مصر میں ماہِ رمضان اور کورونا وائرس

National
Holi Month of Ramdhan and Corona Virus in Egypt

مصر میں ماہِ رمضان اور کورونا وائرس

 

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی 

 ایسو سی ایٹ پروفیسر ، شعبۂ اردو

عین شمس یونیورسٹی ،قاہرہ ۔ مصر

 

ہر سال دنیا بھر مسلمانان نے صبری سے رمضان کے مقدس مہینہ کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اور کیوں نہ کرے کیونکہ یہ برکتوں کا مہینہ ہے۔ یوں تو دنیا بھر میں رمضان لوگ اپنے اپنے طور پر مناتے ہیں تاہم مصر میں رمضان کافی الگ طرح سے گزارا جاتا ہے۔ اس ماہ مقدس میں مسلمانوں کی خاص عبادات جیسے تراویح پڑھنا اور اعتکاف میں بیٹھنے کے علاوہ مختلف ممالک میں کچھ روایات اور عادات بھی پائی جاتی ہیں۔ مصر میں بھی لوگ کچھ منفرد طریقے سے رمضان مناتے ہیں۔ ایک ساتھ مل کر افطار کرنا رمضان کا ایک اہم حصہ ہے۔ افطاری پارٹی تقریبا ہر جگہ انتظام ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں اور افطار کی اجتماعی تقریب منعقد کرتے ہیں۔ 

اس ماہ کی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر مغرب کی آذان کے وقت کھجوریں اور جوس بانٹتے ہیں۔ نیز اس مہینے کی ابتدا سے آخر تک مساجد کے اندر یا ان سے ملحقہ احاطوں میں رحمت کے دستر خوان کے نام سے خیمہ لگاتے ہیں اور اس میں لوگوں کو مفت افطاری میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ جن میں خاص طور پر غریب اور مسکین لوگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی فلاحی تنظیمیں اور روزہ افطار کرانے والے مخیّر حضرات غریبوں کے لئے کھانا اور افطار فراہم کرتے ہیں۔ 

افطاری سے پہلے ہمسایوں سے کھانا شئیر کرنا بھی ایک روایت ہے۔ ہمسایوں کے باورچی خانوں کے مابین کھانا کی مختلف قسموں اور گھر میں بنی ہوئی میٹھائی کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ مصری لوگ اس روایت کو (رمضان کا کرم) کہتے ہیں۔

مختلف علاقوں میں افطاری کے فورا بعد بچے فانوس اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نیچے آتے ہیں۔ اور ایک عوامی گانا گاتے ہیں : (حالو یا حالو رمضان کریم یا حالو) اس گانے کا مطلب : ارے یار خوش رہے۔ رمضان کریم۔ بچے اس گانے خوب شوق سے گاتے ہیں تاکہ گلیوں اور راستوں سے گزرتے وقت لوگ ان کو اس ماہ کی خاص میٹھائی دے دیں جسے کنافہ، قطایف وغیرہ کہتے ہیں۔ اور جب بچے سڑک پر فانوس سے کھیلتے ہوتے ہیں تو گھر کے دیگر افراد اپنے خاندان والوں کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزارتے ہیں تاہم وہیں کچھ عورتیں ٹی وی چینلز پر رمضان کے ڈرامے دیکھتی ہیں۔ بہت سارے مرد اپنے ساتھیوں سے ملنے کی غرض سے کافی شاپ جا کر گفتگو کرتے ہیں اور اپنا وقت گزارتے ہیں۔ مصر میں رمضان کے مہینے میں رات بھر لوگ کافی ہاؤس اور ریسٹورانٹ جاتے ہیں جہاں سحری بھی پیش کی جاتی ہے۔ 

مصر میں رمضان کی سب سے اہم نمائش اور ظاہری صورت یہ ہے کہ لائٹس کا عکس اور چمکتے ہوئے فانوس بالکنی اور سڑک پر لٹکایا جاتا ہے۔ اور رنگ برنگے کاغذی آرائشی گھروں کے مابین بندھے ہوتے ہیں جس سے رمضان کی رونق کا اندازہ ہوتا ہے۔

