مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے مقدمات کی طویل تاخیر کے ذریعے ملزمین کو گناہ قبول کرنے پر مجبور کررہی ہے:دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے سے جواب مانگا

National

مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے مقدمات کی طویل تاخیر کے ذریعے ملزمین کو گناہ قبول کرنے پر مجبور کررہی ہے

 

دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے سے جواب مانگا

ممبئی 30 جولائی(پریس ریلیز)دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت و این آئی اے کو جواب داخل کرنے کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا ہے، منظر امام کو این آئی اے نے ۲۰۱۳ ؁میں گرفتار کیا تھا جب کہ دیگر کئی ملزمین ۲۰۱۲ ؁سےاس مقدمے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں، اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے دی ہے۔ مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منظر امام نے رٹ پٹیشن داخل کرکے دہلی ہائی کورٹ سے گہار لگائی ہے کہ مقدمے میں وہ ۲۰۱۳ ؁سے جیل میں ہونے کے باوجود این آئی اے کورٹ نے ابھی تک الزامات بھی عائد نہیں کئے ہیں جب کہ مقدمے میں کل ۲۴ ملزمین کے خلاف ۳۶۹ گواہ ہیں جب کہ ۲۸۳ دستاویز ہیں جن کو ثابت کرنے کے لئے علیحدہ گواہ کی ضرورت ہوگی، الزامات میں سزا تقریبا پانچ سال قید کی ہے جب کہ مقدمہ مکمل ہونے میں ابھی کم سے کم دس سال مزید لگنے کا اندیشہ ہے، دہلی ہائی کورٹ میں منظر امام کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سپریم کورٹ کےسینئر وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ این آئی اے مقدمات میں تاخیر کرکے ملزمین کو ناکردہ گناہ قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۹ سے ۲۰۲۱ کے درمیان ۱۲ برسوں میں کسی ایک بھی مقدمے میں این آئی اے مقدمہ مکمل کرانے میں ناکام رہی ہے، منظر امام کی جانب سے جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی رہنمائی میں دہلی ہائی کورٹ میں سینئر وکیل سدھارتھ دوے کے ساتھ ایڈوکیٹ ابوبکرسباق اور ایڈوکیٹ کارتک مروکوٹلا پیش ہوئے۔ این آئی اے اسپیشل کورٹ میں منظر امام کو قانونی مدد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ العلماء مہاراشٹر کے صدر مولاناحافظ ندیم صدیقی صاحب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ العلماء بے گناہوں کو بلاتاخیر انصاف فراہم کرنے کےلیے پوری کوشش کرتی ہے اور ہائی کورٹ سے پوری امید ہے کہ انصاف کو  یقینی بنانے کے لیے موجودہ پٹیشن پر یقینا جلد فیصلہ کرکے این آئی اے کی سازش کو ناکام کریں گے