کل تک جس طرح  مسلمان اپنی بابری  مسجد کے تحفظ کی خاطر لڑ رہے تھے اب ہندو اپنے مندر کو بچانے کی کوشش میں غرق  ہیں ۔ سنتوش دوبے نےالزام لگایا  کہ اس   نیم سرکاری ٹرسٹ میں بیٹھے بے لگام  لوگ پیسے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ رام نام کی لوٹ مچی ہوئی ہے، اس لیے عدالت سے رجوع کرنا اس کی   مجبوری  ہے۔

 

سنتوش دوبے نے تو عدالت کا رخ کیا مگر   ایودھیا میں تپسوی چھاؤنی کے مہنت پرم ہنس داس نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھ مارا۔ اس میں انہوں نے کئی اداروں پر رام مندر کے نام  سے موٹی رقم بٹورنے کا الزام لگا دیا۔ اپنے خط میں پرم ہنس نے جانکی گھاٹ کے مہنت جنمیجے شرن  کی مثال دے کر کے ایسے کئی دیگر اداروں پرشری رام کے بھکتوں کے ساتھ دھوکہ دہی کر نے کا الزام لگایا ۔ پرم ہنس نے اس خط کی نقل  صوبے کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ایودھیا کے ضلع مجسٹریٹ انوج کمار جھا کو بھی بھیج دی ہے۔ انھوں نے خط میں امیت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ سے درخواست کی ہے کہ  وہ ان اداروں کے ذریعہ جمع کی گئی رقم کو رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ میں جمع کروانے کویقینی بنائیں۔انھوں نے رام مندر کے نام پر ٹرسٹ بناکر  چندہ جمع کرنے والوں  کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا ۔  پرم ہنس نے  وشو ہندو پریشد کے  ٹرسٹ کی یاد تازہ کی  جس کے سربراہ مہنت نرتیہ گوپال داس تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر نیا  باضابطہ ٹرسٹ بناتو وہی لوگ  اب اس نئے  ٹرسٹ میں آ گئےگویا پرانی شراب نئے ساغرمیں پروس  دی گئی۔

 

1993 میں مندر تعمیر کو فروغ دینے اور اس کی دیکھ ریکھ کے لیے وی ایچ پی نے   شری رام جنم بھومی نیاس کے ذریعہ رام مندر کا چندہ  جمع کیا تھا ۔ مہنت پرم ہنس نےاس رقم کے بارے میں سوال کرنے کے بعد  کہا  کہ اس کا استعمال مندر تعمیر، اس کے پتھروں کو تراشنے کے کام اور مندر کی سیکورٹی کے کام پر ہونا تھا مگر اس معاملے کو پوری طرح لپیٹ دیا گیا اور اس چندے کا کوئی حساب کتاب عوام کے سامنے نہیں آیا ۔ پر م ہنس کے مطابق ایسی چیزیں سنتوں اور مہنتوں کی اعتباریت اوران  ارادوں کو مشکوک  کرتی ہیں ۔ اس لیے رام کے نام پر جمع شدہ رقم   رقوم کا مندر  کی تعمیر کے لیے استعمال کو یقینی  بنایا  جائے۔ اب ذرا تصور کریں کہ  اگر یہ سارے سنت مہنت یوگی جی کی مخالفت میں ترشول ٹھونک کر گلی گلی محلے انتخابی مہم کے اندر  کود پڑیں تو وزیر اعلیٰ کو دن دہاڑے تارے نظر آنے لگیں گے اور ان کا حال نندی گرام سے انتخاب ہارنے والی ممتا بنرجی سے بھی برا ہو جائےگا ۔

 

اقتدار سنبھالنے کے بعد  یوگی ادیتیہ ناتھ نے بڑے طمطراق  سے اعلان کیا تھا کہ وہ اترپردیش کوجرائم سے پاک کردیں گے۔ ان کے دور میں جرائم پیشہ افراد یا تو ریاست چھوڑ کر بھاگ جائیں گے یا پرلوک سدھاریں گے۔  ریاست میں انکاونٹر راج کو اس کا جواز بنایا گیا لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟  ا بھی حال میں مرکزی وزیر نتیانند رائے نے ایوانِ زیریں  میں جو  اعداد و شمار پیش کیے اور سرکاری  تحویل میں ہونے والی اموات کی تفصیلات   رکھیں تو یوگی کا دعویٰ ملیامیٹ ہو گیا۔ وزیر موصوف کے مطابق ملک بھر کی بات کی جائے تو2018-19کے دوران پولیس کی حراست  میں کل 136 جبکہ عدالتی تحویل میں 1797 اموات ہوئیں ۔ 2019-20کے دوران پولیس حراست میں مرنے والے لوگوں کی تعداد 112 جبکہ عدالتی تحویل میں ہوئی اموات کی 1564 رہیں۔ 2020-21کے دوران پولس حراست کے اندر اموات  میں کمی آئی اور  100 لوگ فوت  ہوئے مگر  عدالتی تحویل میں مرنے والے کی تعداد بڑھ کر 1840 ہوگئی اور ان  تینوں سالوں  کے دوران اموات کے معاملے میں  یوگی جی کا یوپی سرفہرست  رہا۔

 

اتر پردیش کے اندر 2018-19کے دوران پولیس  حراست میں کل 12 موت ہوئی جبکہ عدالتی تحویل میں یہ تعداد  452  تھی ۔ 2019-20کے دوران پولیس کی حراست میں مرنے والے لوگوں کی تعداد 3 جبکہ عدالتی تحویل میں ہوئی اموات کی 400 تھیں ۔ 2020-21کے دوران  ریاست کے پولیس تحویل میں 8 موتیں ہوئیں اور عدالتی حراست میں مرنے والوں کی تعداد 443 پرپہونچ گئی۔اس معاملے میں مغربی بنگال دوسرے نمبر پرہےاورپھر مدھیہ پردیش کے بعد بہار کا نمبر آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے نظم و نسق کے انحطاط میں پہلی چار ریاستوں  کی بات کی جائے تو تین این ڈی اے اوران میں سے  دو بی جے پی کی ہیں ۔ ایسے میں کیا ملک کے عوام اخبارات کے اشتہار اور رام مندر جیسے لالی پاپ سے بہل کر یوگی جی کو دوبارہ اقتدار سونپ دیں گے؟ اس سوال کا جواب بہت جلد مل جائے گا؟  اترپردیش کے عوام کو اگر مذہبی جذبات کے استحصال سے بچا لیا جائے تو وہ  بی جے پی  چنگل میں پھنس کر کمل کو ووٹ نہیں دیں گے  ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے ملک زادہ منظور کا ایک شعر معمولی ترمیم کے ساتھ یاد آتا ہے؎

خون بہانا اس کا شیوہ ہے تو سہی منظورؔ مگر              ہاتھ میں   اس کے کمل کھلا  ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے