دور ِحاضر کے ممتاز تر اِسلامی مدبر و مفکر  مولانا وحید الدین خان بھی  اللہ کو پیارے ہوگئے

National
Maulana Wahiduddin Khan Pass away

دور ِحاضر کے ممتاز تر اِسلامی مدبر و مفکر

 مولانا وحید الدین خان بھی  اللہ کو پیارے ہوگئے

ندیم صدیقی

ممبئی:22اپریل(ندیم صدیقی)مولانا وحید الدین خان گزشتہ کل(بدھ) کو انتقال کر گئے وہ کئی دنوں سے  دہلی  کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔

(96 سالہ)  مولانا  وحید الدین خان کا نام  اور ان کا  علمی کام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ  دَور ِ حاضر میں اپنے ڈھب اور  اپنےعلم وفکر کے واحد شخص تھے۔اُنہوں نے دورِ حاضر کے تناظر میں جس طرح دین کی تعبیر کی وہ منفرد ہی نہیں بلکہ  ہر اُس مسلمان کےلیے دعوتِ فکر بھی تھی  ،ہر وہ مسلمان جو وقت کے تقا ضے  کے پیش نظر اللہ کے احکام کی تفہیم و عمل کے لیے کوشاں رہتا ہے۔
 مولانا وحید الدین خان یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا( اعظم گڑھ۔ اتر پردیش) میں پیدا ہوئے  وہ اعظم گڑھ (انڈیا) کے مشہور مدرسۃ الاصلاح کے فارغ التحصیل تھے۔ وہ ممتاز عالمِ دین امین احسن اصلاحی کے شاگردوں میں امتیازی تشخص رکھتے تھے۔ انہوں نے  اپنی عملی زندگی1967 میں  ہفت روزہ ’الجمعیۃ‘(دہلی)  سے شروع کی وہ اِس  ویکلی کے  1974ء تک  مدیر رہے۔
 بعدہٗ انہوں نے ’ اسلامی مرکز‘‘ کے نام سے دہلی میں اپنا ایک ادارہ قائم کیا ۔ ان  کے ’الرسالہ‘  کی مقبولیت کا یہ عالَم رہا کہ مسلمانوں کا وہ طبقہ جو عصری مزاج  کا عرفان رکھتا تھا وہ مولانا کے اس ماہنامے کا بے چینی سے منتظر رہتا تھا۔’ الرسالہ‘ بیک وقت اُردو اور انگریزی میں شائع ہوتا تھا، اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ان کا  یہ مجلّہ تمام دُنیا میں پڑھا جاتا  تھا اس ماہنامے کی ایک خوبی یہ بھی تھی  اس کے چھوٹے بڑے مضامین خود مولانا  وحید الدین خان کے افکار کا نتیجہ ہوتے تھے، وہ مفکر اسلام  تھے انہوں نے قرآن کریم کا مختصر ترجمہ بھی کیا اور ’عظمت ِقرآن‘ کے نام سے اُن کی تصنیف  یادگار ہے ۔ ان کی دیگر تصانیف میں سیرۃ النبی پر اُن کی کتاب’’ پیغمبر اِنقلاب‘‘ بھی اپنے موضوع اور عصری چیلنجز کے تناظر میں مثالی حیثیت کی حامل ہے ۔ مولانا وحید الدین خان نے تقسیم ہند کے تعلق سے اپنے اختلاف کا پوری شدت سے اظہار کیا مگر یہ علم کا اعجاز و اخلاص ہی کا نتیجہ تھا کہ  اس کتاب’’ پیغمبر ِ انقلاب( انگریزی ) پر انھیں گورنمنٹ آف پاکستان  نے اپنا اولین بین الاقوامی ایوارڈ دِیا۔  انھیں  دیگر اعزازات کے ساتھ ہند سرکار نے انھیں سن 2000  میں ’ پدم بھوشن‘ ایوارڈ دِیا تھا اور  حال ہی میں ملک کا دوسرا اعلیٰ ترین اعزاز ’’ پدما وِبھوشن‘‘ بھی  پیش کیا ان اعزازات کے علاوہ انھیں  عالمی سطح کے بھی ایوارڈز دِیے گئے لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز اُن کی وہ کتابیں ہیں جو اُنہوں نے اسلام  اور عصر حاضر کے تناظر میں تصنیف کیں۔ مولانا وحید الدین خان اپنی عمر کے اور اپنے معاصرعلما میں یوں بھی ممتاز تھےکہ وہ کئی زبان نہ صرف جانتے  تھے بلکہ ان زبانوں میں اپنا مافی الضمیر بھی بیان کرنے پر قدرت رکھتے تھے جو لوگ ان کے  قاری رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مولانا کا علم، اسلامیات تک ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی کس قدر اپ ڈیٹ رہتا تھا کہ وہ دُنیا بھر کے واقعات اور معاملات سے ہمہ وقت باخبر رہتے تھے جس کا پَرتَو اُن کی تحریروں میں نظر آتا تھا۔
مولانا وحید الدین خان کی کتاب’ تعبیر کی غلطی‘ نے  لوگوں کو اپنی طرف متوجہ ہی نہیں کیا بلکہ اس کتاب  سے ان کے مخالفین کا بھی ایک بڑا طبقہ سامنے آیا مگر مولانا موصوف اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔

