اُردو کے منفرد افسانہ نگارصحافی سوانح نگار اور ادیب رتن سنگھ انتقال کر گئے

National

اُردو کے منفرد افسانہ نگارصحافی سوانح نگار اور ادیب رتن سنگھ انتقال کر گئے

احمد سہیل

 

" اُردو کے منفرد افسانہ نگارصحافی سوانح نگار اور ادیب رتن سنگھ گزشتہ شب دو بجے نوئیڈا {بھارت}میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے"

قضا نے ایک بہتریں افسانہ نگار چھیں لیا۔ 1990 نئی دہلی میں ایک افسانہ سیمنار میں رتن سنگھ سے ملاقات ہوئی تھی ۔ کم گو انسان تھےان کو اردو افسانے کی انکو بہت سمجھ تھی ۔ بہتریں نثر لکھتے تھے۔

رتن سنگھ { آمد: 15 نومبر1927 ۔ رخصت 2 مئی ۔2021 }پنجاب کی تحصیل ’ ناروال‘ { گجرانولہ} کے ایک گاؤں’’ داود‘ میں پیدا ہوئے تھے۔  رتن سنگھ کے والد کا  نام سردار پرتاپ سنگھ تھا اور والدہ کرتار کور تھیں۔ ان کے دادا کا نام نرنجن سنگھ تھا۔ ان کی بیوی کا نام رکھبیر کورہے۔  تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کرکے ہندستان آگئے۔

رتن سنگھ نے ڈیرا بابا نانک سے ثانوی تعلیم مکمل کی انھوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے 1955 میں لکھنا شروع کیا ۔ ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے وہ معروف و مشہورہی نہیں ہوئے ایک وقار بھی انھیں نصیب ہوا۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب’’ در بدری‘‘(1986) جبکہ ’’ بیتے ہوئے دن‘‘2005 میں منظر عام پر آئی تھی۔ جبکہ ان کی دیگر کتابوں کے نام اس طرح ہیں : کاٹھ کا گھوڑا، ہڈ بیتی، پنجرے کا آدمی،پناہ گاہ، مانک موتی کے علاوہ انہوں نے مشہور صوفی بزرگ ’’ حضرت وارث شاہ‘‘ کا مونو گراف بھی مرتب کیا جو دہلی اُردو اکادیمی نے شائع کیا تھا۔ رتن سنگھ روزنامہ آفتاب کے مدیر رہ چکے ہیں۔ 1955ء میں رتن سنگھ تحریری دنیا وابستہ ہوئے۔

ایک نشت میں رتن سنگھ نے ایک سے ایک بہترین قصے سنائے جن سے تقریباً گزشتہ پون صدی کا افسانوی منظر نامہ ہمارے سامنے آگیا۔ انھوں نے کہا کہ "اردو افسانہ مشکل دور سے گزر رہا ہے۔کہانی لکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے نئی نسل کو افسانہ لکھنے کی رفتاربڑھانی چاہیے ، تاکہ مشق کے دوران اچھے افسانے بھی سامنے آئےں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ پروفیسر محمد حسن مجھ سے ہمیشہ پوچھتے تھے کہ کیا لکھا۔ اگر میں جواب دیتاکہ کچھ نہیں تو وہ کہتے تھے کہ پڑھنا شروع کردیں۔ کیوں کہ پڑھنا خوراک ہے ۔ پڑھنے کے بعد لکھنے کے لیے خود راہ ہموار ہوتی جاتی ہے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ادب کو وقت کی آواز بنا نے کے لیے فن کاری ضروری ہے" کچھ دن قبل لاہور کے ایک اخبارمیں یہ خبر شائع ہوئی تھی " انارکلی بازار میں نامور مصنف رتن سنگھ کی رہائش گاہ کو گارمنٹس کی دکان میں تبدیل کردیا گیا ۔ " رتن سنگھ دا کھو لا " نامی یہ تاریخی عمارت ،انتظامیہ کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت بنی ہوئی ہے ۔ یہ ہے تاریخی ورثہ ، رتن سنگھ دا کھولا ۔ جو انتظامیہ کی لاپرواہی سے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔ تاریخی عمارت میں گارمنٹس کی دکان قائم کردی گئی ۔ جس سے طرز تعمیر کا یہ شاہکار ملبوسات کے اوٹ میں چھپ گیا ہے ۔ عمارت کی تاریخی حیثیت سے آگاہ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سب حکام کی لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہے ۔ رتن سنگھ کا تعلق ناروال سے تھا ان کی شاعری اور افسانہ نگاری کی بدولت انہیں ادب کی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ان کی کتابیں "پنجرے کا آدمی " اور کاٹھ کا گھوڑا کو بہت پذیرائی ملی ۔ شاعر اور افسانہ نگار کی بیٹھک کی جگہ ادب پروری کی آماجگاہ ہونی چاہیے ۔ مگر یہ جگہ مادہ پرستی کی لپیٹ میں آچکی ہے ۔ تاریخی ورثہ کی حامل یہ عمارت انتظامیہ کی توجہ کی اشد منتظر ہے" ۔{ لاہور نیوز۔ 14 نومبر 2018}

