نوجوانوں پر دوہری ذمّہ داری: تحفّظِ صحت و بقائے جمہوریت!

Education

 

نوجوانوں پر دوہری ذمّہ داری: تحفّظِ صحت و بقائے جمہوریت!

راہ نما: مبارک کاپڑی

          

  ہر معاشرے کو حکومت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بے لگام نہ ہوجائے۔ البتّہ جب حکومت بے لگام ہوجائے تب؟ نوجوانوں کو بقائے جمہوریت وانسانیت کے لیے کلاس روم اور آن لائن کلاس سے ہٹ کر اپنی ذمّہ داری نبھانی ہے۔

                        کورونا کی تیسری  لہر نے سب کو چونکا دیا ہے اس لیے کہ یہ لہر نوجوانوں کو بھی متاثّر کر رہی ہے۔عمر رسیدہ اور ضعیف لوگوں کو تو ہم بچا نہیں پارہے ہیں، اگر نوجوان و بچّے بھی اس کا شکار ہوتے گئے تو یہ کتنا بڑا المیہ ہوگا؟ ہم اسی حوالے سے آج طلبہ و نوجوانوں سے مخاطب ہیں کہ نئی نسل کی جسمانی و ذہنی صحت مندی ہرقوم کا اثاثہ ہے۔

            دوستو! پچھلے وقتوں میں اسکول کی سطح پر ایک مضمون ہوا کرتا تھا’شہریت‘۔ شاطر سیاست دانوں نے اُس کا نام اور ہئیت تبدیل کردی اور اُسے ’سیاسی سائنس‘ کا نام دے دیا۔ ’شہریت‘ میں اچھے شہری کے حقوق، فرائض وغیرہ کے درس ہوا کرتے تھے۔ ’سیاسی سائنس‘میں تو سرکاری ماہرینِ تعلیم نے سیاسی پارٹیوں کے الیکشن نشان اور اُن کے منشور تک پڑھانا شروع کردئیے۔ یہ اُن کی سیاسی ’ذہن سازی‘ صرف اس لیے کہ بارہویں پاس ہوتے ہی نوجوانوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ وہ سارے ووٹ اُن کی جھولی میں آنے چاہئیے۔ ہرجمہوریت میں کسی کو جو سب سے بڑا حق حاصل ہے وہ ہے ووٹ دینے کا حق۔ دوستو! آپ کو ہر دم، ہر پل بیدار رہنا ہے کہ آپ کا سب سے قیمتی حق سیاسی گِدھ اُچک نہ لے جائیں۔ کالج کی سطح پر ’پالٹیکل سائنس‘ مضمون کے ساتھ گریجویشن /پی جی کرنے والے طلبہ چند ہزار یا لاکھ ہوں گے البتّہ دیگر سینکڑوں مضامین کے ساتھ یونیورسٹی تعلیم پوری کرنے والے طلبہ بھی سیاست کے پیچ و خم اور سیاست دانوں کی بازی گری سے بخوبی واقف ہونے چاہئیے اس لیے بھی کہ سوِل سروسیس کے ہر سطح کے امتحان میں بھی حالاتِ حاضرہ و انتظامیہ سے بھرپور واقفیت ہونی ضروری ہے۔ ورنہ دیہاڑی مزدوروں،معصوم کسانوں کی طرح کروڑوں نوجوانوں کو بھی بے وقوف بنانے میں سیاست داں کامیاب نہ ہوجائیں۔

