بے گناہوںکو رہا کرانا اور انہیں انصاف دلانا ہمارا بنیادی مقصدہے

National

بے گناہوںکو رہا کرانا اور انہیں انصاف دلانا ہمارا بنیادی مقصدہے

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی سے خصوصی بات چیت

 

اردو نیوز ممبئی کے ایڈیٹر شکیل رشید نے جمعیت العلماء مہاراشٹر کے صدر محترم مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی کا انٹرویو لیا ہے جو اہم نکات پر مشتمل ہیں اسے ہم قارئین تعمیر کی خدمت میں اردو نیوز اور شکیل رشید کے شکریہ کے ساتھ پیش کررہے ہیں

 

اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ جمعیۃ علما مہاراشٹر کے صدر حافظ ندیم صدیقی کا وہ کون سا کارنامہ ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا، تو میرا جواب ہوگا ’دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں پھنسائے گئے نوجوانوں کی مقدمات میں پیروی‘۔ ایک وقت وہ تھا جب مسلم نوجوان دہشت گردی کے معاملات میں ملوث کیے جاتے تھے اور کوئی ان کی خیر خبر لینے کو تیار نہیں ہوتا تھا لیکن جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے مسلم نوجوانوں کے مقدمے لڑنے شروع کیے، ان پر لگے الزامات کو چیلنج کرناشروع کیا اور حکومت وقت کے سامنے سوالات رکھنے لگے، نتیجہ یہ ہوا کہ ایک جانب بے قصوروں کی گرفتاریوں پر روک لگی، مقدموں سے بے گناہ بری ہوئے۔ اور دوسری جانب پولس ، ایجنسیوں اور سیاست دانوں کے مکروہ چہرے سامنے آئے۔ حافظ ندیم صدیقی حکومت اورپولس سے سوال کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ حافظ ندیم صدیقی کو ہمیشہ لوگوں نے چلتے ہی دیکھا ہے، آج ممبئی میں تو کل بیڑ اور پرسوں اورنگ آباد، کہیں گرفتار شدگان کے اہل خانہ کا غم بانٹ رہے ہیں، کہیں سوکھے کی وجہ سے پانی کے لیے پریشان حالوں کو پانی پہنچا رہے ہیں اور کہیں آفات کے دوران لوگوں کی امداد میں لگے ہیں۔ یہ سب کام کیسے ممکن ہوپاتےہیں؟ یہ اہم سوال ہے۔ حافظ ندیم صدیقی درج ذیل انٹرویو میں مذکورہ سوال کے ساتھ کئی اہم سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

( شکیل رشید)

 

سوال: دہشت گر دی کے الزام میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے مسلمانوں کے مقدمات آپ کن بنیادوں پر لڑ رہے ہیں، جب کہ ملک کی بیشتر ایجنسیاں اس بات کی دعویدار ہیںکہ ا ن کی گرفتاریاںدہشت گردانہ وارداتوں میں ملوث اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہوئی ہیں ؟

جواب: ایسا با لکل نہیں ہے ۔یہ تمام گرفتاریاں اس مفروضے کی بنیاد پر ہوئی ہیں یا ہورہی ہیں کہ مسلمان دہشت گردی کے حمایتی ہوتے ہیں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔’ہوتے ہیں‘ اور ’ہیں‘میں بڑا فرق ہے۔ ایجنسیاں اسی مفروضے کی بنیاد پر مسلم نوجوانو ں کو نشانہ بناتی ہیں اور ان پر ایسے ایسے دفعات کے تحت مقدمات درج کرتی ہیں کہ جن کی قانونی پیروی نہایت پیچیدہ عمل ہوجاتا ہے اور اس عمل میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ بالآخر یہی نوجوان جنہیں دہشت گردانہ وارداتوں کا ماسٹر مائنڈ بناکر پیش کیا جاتا ہے ، عدالتوں میں وہ بے قصور ثابت ہوجاتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں ایجنسیوں کے دعوے عدالت میں فکشن ثابت ہوئے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتاتاچلوں کہ آج تک جتنے بھی مسلمان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں، وہ تمام کے تمام محض عصبیت، شک، کسی ملزم یا مجرم سے تعلق وشناشائی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومتی وخفیہ اداروں کی منصوبہ بندی کے تحت گرفتار ہوئے ہیں۔

