بحران، ہوش مندی و خرد مندی نانپنے کاپیمانہ ہے

Education

بحران، ہوش مندی و خرد مندی نانپنے کاپیمانہ ہے

راہ نما: مبارک کاپڑی

 

            زندگی لمبی ہویا مختصر مگر بامقصد ہونی چاہئیے۔ آج ہم شکایت کررہے ہیں کہ ہمارے پاس مہلت نہیں ہے مگر جب مہلت میسّر تھی ہم ہر سال دسمبر کی۲۵/تاریخ سے جنوری کی ۵/تاریخ تک نئے سال کا استقبال کیا کرتے تھے۔

            یہ کیسے کیسے لوگ روٹھ رہے ہیں جو اپنے اپنے حوالے سے علم، عمل، اخلاق، قربانی، انکساری، دوستی جیسے اوصافِ حمیدہ کے پاسدار تھے۔ ایک وباء، بلا بن کر نازل ہوگئی ہے۔ سارے سٹیلائٹ اور ساری منصوعی ذہانت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ نوجوانو! اِن حالات میں بھی ہمیں ہماری روشن تاریخ یاد آرہی ہے جب دنیا کا پہلا جدید اسپتال قاہرہ میں مسلم ڈاکٹروں نے قائم کیا تھا۔ جب طبیبوں کو سب سے پہلے رجسٹریشن سنان ابن ثابت نے بغداد میں کیا، اُنھیں اسناد سے نوازا۔ اس طرح طبیبوں کے سر  ٹیفکیٹ اور ڈپلوما رجسٹر ہوتے گئے۔ ہمیں یہ بھی یاد آرہا ہے کہ علم طبیعات میں ابن سینا پہلا شخص تھا جس نے روشنی کی رفتار کے بارے میں اُس وقت تجربات کئے جب روشنی صرف دن میں ہوا کرتی تھی اور انسان کی تخلیق کردہ بجلی وجود میں نہیں آئی تھی۔ اُس دَور میں جس نے آنکھ کی فزیالوجی، اناٹومی اور تھیوری آف ویژن بیان کی۔

            آج عالمی بحران کے وقت نئی نسل کو اسلاف کے کارناموں سے آگاہ کر رہے ہیں، البتّہ ہم نئی نسل کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی قوم کا شاندار ماضی اُس کی آنے والی ساری نسلوں کی کامیابی کا ضامن ہوتا تو آج یونان ساری دنیا کا حکمراں ہوتا یا پھر مصر و ایران پوری دنیا پر راج کرتے یا انگریز پوری دنیا پر چھائے رہتے یا ترک و عرب کا دبدبہ ساری دنیا پر چھایا رہتا۔ ایسا نہیں ہے اس لیے کہ ’پدرم سلطان بود‘ کے نشے میں مست رہنا قدرت کو پسند نہیں ہے۔ ہر نسل کو قربانی دینی ہے، نت نئی قربانی دینی ہے، اور ہر دَور میں صرف قربانی ہی کامیابی و سرخ روئی کی ضمانت ہے۔ پیہم ریاضت و پیہم جدّ وجہد ہر دَور میں ہر قوم کے لیے ناگزیر ہے۔

            دوستو! اس کائنات کا نظم کوئی افسانہ نہیں، کوئی فکشن نہیں، کوئی دیومالائی داستان نہیں۔ یہ نظم اُس عظیم طاقت کا بنایا ہوا ہے جو قادر المطلق ہے، علیم ہے، خبیر ہے اورحکیم بھی ہے۔ اس کائنات میں شیطان کا ہدف یہ ہے کہ وہ انسان کو مایوسی اور شدید درجہ کی مایوسی میں مبتلا کردے۔ بس اس کاکام پورا ہوا۔ ربِّ کائنات منصف ہے وہ اس کائنات کی کم و بیش ۷۸/لاکھ قسم کی مخلوقات کر رزق اور اُن کی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اِن سب میں انسان کو کچھ ایسے اوصاف عطا کئے ہیں جو اُس کی بقاء اور اُسے وقار کے ساتھ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں جن میں سے ایک وصف ہے ’قوّتِ ارادی‘۔ دنیا کے سارے قدیم و جدید معالج کو طبیب اس بات پر مکمل اتفاق رکھتے نظر آئیں گے کہ شیطان کے حربے مایوسی و ڈپریشن کا توڑ قوّتِ ارادی ہے۔ ان ساری خدا داد صلاحیتوں کا استعمال انسان کو وقت سمجھاتا ہے، کچھ حالات، کچھ مشاہدے، کچھ تجربے البتّہ اِن سب کے لیے دل و دماغ کا کھلا رکھنا ضروری ہے۔پچھلے وقتوں میں مسلمانوں کی سرخ روئی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ اُن کے دل و دماغ میں کشادگی تھی۔

