یومِ ٹیپو شہید

National
Youme Tipu Shaheed

یومِ ٹیپو شہید

محمد مشہود

 

پیدائش 20 نومبر 1750ء                                        شہادت 4 مئی 1799ء

 

افسوس ہے میں جنوبی ہند کا دورہ نظم پڑھنے کے لیے یا لکھنے کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔ مقصود تعلیم یافتہ مسلمانوں سے مل کر ان کی اسلامیت کا مشاہدہ کرنا ہے اور بعض اہم مذہبی مسائل پر لیکچرز دینا ہے ۔ یہی لیکچر ممکن ہے بعض ممالک اسلامیہ میں بھی دئیے جائیں ۔ شاعری کچھ مدت کے لیے ملتوی کی جا سکتی ہے۔ اس وقت زمانہ اور طرف بلا رہا ہے بنگلور حاضر ہوں گا۔ اس سے مقصود صرف سلطان شہید کے مقبرے کی زیارت ہے اور بس ۔

 

علامہ اقبال : مکتوب بنام محمد صالح انصاری بانی و سیکریٹری مسلم لائبریری بنگلور محررہ 8 دسمبر 1928ء

 

علامہ صاحب 11 جنوری 1929ء کو ٹیپو کے مزار پہ پہنچے۔ ڈاکٹر وحید عشرت اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں،

 

 "علامہ اقبال نہایت ہی عقیدت و احترام سے آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے۔ چبوترے کی سیڑھیوں پر اپنے جوتے اتارے اور دھڑکتے دل اور امڈتے جذبات کو سینے میں دبائے گنبد سلطانی کی شمالی دیوار کی طرف بڑھے اور ’’السلام علیکم یا اہل القبور ‘‘ کہہ کر سیاہ سنگ مرمر کی سنگین جالی پر نگاہ ڈالی تو سیاہ مر مر کے کتبے پر نہایت نفیس خط ثلث میں سفید مر مر کے بنے حروف میں یہ آیت قرآنی درج تھی۔

 

کل من علیھا فان و یبقیٰ وجہہ ربک ذوالجلال والاکرام ۔  (۲۷؍۲۶:۵۵)

 

آیت قرآنی کے نیچے نستعلیق خط میں یہ شعر کندہ تھا ۔

 

نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے

بدیں جانباز سلطانے کہ آمد شد چو مہمانے

 

یہاں سے علامہ اقبال مشرقی برآمدے کی طرف بڑھے تو شیشم کے خوبصورت اور منقش دروازے کی پیشانی پر نصب سیاہ مر مر کے کتبے پر کندہ اس رباعی پر نظر پڑی ۔

 

از فاطمہؓ زوجہ علیؓ شیر خدا

شد سبط نبیؐ سید شہداؓ پیدا

ایں فاطمہ زاد از علی حیدر

ٹیپو سلطان کہ گشت شاہ شہدا

 

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان کے والد کا نام حیدر علی تھا لیکن اس امر سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ سلطان کی والدہ کا نام بھی حسن اتفاق سے فاطمہ تھا۔ نواسہ رسولؐ شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کے جلیل القدر قابل صد احترام والدین حیدر کرار حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ اور جگر گوشۂ رسولؐ حضرت فاطمہؓ کے ناموں کی اس باہمی مناسبت نے حضرت علامہ کی طبیعت پر گہرا اثر کیا اور یہی حالت آپ کے تمام رفقائے سفر کی بھی تھی ۔ سب پر سکتہ طاری تھا ۔ کسی کو اندر داخل ہونے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ علامہ نے اپنے قدم جنوبی دروازے کی طرف بڑھائے تو سب نے آپ کی پیروی کی۔ یہاں پہنچے تو دروازے کی پیشانی پر یہ رباعی کندہ تھی :

 

در ملک حجاز از علی حیدرؓ

مفتوح شدہ ہفت قلاع خیبر

زیں حیدر دکنی دوّل کرناٹک

گشتند مطیع یک خدیو کشور

 

حضرت علامہ نے کچھ دیر گرد و نواح پر ایک حسرت بھری نظر ڈالی اور پھر اسی دروازے سے گنبد کے اندر داخل ہو گئے۔ آپ کے پیچھے پیچھے دیگر تمام احباب بھی گنبد میں داخل ہوگئے ۔ علامہ نے گنبد کے اندر داخل ہو کر اوّلاً قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی ۔

 

ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات ۚ بل أحياء ولكن لا تشعرون (۱۵۴:۲)

 

ترجمہ : اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا ۔

 