"بلا عنوان" – کی سرخی سے رتن سنگھ کی یہ  خوب صورت  تحریر دیکھیں :

میں گہری نیند سورہا تھا۔

اتنے میں ٹوبہ ٹیک میرے پاس آیا اور بولا ’’منٹو صاحب نے عرش سے آپ کے لئے یہ قلم بھیجا ہے۔

ابھی میں ایک خوبصورت قلم مل جانے پر خوش ہو رہا تھا کہ اپنے سامنے ایک حبشی کو کھڑا پایا۔

جی جوگندر پال صاحب نے فرش سے آپ کے لئے روشنائی بھیجی ہے۔

میں نے روشنائی لے کر اپنے پاس رکھ لی۔

صبح جب نیند کھلی تو میری ہتھیلی پر ’’مانک موتی‘‘ چمک رہے تھے۔

’’ایک چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے محلے کی ایک تنگ سی گلی میں کسی چھوٹی سی بات پر دو فرقوں کے درمیان فساد ہو گیا۔ آگ ایسی لگی ، اتنی پھیلی کہ ایک بڑا ملک برباد ہو گیا۔‘‘

’’برلن کی دیوار ٹوٹنے پر مشرقی جرمنی میں رہ رہا ایک ہندوستانی ، مغربی جرمنی میں رہ رہے پاکستانی سے اس جوش سے بغل گیر ہوا جیسے ان کے اپنے ملکوں کو تقسیم کرنے والی واہگھے کی دیوار ٹوٹ گئی ہو۔‘‘

’’جب میں خیمہ گاڑ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی جو میرے باپ سا لگتا تھا ، اپنا خیمہ اکھاڑ رہا تھا اور جب میں کوچ کی تیاریاں کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک لڑکا جو میرے بیٹے سے لگتا تھا اپنا خیمہ ایسی مضبوطی سے گاڑ رہا تھا جیسے وہ یہاں ہمیشہ کے لئے رہنے کے لئے آیا ہو۔‘‘

’’ایک دن اپنے آپ سے لڑتے ہوئے مجھے احسا س ہوا کہ میں خود ہی اپنا سب سے بڑا دشمن ہوں۔ اسی طرح ایک دن شانت چت بیٹھے بیٹھے یہ احساس ہوا کہ میں خود ہی اپنا سب سے اچھا دوست بھی ہوں۔ ایک دن خیالوں کی دنیا آباد تھی تو ایسے لگا جیسے ساری دنیا ساری کائنات میرے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ دوسرے دن جب ذہن بالکل خالی تھا اور کوئی بات نہیں سوجھ رہی تھی تو میں نے خود کو بے حد تنہا محسوس کیا۔‘‘

’’ہنستے ناچتے خوشیاں مناتے ایک ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ایک بھکارن نے اپنے تین چار سال کے بچے کو جلدی سے گود میں اٹھا لیا اور ایسی آڑ میں لے گئی جہاں سے بچہ ان رنگ رلیاں منانے والوں کو نہ دیکھ سکے ’نا بابا نا، وہ بڑبڑاتے جا رہی تھی۔

’’میرے ننگے بھوکے بچے نے اگر ہنسنا سیکھ لیا تو کل کو اسے بھیک کون دے گا۔‘‘

’’دو بڑی طاقتوں کے بحری بیڑے سمندر میں ایسی جگہ پر لنگر ڈالے پڑے تھے جہاں ان کے بیچ ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا۔ کسی سوال کو لے کر دونوں بڑی طاقتوں کے مقاصد ٹکرا گئے۔ بڑی طاقتوں کا تو کوئی نقصان نہ ہوا ، ہاں وہ چھوٹا سا جزیرہ مفت میں مارا گیا"۔۔۔۔

 وہ ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے رنگ اپنی تحریروں میں رکھتے تھے۔ انہوں نے حسب ذیل افسانوی مجموعے لکھے ہیں:

پہلی آواز 1969ء

پنجرے کا آدمی 1973ء

کاٹھ کا گھوڑا 1993ء

پناہ گاہ 2000ء

رتن سنگھ اڑن کھٹولا اور سانسوں کا سنگیت نام سے دو ناولٹ لکھے ہیں۔

انہوں نے اپنی سوانح در بدری کے عنوان سے شائع کی۔

اس کے علاوہ وہ شاعرانہ ذوق بھی رکھتے ہیں۔ان کو اردو کے بے شمار اشعار یاد تھے۔

آج صبح رتن سنگھ کے آخری رسوم ادا کر دیے گئے۔ ان کی اولادوں میں دو بیٹیاں سیتا رانی، کنچن کور کے ساتھ دو بیٹے پدم جیت سنگھ اور راجندر سنگھ ہیں۔  انتقال کے وقت رتن سنگھ  کی عمر 94 تھی۔

 

احمد سہیل