 

سوال: جمعیۃ علماء مہاراشٹر بے قصور ملز مین کے مقدمات کن کی نگرانی ،سر پرستی ،اور تعاون سے عدالتوں میں لڑ تی ہے ؟

جواب ظاہر سی بات ہے ہمارے پاس اتنے وسائل تو ہیں نہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر ان تمام مقدمات جو پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کی پیروی کرسکیں۔ اس کے لئے ہمیںلامحالہ قوم وملت کے بہی خواہوں کی سمت ہی دیکھنا پڑتا ہے۔ ویسے جمعیۃ علماء مہا راشٹر ،جمعیۃ علماء ہند کی نگرانی اورامیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب( صدر جمعیۃ علماء ہند) ، قائد ملت حصرت مولانا سید محمود اسعد مدنی( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند) کی سر پرستی او رمخیرمسلمانوں کے مخلصانہ تعاون سے بے گناہ محروس مسلمانوں کے مقدمات لڑتی ہے ۔اس وقت جمعیۃ علماء سینکڑوں بے گناہ نو جوانوں کے 160؍ مقدمات کی پیروی کر رہی ہے،الحمد اللہ 44؍ نو جوانوں کی ضمانت اور 99 لوگوں کی باعزت طریقے پر رہائی عمل میں آئی ہے، لاک ڈائون کی وجہ سے جمعیۃ علمامہا راشٹر کی فراہم مالیہ نہیں ہو سکی تھی ،جب کہ عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کا سلسلہ حسب معمول جاری رہا ، جس میں لاکھوں روپئے خرچ ہوئے ہیں، اور جماعت اس وقت مقروض ہو چکی ہے۔

 

سوال : کیا جمعیۃ علماء دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ تمام ملز مین کی پیروی کر تی ہے ؟

جواب: جی نہیں۔ہم اپنے ذرائع وسائل سے مقدمات کی نوعیت اور ملز مین کے احوال و کوائف کا پتہ لگاتے ہیں ،جب ہمیں یقین ہو جا تا ہے کہ ملزم بے قصور ہے تو ہم اس کے مقدمے کی پیروی کر تے ہیں۔ایسے بہت سے مسلم نو جوان ہیںجنہیں دہشت گر دی، اورفرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر فر ضی معاملات میں پھنسایا اور ملوث کیا گیا ہے، اور انہیںگرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے ، پھران پر بعد میں سازش کے تحت دہشت گردانہ معاملات درج کر دیئے گئے ہیں ،جمعیۃ علماء ایسے ملز مین کی پیروی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ انڈونیشاء سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ 12 جنہیں لاک ڈائون لگتے ہی نوی ممبئی سے گرفتار کر لیا تھا اور مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ،جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں باندرہ خصوصی عدالت نےان پر لگائے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے  ہوئے29 ؍ ستمبر 2020 کوباعزت بری کردیا ہے ،اس سے جماعت کے ساتھیوں کو بڑی راحت ملی۔

 

سوال: مولانا صاحب چونکہ آپ کی شناخت بلکہ یوں کہیں کہ جمعیۃ علماء کی ہی شناخت فسادات،سیلاب و آتش زدگان متاثرین کی بازآبادکاری وامداد کی بھی رہی ہے، اس لئے سب سے پہلے ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کو لھا پور سانگلی سیلاب ،کوکن کے نسرگ طوفان ، لاک ڈائون کے در میان ضرورت مندوں ،طلباء مدارس اور تبلیغی جماعت کے تئیں جمعیۃ علماء ہند نے کیا کردار ادا کیا؟