 دور ِحاضر کے اکثر مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات عام ہے کہ وہ اپنے سنہرے ماضی کے احساسِ  تفاخر میں مبتلا ہیں ایسی صورتِ حال میں ان کے افکار و نظریات کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک تو کجا کوئی بات کرنا اور اس کے نتیجےمیں اختلاف کا ایک فتنہ پیدا ہونا عجب نہیں، سو وہ مولانا وحید الدین خان کے ساتھ بھی ہوا مگر مولانا موصوف کے افکار و نظریات میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ دراصل مولانا وحید الدین خان نے دعوت کے  فرض کے پیش نظر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہونے والے واقعات  سے اعراض کیا، ان کے پیش نظر حالات و واقعات کے تناظر میں یہ اعراض وقت کی اصل ضرورت تھا۔ مولانا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ رسول ِکریمؐ کی ’ حیاتِ مکّی‘ ہی کو پیش نظر رکھتے ہیں مگر عامی ہی نہیں اصحاب ِ علم بھی اس بات کو جیسے بھولے بیٹھے تھے کہ  رسول کریمؐ نے اپنی مکی زندگی میں مخالفین کے خلاف تصادم سے اعراض کیا، اس اعراض پر،ہجرتِ  رسول  پر غور کیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کا’’ اقدام‘‘ ہی نظر آتا ہے ۔ دراصل ہم  ہی نہیں بلکہ ہمارے بڑے اذہان بھی  شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ نفس ، عامی ہی کو نہیں ،خواص کو بھی اپنے نرغے میں لے سکتا ہے اور نفس کا تو عالَم یہ ہے کہ وہ ’’نیکی‘‘ کے راستے سے بھی ہم پرحملہ آور ہوتا رہا  ہے اور ہوتا رہے گا۔

نفس نیکی میں بھی شیطان سے جا ملتا ہے
 یہ کسی طَور بھی اُبھرے اسے مارا جائے

 

  سو ہم جو ایک قسم کے احساسِ تفاخر میں تھے( اور ہیں ) ایسی صورتِ حال میں مولانا وحید الدین خان کی تعبیر دین، لوگ کیسے قبول کر سکتے تھے مگر  اللہ جنھیں نفس کے وبال سے بچانا چاہے تو وہ لوگ ضرور اس فتنے سے بچ جاتے ہیں۔
اُردو زبان میں ایک لفظ ہے ’ حکمت‘  یہ لفظ  موقع محل سے کئی معنیٰ کا حامل ہے۔ اسے  طِب  میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔  ہماری شاعری میں  مرزاغالبؔ کو تنوعِ فکر کا  بڑا اور منفردشاعر سمجھا جاتا  تھا اس نے  ایک قطعے میں طِب کے اصول یا ایک  نسخے کا ذکر کیا ہے :