خلیفہ عمر بن الخطاب نے سب سے پہلے ماہ رمضان کی آمد کو منانے کا خیال شروع کیا تھا، جب انہوں نے رمضان کے پہلے دن سے ہی مساجد کو سجایا اور روشن کیا تھا تاکہ مسلمان تراویح کی نماز ادا کر سکیں اور اپنی مذہبی رسومات کو زندہ کر سکیں۔ بعض مورخین نے یہ بھی بتایا ہے کہ رمضان کی سجاوٹ تلونیڈ ریاست کے قیام کے ساتھ مل کر چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں روزے کے مہینے کو منانے کی ایک شکل کے طور پر نمودار ہوئی، جہاں تقریبات کے بہت سے پہلو نمودار ہوئے، جیسے کہ سڑکوں کو سجانا اور چوکوں کو روشن کرنا، جس کا انحصار عیدوں اور رمضان کے مہینے میں ہوتا تھا۔

مصر میں بازاریں اس ماہ کے استقبال کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مصری لوگ اس ماہ کو منانے کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کی مختلف اقسام خریدتے ہیں۔ خاص طور پر خشک میوہ جات جسے (یامیش رمضان) کہا جاتا ہے۔ مصر کی دار الحکومت قاہرہ کے سڑکوں پر ہاکر میزیں بچھا کر خشک میوہ جات بیچتے ہوتے ہیں جو روزہ دار افطاری میں کھاتے ہیں۔ ان میوہ جات میں مشہور ترین اور پسندیدہ خشک کھجوریں اور خشک خوبانی کو کافی پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بازاروں میں فانوس کی مختلف اقسام دکھائی دیتے ہیں جس سے بازار کی رونق کافی بڑھ جاتی ہے۔

ایک سال پہلے ماہ رمضان غیر معمولی حالات میں آیا ہے۔ ایسے حالات، جہاں ایک جان لیوا وبا کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس وبا نے تیزی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور تباہی مچا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے رمضان کا مہینہ ہر سال کی طرح جیسا نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ماہ رمضان المبارک میں پہلی بار بہت ہی تبدیلیاں آ گئیں ہیں۔ رمضان سے منسلک مذہبی، سماجی اور اقتصادی رسومات پر اثرات بہت زیادہ ہوئے۔ سبھی لوگ محتاط تھے اور رمضان تنہا گزارنے پر مجبور تھے۔ مصر میں بھی رمضان ہر سال کی طرح محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ رمضان اس مقدس مہینے کی راتوں میں بڑی پرسکون تھا۔ خاموشی کا عالم تھا اور سناٹے کی وجہ سے عجیب سا ماحول بنا ہوا تھا۔ تاہم مسجدوں سے آنے والی آذان نے دل کو پر رونق رکھا ہوا تھا۔

گذشتہ سال کے دوران، جب مصر کورونا وائرس کی پہلی لہر میں مبتلا تھا، بندش کے اقدامات مصریوں کو مقدس مہینے سے خوشی کا اظہار کرنے سے روک سکے۔ دیگر ممالک کی طرح مصر میں بھی کورونا وائرس کے کیسیز میں اضافہ ہو رہا تھا۔ جس سے اس مہلک وبا کی وجہ سے رمضان سے جڑی تمام رسومات متاثر ہوئے تھے۔ رمضان کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔ حکومت نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا تھا۔ مساجد میں با جماعت نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صرف لاؤد اسپیکر کے ذریعے پنج وقت نمازوں کی اذان دینے کی اجازت تھی۔ اور لوگ بحالت مجبوری اپنے گھروں میں ہی تمام عبادت کر رہے تھے۔ کورونا وائرس کی پابندی سے اس مہینے میں عمرہ ادا کرنا بھی متاثر ہوا تھا جس کا ادا کرنا ماہ رمضان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حج کے برابر ہوتا ہے۔

پچھلے رمضان کے دوران احتیاطی تدابیر عمل کرتے ہوئے رشتہ داروں کی زیارت تقریبا موقوف تھی۔ کورونا کی وبا نے لوگوں کو سماجی فاصلے اور دوری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لوگ اپنے پیاروں سے نہیں مل پا رہے تھے۔ سحری اور افطاری میں اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ کھانا کا انعقاد ملتوی کر دیا گیا تھا۔ صرف کنبے کے افراد کے درمیان گھروں پر سمٹ کر رہ گیا تھا۔ بیچارے بچے بھی ایک لازمی لاک ڈاؤں میں گرفتار تھے۔ سڑکیں ویران تھیں جو کبھی لوگوں کی بھیڑ سے شکایت کرتی تھیں۔ لوگوں سے خالی تھیں۔ جس کی وجہ سے بالکل رونق نہیں تھی۔ اس طرح رحمت کے دستر خوان پر پابندی عائد کی گئی تھی اور فلاحی تنظیمیں بھی دستر خوان نہیں لگائیں تاکہ لوگ ایک ساتھ زیادہ جمع نہ ہوں۔ جس کے نتیجے میں بہت سارے غریب لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت بھی کورونا وائرس سے بچنے کے لئے لوگ بازار آنے سے گریز کر رہے تھے۔ بازاروں میں ہجوم نہیں جیسے کہ ہر سال ہوتا تھا۔