 جواب : کولھا پور ،سانگلی کے قیامت خیز سیلاب میں اجڑے ہوئے لاکھوں خاندانوں کی اشیاء خورد و نوش کے ذریعہ امداد کی گئی ،انہیں محفوظ مقامات پر پہونچایا گیا ،مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا ،نقصانا ت کا سروے اور پنچنامہ کرایا گیا ، چھوٹے تاجروں کے درمیان پانچ سو زائد ٹھیلہ گاڑیاں تقسیم کی گئیں ،۔پونہ کے امبیڈکر وساہت پروتی درشن تباہ حال خاندانوں کے درمیان جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جانب سے اینگل پترے کے ذریعہ تیار کردہ مکانات تقسیم کئے گئے ، سی اے اے ،این آر سی مخالف صوبے بھر میں پروگرام منعقد کئے گئے ۔ایسے ہی بھنڈارہ کے سیلاب زدگان کی امداد و باز آباد کاری گئی،ان تمام سیلاب زدگان کی اشیاء ضروریہ ،کپڑے ،پکوان کے برتن و دیگر ضروریات زندگی کے ذریعہ امداد کی گئی۔ کوکن میں آئے بھانک نسرگ طوفان متاثرین کی امداد کی گئی،متاثرہ مکانات کی مرمت اور درستگی کے لئے کویلو ،پترے و دیگر درکار اشیاء مہیا کرائی گئیں ۔

اچانک لاک ڈائون کی وجہ سے مہارشٹر کی کئی جماعتیں دوسرے صوبوں میں ایسے ہی ملک کے مختلف صوبوں کی جماعتیں مہاراشٹر کے اضلاع میں پھنسی ہوئی تھیں ،جماعت کے ذمہ داروں کی درخواست پر جمعیۃ علماء نے ضلع کلکٹر ،ایس پی و دیگر اعلی افسران سے بات چیت کرکے مہا راشٹر میں پھنسی ہوئی جماعتوں کو ان کے مقام تک پہونچایا اور مہا راشٹر کے جن اضلاع کی جماعتیں ملک بھر پھنسی ہوئی تھیں انہیں ان مقامات سے واپس بلایا ،کئی جگہوں پر جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں نے گاڑیوں وغیرہ کا بھی انتظام کیا ،ایسے ہی مدارس دینیہ کے پھنسے ہوئے طلباء کو ان کے گھروں تک پہونچانے کے لئے بھر پور جدو جہد کیا اور سب کو بعافیت ان کے وطن تک پہونچایا ۔ اسی طرح کووڈ 19 سے متاثر ہو کر مرنے والوں کی تجہیز وتکفین باضابطہ انتظامیہ سے اجازت لے کر کی گئی اور یہ کام شولاپور ،ناگپور ، امرواتی ،رتناگیری ،عثمان آباد ،اورنگ آباد ،اکولہ ودیگر کئی مقامات پر مقامی جمعیۃ علماء کے خدام انجام دے رہے ہیں۔ 

 

سوال: عالمی وباء کرونا کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے ملک بھر میںلگائے گئے لاک ڈائون کے موقع پر ضرورت مندوں  کی امداد کرنے کے سلسلے میں جمعیۃ علماء کا نام سامنے آتا رہتا ہے ،جمعیۃ علماء کی جا نب سے کن کن علاقوں میںاشیاء ضروریہ کے ذریعہ امداد کی گئی 