 

سہل تھا مُسہِل، ولے یہ سخت مشکل آپڑی
 مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بِن ہوئے
 تین دن  مُسہِل،سے پہلے، تین دن  مُسہِل، کے بعد
 تین مُسہِل،، تین تبریدیں، یہ سب کئے  دِن ہوئے

 

مرزا نوشہ کا یہ قطعہ کئی لحاظ سے توجہ کا طالب ہے، انہوں نے طب کے ایک اصول   کواپنے انداز سے عجب سوال بنا دِیا ہے جو لوگ غور و خوض سے اعراض کرتے ہیں وہ اسے  لفاظی کہہ گزریں تو عجب نہ ہوگا مگر جو لوگ طب کے  اصولوں  پرذرا بھی نظر رکھتے ہیں وہ یقیناً خوش ہی نہیں ہونگے بلکہ  مرزا نوشہ کے اس  تبحر علمی کی داد بھی دیں گے۔ جو حضرات طبِ یونانی کی شد بد رکھتے ہیں انھوں نے مرزا نوشہ کو کل بھی یقیناً داد دی ہوگی او  رآئندہ بھی داد دیں گے۔
 اس قطعے کی وضاحت اِس وقت ہمارے نزدیک ضروری  ہے وہ یوں کہ اب ہمارے معاشرے میں  یونانی طریقہ ٔ علاج ختم نہ سہی مگر اُس طرح عام بھی نہیں جیسے ہمارے  بزرگوں کے دَور میں تھا چونکہ اب ہم ایک طرح  کے عارضۂ عجلت کے شکار ہیں تو ہم اپنی کسی بھی قسم کی بیماری میں فوری افاقے کے طالب ہوتے ہیں اور یہ رُجحان عوام و خواص میں عام ہو گیا ہے تو آج ہمارا بچہ بھی  ایلوپیتھک طریقۂ علاج کے بعض نکتوں سے تو واقف ہے مگر یونا نی  یا آیورویدک طریقۂ علاج   کے نکات سے نابلد ہے۔  غالبؔ کے اس قطعے  کے پہلے مصرعے کا تیسرا لفظ ’ مُسہِل‘ ہے اور یہ اس قطعے  میں کلیدی لفظ  (Key Word) بھی ہے۔ طبِ یونانی میں’ مسہل ‘اُس دوا  کانام ہے  جو دست آور ہوتی ہے یہ دوا معدے کی صفائی کےلیے مریض کو دِی جاتی ہے۔  دست کے معنی صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ طب کی اصلاح میں  لوز موشن کو بھی دست کہا جاتا ہے اس لفظ کا عربی مترادف ’ اسہال‘  ہےاور یہ’ مسہل‘ اسی خاندان کا لفظ ہے۔  یقیناً ہمارے پرانے لوگوں کے لیے’ مسہل‘ اتنا مشکل لفظ نہ ہوگا مگر اس قطعے کے آخری مصرع میں مرزانوشہؔ نے یونانی طب کی ایک اصطلاح اور نظم کی ہے  اور اپنے موضوع کے تناظر میں یہ  اصطلاح ضروری بھی تھی، وہ لفظ ہے’ تبریدیں‘۔۔۔۔ تبرید اُس دوا کا نام ہے جو اِسہال کی دوا دینے کے بعد  پیٹ کی حرارت یا گرمی کو ٹھنڈک میں بدلنے  کے لیے دِی جاتی ہے۔ مرزانوشہؔ یونانی طبیب تو نہیں تھے مگر اپنے دَور کی طب کی  جزئیات (میڈیکل اصطلاحوں)سے ناواقف بھی نہیں تھے تو انہوں نے ایک سلیقے سے ان جزئیات کو اپنے قطعے میں بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ غالبؔ ہماری زبان کا اِس لحاظ سے بھی ممتاز تر شاعر ہے کہ اس نے اپنے کلام کا  ایک بڑا حصہ خود، رَد بھی کیا مگر اس قطعے کو اُس نے کیوں رکھا ہوگا،  یہ بات ہمارے لیے غور طلب ہے ۔ اس میں حکمت کا  جو نکتہ اپنی جزئیات کے ساتھ بیان ہوا ہے وہی اہمیت کا حامل ہے  واضح رہے کہ  یونانی طریقۂ علاج میں طبیب عام طور پر مریض کا  پیٹ پہلے صاف کرتے ہیں ، ان اطبا کے نزدیک جملہ امراض کا آغاز پیٹ ہی سے ہوتا ہے۔
 تو  چچا غالبؔ نے بتایا کہ ’ مسہل‘ سہل تو ہے مگر مشکل یہ آن پڑی کہ اتنے روز بغیر حاضری کے مجھ پر کیا گزر جائے گی، تین دن مسہل سے پہلے گزارنے ہونگے اور پھر تین دن مسہل کے بعد۔۔۔ اور تین  دن بعد تین تبریدیں بھی دی جائیں گی۔۔ ۔ ذرا بتائیے  تو یہ کئے دن ہوئے؟