            دوستو! کورونا وائرس نے سب سے زیادہ اس ملک کی معاشی اور معاشرتی زندگی کو زیر و زبر کردیا ہے۔ ایک انتشار ہے، ایک خلفشار ہے جس نے سارے ملک کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ دراصل یہ ہر معاشرہ، ہرقوم اور ہر ملک کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ قوموں کا مقدّر طے کرنے میں سب سے بنیادی کردار ادا کرنے کی ذمّہ داری سیاست دانوں کو سونپی جاتی ہے، اور پھر یہ سیاست داں اپنی ساری کوتاہیوں کوسِسٹم، حالات وغیرہ کا نام دے کر سارے ملک کو بے وقوف بناتے ہیں۔ہمارا نوجوان البتّہ باشعور ہے اور باخبر بھی، وہ سیاسی بازیگروں کے جھانسے میں آنے سے انکار کردے ورنہ انتہائی لائق و قابل نوجوانوں کے گلے میں اپنی غلامی کا طوق پہنادیں گے۔ کوئی بھی وائرس ایک وبا ہے اور بلا بھی۔ یہ کبھی اچھی نہیں ہوسکتی۔ البتّہ اس وبا کا ایک روشن پہلو ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے ہمارے نوجوانان سیاسی افطار پارٹیوں سے دُور ہیں۔ نہیں تو یہی سیاسی آقا اُنھیں نیتاؤں کو کھجور کھلانے اور ٹوپی پہنانے پر مامور کرتے اور اُن کی تصویر کسی بینر یا پوسٹر میں چھپواکر اُنھیں باور کراتے کہ اب وہ لیڈر بن چکے ہیں۔

            دوستو! حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں سوِل سروسیس کی تیاری کرتے وقت اپنے نوٹس میں یہ لکھ دیجئے: (۱) برطانیہ کا چرچل، جرمنی کا ہٹلر، امریکہ کا روزولٹ اور اس ملک کا پردھان سیوک سبھی جمہوری ملک کے نمائندہ تھے مگر اکثریت سے چن کرآنے پروہ مطلق العنان حکمراں بن گئے۔ کچھ اس حد تک کہ وہ سارے جمہوری اداروں کوبھی بھاجی ترکاری کی طرح خریدلیتے گئے۔ (۲) اب اس کڑوی حقیقت کے بارے میں کیا کہیں کہ عوام فیصلہ نہیں کرتی، عقل وخرد فیصلہ نہیں کرتی، جمہوریت میں صرف ہجوم فیصلہ کرتاہے اور اس طرح ایک ہجوم، ایک بھیڑ جمہوریت کی بھی لنچِنگ کرتی ہے۔ (۳) ’اکثریت کی آمریت‘ بس یہی جمہوریت کی تعریف بنتی جارہی ہے۔ (۴) پُرانی کہاوت ہے ’جیساراجا ویسی پرجا‘۔ اب یہ کہاوت اُلٹی ہوگئی ہے ’جیسی پرجا ویسا راجا‘۔ کہاوت کے اس اُلٹ پھر پر راجہ ہنس رہا ہے۔

            نوجوانو! یہ ملک اپنے سب سے پُر آشوب و شورش زدہ دَور سے گزر رہا ہے۔ یہاں یونیورسٹی کے طلبہ کوایک انقلابی کردار ادا کرنا ہے۔ مقدّے اور ایف آئی آر چاہے پیشگی تیار ہوں مگر طلبہ کی خاموشی کا مطلب اس ملک کے معاشرتی نظام کی موت ہوگی اور اُن کے مزید ایک تعلیمی سال کا نقصان۔ اربابِ حکومت پھر شاطر ہنسی ہنس رہے ہیں اس لیے کہ گزشتہ سات برسوں میں اُنھوں نے ساری جامعات اور ساری یونیورسٹیوں پر پابندی لگاکر اپنی ایک ’واٹس ایپ یونیورسٹی‘ قائم کی ہے،جو ہر قسم کا شرپھیلانے پر مامور اُس یونیورسٹی سے چند ہزار بھکتوں کو روزگار کا سامان بھی ملتا ہے۔ نوجوانو!اس شر انگیز یونیورسٹی کی جڑوں کو مضبوط بننے سے روکو ورنہ اس ملک کی سلامتی پر ہی ایک سوالیہ نشان لگ جائے گا کیوں کہ یہ سیاست داں ہم سے کہنا شروع کریں گے کہ کورونا جیسے وائرس کے ساتھ اب رہنا سیکھو، جیسے لوگوں نے کرپشن، بدعنوانی، فرقہ پرستی اور لنچنگ وغیرہ کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔

            نوجوانو! یہ دَور بے شمار چیلنج اور اُتنے ہی امکانات لے کرآیا ہے۔ آج اصل جمہوری نظام کے احیاء کے لیے یونیورسٹی کے طلبہ کو آگے آنا ہے ورنہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاشرے کی ایک بڑی اکثریت اپنی کم علمی و کم عقلی کے اندھیروں سے اس قدر مانوس ہوچلی ہے کہ اُنھیں علم و عقل کی روشنی سے چِڑھ سی ہوگئی ہے۔ قدرت کا ایک طے شدہ قانون ہے کہ جب کسی شخص کو اقتدار گمراہ کردے تو رسّی دراز کردی جاتی ہے، حتّیٰ کہ وہ اپنے انجام کو پہنچے۔ ایسے کسی انجام تک پہنچانے کے لیے البتّہ انسان کو بھرپورانفرادی واجتماعی کوشش کرتاہے۔

            دوستو! آج جب دنیا ایک جرثومے کے نرغے میں ہے ہم ہمارے طلبہ کو یاد دلانا چاہیں گے لوئی پاسچر کی کہ ہمیں غیروں سے بھی کچھ سیکھنا چاہئیے۔ ابتدائی ناکامیوں کے بعد اس نے کیمسٹری میں ڈِگری حاصل کی۔ اُس کے پانچ بچّے تھے جن میں سے تین ٹائیفائیڈ سے فوت ہوگئے، پاسچر اس پر بے حد رنجیدہ ہوا۔ ۷۸۸۱ء میں اُس نے دنیا کا پہلا مائیکرو بائیولوجی کا انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔ اُس نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران ٹائیفائیڈ کا ویکسین ایجاد کیا۔ پھر ڈائریا، ٹائٹانس، ٹی بی، انفلوائنزا، بخار اور طاعون وغیرہ کابھی۔ کتّے کے کاٹنے (ریبیس) اور اینتھراس کا ویکسین بھی اُسی نے تلاش کیا۔ لوئی پاسچر انسٹی ٹیوٹ کے اب تک دس سائنس دانوں کو نوبل انعام ملے ہیں۔ اُس سے ۰۰۵/پروفیسر و سائنس داں وابستہ ہیں اور ۰۰۶/سے زائد ویزیٹنگ سائنس داں۔ ٹائیفائیڈ میں اپنے تین بچّے کھونے والے ایک شخص نے ویکسین کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ نوجوانو! بنی نوع انسان کی زندگی بچانے والے یہ سارے واقعات نیکی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ذرا سوچئے آج میڈیکل سائنس میں کئی نِت نئی ایجادات انسان کو فیض پہنچارہی ہیں۔ اُنھیں درد و تکلیف سے نجات دے رہی ہیں جیسے الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، ایکو، اینڈ واسکوپی، سی ٹی اِسکین، ایم آر آئی، پروستھیٹکس، مصنوعی دل، پیس میکر، ٹرانسپلانٹ، وینٹی لیٹروغیرہ۔

            نوجوانو! زندگی تگ و تاز ہے، کشمکش ہے، جدّوجہد ہے، سعی و کاوش ہے۔ہم مایوسی کو اپنے اوپر لاد کر یاسیت کا شکارہوکر، خود ترسی کا لبادہ اوڑھ کر کبھی سرخرو نہیں ہوسکتے۔ ہمیں اپناہر رویّہ تبدیل کرنا ہوگا، ہمیں ایک متعدل و متوازی زندگی گذارنی ہوگی۔ مثلاًہم سے یہ ’رمضانی‘ لیبل بھی ہٹانا ہوگا کہ ہم رمضان میں سحری کے انتظار میں رات بھر جاگتے ہیں اور افطاری کے انتظار میں دن بھر سوتے ہیں، توذراسوچئے اکیسویں صدی میں میڈیکل کی دنیا کے اُستاد ہم کس طرح بن سکتے ہیں؟