جواب: لاک ڈون کے موقع پر جب کہ تمام تر سرگرمیاں بندتھیں، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی نگرانی میں ممبئی ومضافات سمیت ریاست کےتمام اضلاع اور تعلقوں میں ضلعی شہر ی اور تعلقہ جمعیتوں کی جانب سےیومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، غرباء ،مسافرین ، بیوائیں پریشان حال لوگوں اور ضرورت مندوںکے لئے بڑی تعداد میں کھانے پینے نظم کیا گیا۔ ایسے ہی لاکھوں مستحقین کے درمیان راشن کٹس تقسیم کئے گئے،خاص طورپرممبئی اندھیری ، ، میرا روڈ،مالونی ،گوونڈی ،منڈالہ ومضافات،سمیت علاقہ کوکن رائے گڑھ،رتناگری،راجہ پور، کدال سندھودرگ، جالنہ، جعفرآباد، پیٹھن، اورنگ آباد،میرج، اوسہ، لاتور، اودگیر، کنوٹ، ناندیڑ، پربھنی، پاتھری، بیڑ، پاتوڑ، دھولیہ، مالیگاؤں، نندوربار، اکل واں، کولھاپور، شولاپور، سانگلی، تاسگاؤں، ستارہ،  ودربھ کے سونوری،  مرتضیٰ پور،اکولہ ،امراوتی، پوسد، ایوت محل ودیگر اضلاع اور تعلقوں میں اشیاء خوردونوش پر مشتمل لاکھوں راشن کٹس بلا تفریق مذہب وملت مسلم وغیر مسلم خاندانوں میں تقسیم کی گئیں جس میں کئی کروڑ روپئے خرچ ہوئے۔

 

سوال : کیا جمعیۃ علماء کسانوں مزدوروں و دیگر پسماندہ طبقات کے لئے بھی کوشش کر تی ہے ۔؟

جواب : اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جمعیۃ علماء بلا لحاظ مذہب و ملت دبے کچلے لوگوں کے لئے آواز اٹھاتی رہتی ہے اور ان کے حقوق دلانے اور مدد کرنے کی کو شش کر تی ہے مثلا ابھی سال رواں جب مر کزی حکومت نے کسانوں کے مفاد کے خلاف بل منظور کیا اور کسان اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے اور احتجاج کرنے لگے اور بل واپسی کا مطالبہ کرنے لگے تو جمعیۃ علماء مہا راشٹرنہ صرف اس کی تائید و حمایت کا اعلان کیا بلکہ ناسک اور مضا فات کے کسان جو دہلی ہڑتال میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے تھے، راستے میں ان کا استقبال کرتے ہوئے کھانے پینے کا انتظام کیا،احتجاج میں شا مل کسانوں کے در میان پانی ، بسکٹ ،فروٹی ،کھارے،اور کھانے پینے کے دیگر اشیاء تقسیم کی گئیں۔

ہم نے سی اے اے، این آر سی بیداری مہم بھی چلائی ہے اور مسلمانوں کےلیے  ریزرویشن کی تحریک بھی زورشور سے چلارہے ہیں۔

 

سوال : جمعیۃ علماء مذکورہ امور کے علاوہ مزید کن معاملات کو فو قیت دے رہی ہے ؟

جواب : ۔ جمعیۃ علماء اپنے قومی قائدین کی نگرانی میںبے قصور مسلمانوں کے مقدمات کی پیر وی کے علاوہ ملک و ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے سر گرداں ہے آفت نا گہانی سے لیکر تعلیمی میدان میں نو جوانوں کی رہنمائی اور اعانت، فرقہ وارانہ فساد میں امداد و راحت رسانی سے لیکر بے جا گرفتاریوں میں مظلومین کی قانونی امداد اور بازآباد کاری تک جمعیۃ ہر میدان میں سر گرم عمل ہے۔سال رواں عید الاضحی کے موقع پر شر پسندوں کی جا نب سے جانوروں کی گا ڑیاں روک کر ا ن کے ساتھ زیادتی کرنے ،فرقہ وارانہ ما حول کو پر امن بنانے ،ریاست مہا راشٹر کے مختلف اضلاع رائے گڑھ ،رتنا گیری و دیگر مقامات پر واقع مدارس اور مساجد میںپولیس کی خفیہ انکوائری کے خلاف اعلی آفیسران سے نمائندگی کرکے غیر قانونی انکوائری کو روکنے اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ،جس سے اہل مدارس اور مدارس کے ذمہ داروں کو کافی راحت ملی۔