 ہم  مولانا وحید الدین خان اور ان کی  نظریے اور تدبر کی باتیں کر رہے تھے تو اس میں مرزا نوشہ کا یہ’ نسخۂ سوالیہ‘ کہاں سے اور کیوں کر آگیا؟

 تو عرض ہے کہ جب کسی بھی قسم کا مریض کسی حکیم (طبیب) کے پاس جائے گا تو وہ طبیب اپنے اصولِ طب ہی کو ملحوظ رکھےگا یہاں مریض کی ہائے ہٗو کوئی معانی نہیں رکھتی۔ مکّی زندگی  پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہاں اہل اسلام کی طرف سے اہل ِ مکہ( قریش) سے تصادم کا کوئی محل نہیں تھا بلکہ ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ اگر حکمت ِ ہجرت کے بجائے تصادم کا  طریقہ اختیار کیا جاتا تو وہ ایک طرح سے خود کشی کے مترادف ہوتا۔

 مکّے سےمدینے کی طرف ہجرت اور ہجرت کے بعد ایک  مدتِ خاص میں  پوری تیاری کی گئی ہے نفری قوت کا مجتمع کرنا اور اسلحہ  وغیرہ کا حصول  اور اسی  مدت میں اپنے لوگوں میں صبر ،اعراض اور ایثار کی تربیت بھی کی گئی اور جب  وقت آیا تو غزوۂ بدر میں سب کچھ ہوا اور اس کا نتیجہ تاریخ میں درج ہے۔ یعنی  یہ پورا ایک منصوبہ تھا یا انگریزی میں جسے پروسس  (Process) کہتے ہیں وہ ہوا ۔۔۔ بعض اوقات، بعض مسائل میں کچھ وقت لگتا ہے اور اس کا دورانیہ ہرگز طے شدہ نہیں ہوتا، یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے تو مکّی زندگی اور مدنی زندگی کا یہ فرق ہمیں ہر زمانے میں ملحوظ رکھنا ہوگا اورعجب نہیں کہ وقفے وقفے سے ہمیں مکّی زندگی کا سامنا کرنا پڑے۔
مولانا کا ایک بنیادی موقف یہ بھی تھا کہ ہمیں  داعی قوم کے کردار کو نہیں بھولنا چاہیے اور داعی کے ہاں صبر و اعراض بنیادی صفت ہوتی ہے ۔ اب ذرا سوچیے کہ قومی سطح پر ہمارے ہاں کس قدر  صبر،برداشت اور اعراض کی قوت پائی جاتی ہے۔؟!
 