 فاتحہ خوانی کے بعد ان ہی کیفیات کے زیر اثر علامہ اقبال اور ان کے رفقائے سفر مسجد اقصیٰ اور گنبد سلطانی کے درمیان واقع برآمدے میں آ کر چپ چاپ بیٹھ گئے ۔ یہاں علامہ اقبال کی جو حالت تھی اس کا نقشہ مدیر الکلام ، کلیم الملک سید غوث محی الدین نے جو اس سفر میں دیگر عمائدین شہر کے ساتھ شریک تھے، حسب ذیل الفاظ میں کھینچا ہے جو بالاختصار درج ذیل کئے جاتے ہیں :

 

فاتحہ خوانی کے بعد ہم سب مسجد میں آئے جو گنبد کے پاس واقع ہے۔ یہاں دکن کے مشہور و معروف خوشنوا مطرب جناب علی جان صاحب نے شیر میسور نواب ٹیپو سلطان خلد آشیاں کی شان میں ایک بہترین نظم خوش الحانی کے ساتھ پڑھی جو سوز و گداز اور درد دل کے جذبات سے بھری ہوئی تھی۔

 

دوپہر کا وقت تھا ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ سامنے گنبد حضرت ٹیپو سلطان شہید واقع تھا اور نگاہیں بار بار ادھر دوڑ کر اس کے صدقے ہوا کرتی تھیں۔ جس وقت علی جان صاحب نظم پڑھ رہے تھے علامہ اقبال پر ایک رقّت کا عالم طاری تھا ۔ کبھی آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور آنکھیں خون کبوتر کی طرح لال ہو جاتی تھیں اور کبھی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو جاتا تھا ۔ اس نظم کے اختتام کے بعد جناب نواب غلام احمد کلامی صاحب نے علی جان صاحب سے ایک اور نظم پڑھنے کی فرمائش کی ۔ جناب علی جان صاحب نے نہایت پر درد اور سوز وگداز آواز میں علامہ سر محمد اقبالؒ کے یہ اشعار پڑھے ۔

 

نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری

خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

 

آخر کار علامہ اقبال تقریباً ڈھائی بجے مراقبہ کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے تھے ۔ اس موقع پر مسجد اقصیٰ کے صحن میں بنگلور، میسور اور دیگر مقامات کے سینکڑوں افراد موجود تھے ۔ میسور کے مشہور و معروف قومی کار کن اور تاجر پارچہ محمد ابا سیٹھ (سابق ریاستی وزیر عزیز سیٹھ صاحب کے تایا) نے پوچھا ’’حضرت ! آپ نے اتنی دیر جو مراقبہ فرمایا اس دوران میں سلطان شہید نے آپ کو کوئی پیغام بھی قوم کے نام دیا ہے‘‘۔

 

علامہ اقبال نے ارشاد فرمایا ’’ہاں! مجھے بہت سے پیغامات ملے ہیں جن میں سے ایک پیغام کا فارسی شعر مراقبہ کے دوران ہی بن گیا جو یہ ہے ۔

 

در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست

ہم چوں مرداں جاں سپر دن زند گیست

 

یہ شعر اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کے ایک مصاحب خاص نے شہادت سے کچھ دیر قبل یہ مشورہ دیا کہ وہ خود کو انگریزوں کے حوالے کر دیں تو انہوں نے فوراً جواب دیا ’’گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ‘‘۔

 

بعد ازاں چار اور شعر بھی موزوں ہو گئے جو حضرت علامہ کے انتہائی ذاتی تاثرات پر مبنی تھے اور ان کے کسی مجموعہ کلام میں شامل نہیں۔ بشیر احمد ڈار نے انوار اقبال میں بخط اقبال ان اشعار کی فوٹو کاپی صفحہ نمبر ۲۲۹ پر شائع کی ہے۔

 

پیغام شہید

حضرت ٹیپوؒ سلطان شہید

آتشے درد دل دگر بر کردہ ام

داستانی از دکن آوردہ ام

در کنارم خنجر آئینہ فام

می کشم او را بتدریج از نیام

نکتہ گویم ز سلطان شہید

زاں کہ ترسم تلخ گرد روز عید

پیشتر رفتم کہ بوسم خاک او

تاشنیدم از مزار پاک او

درجہاں نتواں اگر مردانہ زیست

ہم چو مرداں جاں سپردن زند گیست

 

’’ترجمہ: دکن سے میں ایک داستان لایا ہوں جس نے میرے دل میں آگ بھڑکا دی ہے ۔ میرے پہلو میں ایک چمکدار خنجر ہے جسے میں آہستہ آہستہ نیام سے نکال رہا ہوں۔ سلطان شہید کا ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں عید کی خوشیوں میں تلخیاں نہ پیدا ہو جائیں۔ میں ان کی خاک کو بوسہ دینے کے لیے پہنچا تو ان کے مزار پاک سے یہ آواز آئی کہ اگر دنیا میں مردانہ وار جینا میسر نہ ہو تو مردوں کی طرح جان دے دینا ہی زندگی ہے‘‘۔