اچانک آکسیجن کی کمی سے دو مریضوں کی موت: بیڑ ضلعی اسپتال میں حادثہ

Beed

اچانک آکسیجن کی کمی سے دو مریضوں کی موت: بیڑ ضلعی اسپتال میں حادثہ

بیڑ(خطیب افسر) آکسیجن سپلائی اچانک بند ہونے سے آج صبح بیڑ کے ضلعی اسپتال میں دو افراد کی موت ہوگئی۔ مریض کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ اچانک آکسیجن کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ اس معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سرجن ڈاکٹر سکھدیو راٹھوڑ نے کہا کہ مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی نہیں ہوسکی ہے کیونکہ نامعلوم شخص نے آکسیجن کی فراہمی کرنے والا اہم کاک بند کردیا تھا۔ یہ سچ ہےاس طرح کا بیان انھوں نے دیا۔

List of Hospitals in Beed

کلکٹر کا انکشاف:

ضلعی اسپتال کے وارڈ نمبر سات میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں کورونا کے  دو مثبت مریضوں کو دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیورائی تعلقہ کے کٹھوڈا کے رہنے والے سنجے راٹھور کے والد نے آکسیجن کی سپلائی اچانک بند ہونے کی وجہ سے   ان کی موت ہوئی ہے اس طرح کا  الزام انھوں نے لگایا ہے ۔ اس کے علاوہ ، انہوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ نائگاؤں تعلقہ  پاٹودہ سے تعلق رکھنے والے راہل کاوٹھیکر کے چچا کی موت آکسیجن کی فراہمی میں اچانک رکاوٹ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اسپتال کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سرجن ڈاکٹر سکھدیو راٹھوڑنے بتایا کہ آکسیجن کی فراہمی دوبارہ شروع نہیں کی جاسکی ہے کیونکہ آکسیجن سپلائی سلنڈر کاکا ک کسی نامعلوم شخص نے مسدود کردیا تھا۔ اس  کی وجہ سے آکسجن کی فراہمی آگے نا ہوسکی جس کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہوئی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ جن مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے ان کی حالت انتہائی نازک تھی جن کے مرض کا اوسط 18 تا 20 تھا۔  انھوں نے اس حادثہ کی تحقیق کئے جانے کا یقین دلایا ہے۔

بیڑ ضلعی اسپتال کی لا پرواہی:

بیڑ کے ضلعی اسپتال میں داخل کورونا مثبت مریضوں کا اچھا علاج نہیں ہو رہا ہے۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سنجے راٹھوڑ اور راہول کوٹھیکر نے الزام لگایا ، "ہم نے اسپتال کی بدانتظامی کی وجہ سے اپنے خون کا رشتہ کھو دیا ہے۔"