ہمارے ہاں  ایک بڑے طبقے نے اِسلام کو عبادات ہی کا مذہب سمجھا ،یا سمجھایا گیا ہے ۔   مولاناوحید الدین خان کی طرف سے مکّی زندگی پر اصرار ہرگز عجب نہیں۔ ہم مسلمانوں میں  ایک بڑی تعداد میں ابھی وہ لوگ حیات ہیں جنہوں نے  بابری مسجد کی شہادت کے بعد شدید فتنہ و فساد دیکھا اوربھگتا ہے، صرف ممبئی میں اس دور میں مسلمانوں پر جو کچھ گزری اورجن پر بیتی ہے یا جو زٗود حس ہیں اور جوفراموش طبع نہیں، اُن لوگوں کو یاد ہوگا کہ ہم کسی بھی طرح پیش قدمی تو کجا اُن دنوں اپنے دفاع  کے قابل  بھی نہیں تھے اور اُس وقت ہی کیا آج بھی ہماری  اندرونی  اور ظاہری حالت ویسی  ہی ہے،  ہم میں  سے اکثر عامی تو 1992 کے خونیں رات دن فراموش بھی کر چکے ہیں تو ایسے لوگوں  میں ’ مدنی زندگی ‘ کے عوامل کو اُبھارنا دانش ہوگی یا خود کشی کی دعوت!!؟
  اس کایہ مطلب بھی نہیں مولانا وحید الدین خان سے اختلاف ہر گز نہ کیا جائے مگر اختلاف کے لیے بھی علم و حکمت اور وہ تدبر درکار ہوگا کہ جس سے اختلاف کیا جارہا ہے ، وہ ان اوصاف کا حامل ہے۔

 ’’اختلاف ‘‘اور ’’ مخالفت‘‘  بظاہر دونوں ایک ہی قبیل کے عمل  ہیں مگر اپنے وقت پر یہ  دونوں متضاد بھی ہیں کس کی کب مخالفت کی جائے گی اور کہاں اختلاف کیا جائے گا یہ تدبر اگر نہیں تو نتیجے میں ظلمت ہمارا مقدر نہ ہوتو تعجب کیجیے۔
 تقسیم ہند کے بعد سے ابتک طرح طرح کے ظلم ومصائب سے ہندستانی مسلمان  گزرا اور گزر رہا ہے  جوکس  صاحبِ فہم سے  پوشیدہ  ہے ۔ !!

 ہماری سب سے بڑی کمزوری تو ہمارا افلاس ہے اور یہ افلاس صرف زر و مال کا نہیں ہمارے ہاں فکری افلاس نے تو کسی موروثی مرض کی طرح پنجے گاڑ لیے ہیں تو ایسے میں ہمارا جہاد اس افلاس کے خلا ف ہونا چاہیے اور فی الوقت خدا کو بھی یقیناً یہی مطلوب ہوگا جب ہم اپنے دونوں قسم کے افلاس سے نجات پاجائیں تو پھر سیاسی حکمت ِعملی کی طرف متوجہ ہوں بلکہ یہ عمل بھی ایک طرح کی سیاسی حکمتِ عملی ہی کہا جائے گا۔

 دُنیا میں  ہمارے لیے بہت سے سبق موجود ہیں اگر ہم اپنی انا کے ہتھیار سے بچ جائیں تو  درس کے بیشمار مواقع ہمارے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ جنگی حکمت ِعملی میں ایک عمل یا ایک سبق یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم  اپنے دشمن کی طاقت اور خوبیوں پر بھی نظر رکھتے ہیں تو ہمارے سامنے اسرائیل جیسا ملک ہے دُنیا کے نقشے پر اس کا وجود بہت پرانا نہیں ،  یہ جو ہمارے  پڑوس میں اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے اس کے قیام اوراسرائیل کے قیام  میں کوئی بڑی مدت  حائل نہیں مگر دونوں ملکوں کی تمام تر حالت پر غور کریں تو ہمارا پڑوسی ملک اسرائیل سے  بہر طور  بہت پیچھے اور بہت  پسماندہ ہے ۔ اسرائیل  جیسا کم عمر ملک اپنے آپ میں  بہر طورترقی کے لحاظ سے ایک  مثال بن گیا ہے مگر ہماری آنکھ پر اسرائیل دشمنی نے ایسا پردہ ڈال رکھا ہے کہ ہم حکمت کے تقاضوں سے بھی لا تعلق ہو گئے ہیں۔