            دوستو! اسلام صرف شتر سواری کے زمانے کا دین نہیں یہ تمام ادوار کے لیے ہے، لہٰذا ہمیں ہر دَور کے چیلنج کو قبول کرنا ہے۔ ہم اِن چیلنجوں کو قبول کرنے میں کیوں ناکام ہورہے ہیں اس کا سبب امام غزالیؒ سے سُنئے کہ وہ عمر بھر اس پر رنجیدہ رہے کہ اُمّت دین کی اصل روح چھوڑ کر چھوٹی موٹی باتوں اور اختلافات میں کھوگئی۔ آپ نے احیائے علوم کے عنوان سے بڑی عرق ریزی سے دو ہزار صفحات کی کتاب لکھی۔ اِس سے اور اِن جیسے علوم سے ہم نے کتنا استفادہ کیا؟ پتہ نہیں، البتّہ علم و ہنر حاصل کرکے رزق کے لیے ہم جب تک اللہ کے محتاج ہیں، وقار کے ساتھ رہے۔ جب دوسری قوموں کے محتاج ہوئے توصرف رُسوائی ہاتھ آئی۔

            دوستو! اللہ کی آخری کتاب میں انسان سے یہ مخاطب ہے: ”ہم ضرور آزمائیں گے تم کو، خوف سے، بھوک سے، نقصان، گھاٹے سے۔“ لہٰذا ہماری آزمائش بہر حال ہوگی البتّہ آج وبا کے اِس دَور میں جو وحشت و دہشت کا ماحول ہے اِس وقت ہمارے نوجوانوں کو احتساب کرنا ہے کہ آج وقت کی قدر شاید ہمیں اِس وقت ہورہی ہے جب گردش لیل و نہار وقت ہماری مٹھّی سے ریت کی مانند پھسل رہا ہے۔ ہر لمحہ کسی کے رُخصت ہونے کی خبر پر ہمیں وقت کی اہمیت کا احساس ہورہا ہے۔ وقت ہمیشہ بے وفا نہیں ہوتا، مہلت دیتا ہے، ملنے کا ملانے کا خبر گیری کا۔ ہم بیمار، ضعیف، تنہا لوگوں سے کتنی بار ملنے جاتے ہیں؟ کیا ہم کبھی عیادت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے عزیز و اقارب، دوست و احباب سے اُن کی خیریت دریافت کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف اُن کی خیریت دریافت کرتے ہیں جو واقعی خیریت سے ہیں۔ ہم اُس شخص سے خیریت پوچھتے ہیں کہ جن کے یہاں دو چار بچّے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں اوراُن کو موٹی فیس ادا کرنی ہے ورنہ اُن کا کرئیر تباہ ہوجائے گا۔ کیا کبھی اُس کی خیریت معلوم کرتے ہیں جن کے یہاں کوئی سخت بیمار ہے، اور اُسے کسی بڑے آپریشن یا علاج کا سامنا کرنا ہے؟ ہم ’ناپ تول‘ کر خیریت معلوم کرتے ہیں کہ رسم بھی ادا ہوجائے اور کوئی’جھمیلا‘ گلے نہ پڑجائے!

