موجودہ وبائی ا مر اض،مصیبت و پریشانی سے نجات کے لئے  خصوصی دعائوں اور صدقہ و خیرات کااہتمام کریں

Maharashtra

موجودہ وبائی ا مر اض،مصیبت و پریشانی سے نجات کے لئے
 خصوصی دعائوں اور صدقہ و خیرات کااہتمام کریں
جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی کی عامۃ المسلمین سے اپیل

 

25؍ اپریل ( پریس ریلیز ) آج کل ہمارے وطن عزیز میں جس طرح کے حالات ہیں اور جس طرح تیزی سے وبائی مرض پھیل رہا ہے،یہ بہت ہی تکلیف دہ ہےانسانیت بری طرح سے پریشان ہے۔ لگتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے ناراض ہیں۔ ہمیں اللہ پاک کو راضی اور خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ پاک کو خوش کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم مظلوم اور مجبور بھائیوں اور بہنوں کی صدقہ وخیرات کے ذریعے مدد کریں۔ ہمارے پیارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ (ترمذی 664) ترجمہ: بےشک صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بُری موت کو دور کرتا ہے۔

مولانا صدیقی نے مزید کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے ۔أُجِيبُدَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لی وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلکمْ يَرْشُدُونَ (بقرۃ 186) ترجمہ: جب کوئی مجھے پکارتا ہے؛ تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں،لہذا وہ بھی میری بات سے قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راست پر آجائیں۔کوئی مصیبت، بلا،حادثات، بیماری، پریشانی وغیرہ آچکی ہویا ان کے آنے کا اندیشہ اور خدشہ ہوتو آدمی کو فورا اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اس پاک ذات کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دعاء کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی کی ذات سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ذات برحق دعاء قبول فرمائیں گے اور ان بلائوںکو دور اور دفع فرماکر نجات دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہےإِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِالدُّعَاءِ(ترمذی: 3548) ترجمہ بے شک دعاء نفع بخش ہوتی ہے ان حوادث میں جو آچکے ہیں اور ان حوادث میں (بھی) جو اب تک نہیں آئے ہیں، اے اللہ کے بندو، اس لئے دعا ء کرناتم پر لازم ہے۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اکابر ہمیشہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہماری بھاگ دوڑ، ہماری محنتیں، اور ہمارا کام کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا، جب تک کہ اس میں اللہ تعالی کی مدد شامل حال نہ ہو اور اللہ تعالی کی مدد دعاؤں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس لیے ہم تمام مسلمانوںکے لیے ضروری ہے کہ اپنی مشغولیت میں سے کچھ وقت نکال کر، خصوصیت کے ساتھ دعا ءاور استغفار کا اہتمام کریں، تاکہ ہمارے کاموں میں جان پڑے، اس کے لیے ہم سب کم سے کم اس بات کا اہتمام کریں کہ افطار سے آدھا پون گھنٹہ قبل اپنے فون وغیرہ سے علاحدہ ہوکر، صرف اللہ تعالی کے ساتھ لو لگاکر بیٹھیں اور خوب گڑگڑا کر اللہ تعالی سے امت کی زبوں حالی پر رحم کی دعاء کریں! بیشک اللہ تعالی اپنے مانگنے والوں کو محروم نہیں کرتا۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم– کے فرمان کے مطابق، اللہ تعالی کو شرم آتی ہے کہ ان کا بندہ، ان کے سامنے اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر، ان سے مانگے، پھر اللہ تعالی ان ہاتھوں کو ناکام اور خالی لوٹا دیں۔اس لئے  ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارا ربّ ہم سے راضی ہوجائے اور یہ جو مصائب وآلام، پریشانی اور حوادث وبیماری سے ہم دوچار ہیں، اللہ پاک اس کوہم سے دور کردے۔آمین