 جاپان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے  جو تباہ  و برباد کر دِیا گیا تھا مگر اس نے اپنی تباہی سے اپنی نشاۃ الثانیہ کا سراغ  پا لیا۔ اسرائیل کی اوّلین وزیراعظم گولڈا مئیر کا ایک  تاریخی بیان ہم جیسے لوگ نہیں بھولتے۔ اسرائیل کے قیام کو کچھ ہی برس گزرے ہونگے کہ اُس نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ گولڈا مئیر سے اس ضمن میں پوچھا گیا کہ آپ کا ملک  ابھی وجود میں آیا ہے، آپ کو اپنے عوام کی  ضروریات ِ زندگی اور دیگر عوامل پر متوجہ ہونا چاہیے مگر آپ  ایٹم بم جیسا مہنگا ترین ہتھیار بنانے پر آمادہ ہیں؟
  گولڈا مئیر کا  جواب ہم سب کےلیے ایک سبق اور عبرت بن گیا ہے۔ اس نے سوال کرنے والے سے کہا کہ ہم نے یہ حکمت ِعملی مسلمانوں کے رسول سے سیکھی ہے۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے رسول کی جب وفات ہوئی تو تاریخ میں درج ہے کہ اُن کے گھر  کے لوگ کئی روز کے فاقے سے تھے مگر اس وقت بھی اُن کے گھر کی دیوار پرکئی تلواریں ٹنگی ہوئی تھیں۔
 گولڈا مئیرکا کہنا تھا کہ تاریخ یہ نہیں دیکھے گی کہ قوم نے مرغن غذا کھا کر زندگی کی ہے  یا فاقوں میں دن رات گزارے ہیں وہ تو یہ دیکھتی ہے کہ  وقت کی ضرورت کو آپ نے کس طرح مقدم رکھا۔

 ہم ایشیائی مسلمان اپنے مرغن کھانوں اور طرح طرح کی نفیس سے نفیس ترآسائش زندگی  کے حصول میں گم ہیں،اس طرح کی تعیش میں مبتلا قوموں کا حال بھی تاریخ میں  سبق بنا ہوا ہے۔

 
 
یونانی طب کی اکثر دوائیں بہت تلخ ہوتی تھیں مریض منہ بناتا تھا مگر جن لوگوں کو صحت یاب زندگی مطلوب ہوتی تھی وہ ان تلخ دوائوں کو بہر طور استعمال کرتے  تھے ورنہ تو صرف ایک عمل رہ جاتا ہے جسے جراحی( آپریشن) کہا جاتا ہے اس میں متاثرہ عضو الگ کر کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے یا پھر قبر کا گڑھا سامنے ہوتا ہے۔

 مولانا وحید الدین خان ہمارے دَور کے حکیم حاذق بھی تھےاورایک طبیبِ ناطق بھی انہوں نے بیمار ملت کو صحت کے نسخے بھی بتائے اور گر بھی سکھائے جنہوں  نے ان سے استفادہ کیا وہ صحت کی طرف لوٹ گئے اور جو ایسا نہیں کر سکے وہ حکیم کو سنکی یا حکیم کافر کہتے ہلاکت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مولانا وحید الدین خان نے جو اپنا فرض سمجھا وہ ادا کر دیا اور اس کے حضور پہنچ گئے  جس کے سامنے نیت کا حال اوراعمال سب کچھ کھلا ہے۔
 مگر افسوس ہوتا ہے کہ ہم میں ایسے کلمہ گو بھی موجود ہیں جو’ نیتوں‘ کاحال جاننے پر مصرہیں اللہ سب کا حساب کرنے والاہے۔ ہم سب سے سوال کیا جائے گا کہ’’ کیا تم دوسروں کی  نیت کا حال جانتے تھے جو طعن و تشنیع پر اُتر جاتے تھے۔!! اُس وقت  ہمارا کیا بنے گا کیا یہ سوچنے کی بات نہیں۔ ؟؟