            آج اِس وبائی دَورمیں کئی لوگ رُخصت ہورہے ہیں، اِس کا شدید افسوس ہورہا ہے مگر احتساب ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہر سال جہیز کے لیے ہماری قوم کی ہزاروں بیٹیاں اپنی جان گنوارہی ہیں۔ ہم نے اُن کے لیے کتنے آنسو بہائے؟ کچھ لوگ تو یہ کہیں گے کہ جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی بیٹیوں کا یہ تذکرہ بے محل ہے کیوں کہ سماج کا مزاج بدلنے کے لیے ہمیں آکاش و پاتال ایک کرنے ہوں گے۔ اس لیے جو چل رہا ہے، چلنے دو۔ وہ مرنے والی ہماری بیٹیاں تھوڑے ہی ہیں؟ اور پھر اُنھوں نے بچپن ہی سے اپنی بیٹیوں کے لیے جہیز کا انتظام کیوں نہیں کیا؟

             نوجوانو! دیکھا ہمارے موجودہ معاشرے کا رویّہ؟ جہیز کو لعنت نہیں کہا جارہا ہے بلکہ جہیز جمع نہ کرنے کو عیب سمجھا جارہا ہے۔ آج جب وقت تھوڑا بے رحم ہوگیا ہے۔ کبھی ہم یہ سمجھ رہے کہ دوستی نبھانا بہت آسان ہے اور دشمنی نبھانا بے حد مشکل، کیوں کہ دشمنی نبھانے میں وقت کا صرف ضائع ہے اور لوگوں سے دشمنی نبھا نبھاکر وقت کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے ہیں۔ یہ قبیح حرکت بڑے بڑے اہلِ خرد بھی کرتے رہے ہیں۔ ہم نے بچپن میں قلمی دوستی دیکھی تھی، تھوڑے بڑے ہوئے تو دیکھا کہ بڑوں میں ’قلمی دشمنی‘ ہواکرتی ہے، اور بڑی ’دل جمعی‘ سے یہ اکابر دشمنی نبھاتے رہتے ہیں۔ زندگی آخر اس قدر ازراں کیونکر ہوسکتی ہے۔ ہمارے یہاں کچھ اکابر تو ایسے بھی ہیں جو علم، نالج، ڈِگری، کُرسی، رُتبہ و مرتبہ کے زعم میں معاشرے سے کٹے رہتے ہیں۔ کسی ابتلاء کے وارد ہونے پر ہی اُنھیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہار، پھول سے نہیں دھاگے سے بَنتے ہیں۔ ہم دھاگے کو سب سے کمزور سمجھتے ہیں، ساری توجّہ پھول پر رہتی ہے۔ سب سے الگ رہ کر معاشرہ نہیں بنتا، معاشرہ کی تکمیل کے لیے دھاگا اہم ہے۔

            دوستو! پہلے کبھی زندگی بہت طویل ہوا کرتی تھی۔ انسان ۶۰۰/۷۰۰/سال تک بھی جیتا تھا۔ پھر اوسطً عمر ۱۰۰/سال تک ہوگئی اور آج اُس سے بھی کم۔ ہمارے نوجوانوں کو اُن کی زبان میں اگر سمجھانا ہو تو یہ کہیں گے کہ زندگی کبھی ٹیسٹ میچ ہوا کرتی تھی۔ پھر وہ وَن ڈے میچ بن گئی۔ کورونا کے بناء پر اب یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ بن گئی ہے۔ صرف ۲۰/اوور اورزندگی کی میچ ختم۔ لیکن دوستو! ۲۰/اوورکا میچ بھی یادگاربنتا ہے یا بن سکتا ہے۔ اُس میں بھی چوکے اورچھکّے لگائے جاسکتے ہیں۔ آج جو شخص ہم سے رُخصت ہوئے ہیں اُن میں سے اکثر اپنے اپنے حصّے کی اننگز کھیل کر گئے ہیں۔ کسی نے ۵۰/کتابیں مرتّب کیں، کسی نے درجن بھر کتب تخلیق کئے، کسی نے۵/ہزار طلبہ کی رہنمائی کی اور کسی نے ۵۰/ہزار طلبہ کو تحریک دی۔ کسی نے کہیں دانش گاہ قائم کی اور کسی نے تعلیم گاہ۔ دوستو! جو بھی مہلت قدرت نے دی ہے اُسے مثبت کاموں میں صَرف کرو، اپنی اننگز جم کر کھیلو، آؤٹ تو ہم سب کو ہونا ہی ہے مگر زندگی لمبی ہونے کے بجائے بڑی ہونی چاہئیے۔