اس سال بھی کورونا وبائی عہد کا دوسرا رمضان ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران اس خوفناک وائرس نے ہمیں ماہ رمضان کی عبادتوں سے محروم کر دیا تھا۔ تاہم اس سال بھی اب مصر کی سڑکوں پر کسی حد تک خوشی کے رنگ اور اس کے آثار دکھ رہے ہیں۔ مصر کی گلیوں میں آرائش کی بھرمار ہے اور مصری لوگ اس بابرکت مہینے کی رسومات پر عمل کرنے میں مصروف ہیں۔ کورونا نے پچھلے سال کے دوران مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے محروم کر دیا تھا۔ لہذا اس سال الحمد للّٰہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز مصر کی مساجد اور مکہ المکرمہ کی مسجد الحرام میں بھی واپس آ گئی۔

مصری حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے اور رمضان کے مہینے میں ابھرتے ہوئے وائرس کے بحران کے ساتھ رہنے کے لئے متعدد خصوصی احتیاطی فیصلے جاری کیے ہیں، جن پر ماہ رمضان کے دوران عمل کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو ان بعض رسومات سے گریز کرنا چاہیئے جو مصری مقدس مہینے کے دوران کرتے ہیں۔ تاکہ ان سے کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔ 

مساجد اور نماز کے حوالے سے، ماہ رمضان کے مہینہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لئے مصری حکومت نے کچھ فیصلے کیے ہیں۔ ان میں مساجد میں نماز کی کاردگی کی اجازت دینا، بشرطیکہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جائے، نماز تراویح کو محدود کرنے کا عہد کیا جائے تاکہ وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ نہ ہوں، اعتکاف اور تہجد کی نماز کو نہ ادا کیا جائے، ہر مسجد کے باہر ایسی اطلاعات ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا لازمی ہے۔ جیسے ہر فرد انفیکشن کی منتقلی کو کم کرنے کے لئے، خود ہی جائے نماز کو اپنے ساتھ مسجد لے آئے، ماسک لگاتار پہنے اور ہر شخص اپنے جوتے ایک پلاسٹک بیگ میں رکھے۔

نماز پڑھتے وقت مسجد کے اندر قدرتی ہوا بازی کی موجودگی کے لئے کھڑکیاں کھولنا۔ نماز پڑھنے والوں کے مابین جسمانی فاصلے پر قائم رہنا۔ ساتھ ہی ساتھ ہر ایک نماز کے درمیان مساجد کو جراثیم کشوں سے پاک کرنا، اور مساجد میں واٹر کولر بند کر دینا لازمی ہے۔ حکومت نے بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گھر میں نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جہاں تک سماجی اجتماعات اور افطاری کی بات ہے تو حکومت نے شہریوں سے کہا کہ وہ بھیڑ بھاڑ اور بھیڑ والے مقامات سے گریز کریں۔ اور افطار ہر گھر کی استعداد کے مطابق چھوٹے گھرانوں تک ہی محدود رہیں، اور برتن تیار کرنے اور پیش کرنے کی صفائی پر دھیاں دیں۔ حکومت کے فیصلوں میں رمضان کی میزیں کے انعقاد اور کھلی اور بند جگہوں پر رمضان سیشن کے انعقاد کی اجازت نہ ہونے کے علاوہ بند مقامات پر کسی بڑے اجتماعات کا انعقاد یا  گھروں میں تقریبات کا انعقاد کی ممانعت بھی شامل ہے۔ 

حکومت مسلسل نگرانی کے ساتھ شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لئے ان احتیاطی تدابیر پر پوری پابندی عائد کر رہی ہے، خاص طور پر اجتماع کی جگہوں پر، اجتماعی ٹرانزٹ ذرائع پر، اس معاملے میں خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ 

ان تمام دشواریوں کے باوجود ہم اللہ کی عبادت اور نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ ہمیں بھی عام زندگی کی برکت کا احساس ہوا جس کے بارے میں ہم شکایت کر رہے تھے، اور وبائی مرض نے ہمیں یہ ثابت کر دیا کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم پر قائم رہے۔