انوارالقرآن‌' ایک نظر میں

Education

انوارالقرآن‌' ایک نظر میں

از قلم : مخدومی حسام الدین

 

تمہید :

    قرآن مجید اللہ تعالی کی واحد مستند کتاب محفوظ حالت میں آج بھی موجود ہے ان شاءاللہ قیامت تک موجود رہے گی۔ اس کی زبان عربی ہے۔ استفادے کا صحیح طریقہ تو یہی ہے کہ عربی سیکھی جائے بصورت دیگر تراجم سے فیض حاصل کیا جاتا رہے۔

    الحمداللہ دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں علماء کرام تراجم پیش کرتے رہے اور انسانی دنیا فیض پاتی رہی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ لاطینی زبان میں پہلا ترجمہ 1547ء  میں راہب پطرس نے پیش کیا۔ انگریزی زبان میں دوسرا ترجمہ جارج سیل نے 1734ء میں کیا۔ اس کی اشاعت ابھی بھی جاری ہے۔ ہندی زبان میں پہلا ترجمہ کشمیر کے ہندو راجہ مہروک نے اپنی نگرانی میں 883ھ میں کروایا۔ فارسی زبان میں پہلا ترجمہ شیخ سعدی شیرازی نے 691ھ میں کیا۔ اردو زبان میں پہلا ترجمہ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی نے کیا جو کلکتہ سے 1254ھ میں شائع ہوا۔ اور پھر تواتر کے ساتھ اردو کے تراجم شائع ہوتے چلے آرہے ہیں۔ جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا ادبی شاہکار ترجمان القرآن ہے۔ مولانا محمود الحسن صاحب، مولانا فتح محمد جالندھری صاحب، مولانا احمد رضا خان صاحب، مولانا ضیاء الہدیٰ نقشبندی صاحب، مولانا عبد الماجد دریابادی صاحب، مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے تراجم پڑھے جاتے رہے۔ بعد میں مولانا مودودی کے ترجمے کو بھی پڑھا جاتا رہا۔ کیونکہ انہوں نے عربی مبین کو اردوئے مبین میں تقریری انداز میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی۔ تعلیم یافتہ طبقہ آج بھی اس سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ پہلی بار 1971ء میں شائع ہوا۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کا تدبرقرآن بھی پڑھا جاتا رہا۔

     اس نصف صدی کے آخر میں مولانا وحید الدین خان کا تذکیر القرآن، مولانا تقی عثمانی صاحب کا تیسر القرآن، حافظ فہیم احمد صدیقی صاحب کا القرآن المبین اور قریب کے دور میں "آسان فہم قرآن" کے نام سے جنوری 2014ء میں 'اسلامی کتاب گھر دہلی' کے ذریعے جناب شیخ امتیاز احمد صاحب نے ترجمہ کیا۔ موصوف آج‌ کل مدینہ میں مقیم ہے۔ اسی طرح علاقہ ودربھ کی مایہ ناز شخصیت محترم عبدالکریم پاریکھ صاحب نے 'آسان تشریح القرآن' پیش کیا۔‌ لوگ اس سے بھی فیض اٹھا رہے ہیں۔

     اردو زبان میں اب تک کم و بیش 140 تراجم ہو چکے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ یہ ایک سعادت ہے، اللہ کا ایک انعام ہے، اللہ جسے عطا کردے ؛ اللہ سبھی کو اپنے دامنِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔

 

اظہار مدعا :

    اب اپریل 2021 میں علاقہ مراٹھواڑہ کی مشہور و معروف شخصیت مولانا ڈاکٹر محمد صدرالحسن صاحب کا ترجمہ بعنوان 'انوارالقرآن' منظر  پر آیا ہے۔ اپنی 12 فروری 2021 کی تحریر میں مولانا ترجمہ کرنے کی غرض و غایت اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔

    " 1975 سے مطالعہ قرآن کے دوران ترجمہ کے سلسلے میں میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ہر مترجم قرآن نے اپنے وقت کی ضرورت کی تکمیل کی، لیکن کچھ عرصے کے بعد کہنگی ترجمہ کے ہربن مو سے  سے ٹپکنے لگی۔ اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں تقریباً 30 سال سے میرے تفسیر قرآن کا سلسلہ پابندی سے جاری ہے لیکن تلاوتِ قرآن کے بعد ترجمہ کی خواندگی کی دوران میں نے بار بار محسوس کیا کہ حلقہ درسِ قرآن کے اکثر افراد ترجمے کی زبان کے بہت سے الفاظ کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور ترجمہ کی بھی تشریح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جس کا ان حضرات نے کئی بار اظہار بھی کیا اور اس طویل عرصے میں کئی حضرات نے مجھ سے التجاء کی کہ عام فہم اردو زبان میں ترجمہ قرآن کی آج بھی شدید ضرورت ہے۔ اور ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ آپ اس عمل خیر کا انجام دے۔"

    الحمد للہ مولانا محترم نے خواہش کا احترام کیا اور دو سال کی مدت میں اس خدمت کو مکمل کرکے اہلیان اردو کو سیراب کر دیا۔

 

میری رائے :

    الحمدللہ کاغذ بہترین کوالٹی کا استعمال کیا گیا ہے۔ عربی متن و اردو ترجمانی بھی بہترین ہیں۔ پروف ریڈنگ پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ آسان سلیس اور عام فہم اردو زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ میں نے خود آخری کے بیس سورہ - سورہ ضحیٰ سے سورہ الناس تک اور سورہ فاتحہ کے ترجمہ کے ساتھ ساتھ چیدہ چیدہ اوراق پر درج ترجمے کو دیکھا۔  دوسرے چار تراجم کی روشنی میں بھی تقابل کیا۔ الحمدللہ اطمینان حاصل ہوا۔ اللہ انہیں بہترین اجر دونوں جہاں میں عطا کرے۔ ترجمہ کے متعلق صفحہ نمبر 917 سے 930 تک کلماتِ تبریک، مقدمہ، پیش لفظ، تقریط، حرف اولین، ابتداعیہ، علماء عظام کا پیش کیا ہوا ہے۔ پہلی اشاعت تو ٹھیک ہے لیکن بہتر ہوگا کہ دوسری اشاعت میں حذف کیا جائے کیونکہ آخری کور پیج پر یوں بھی آگیا ہے۔

    اسی طرح اخری میں دعائے ختم قرآن مع آسان ترجمہ اضافہ کر دیں تو بہتر ہوگا۔

    اسی طرح ہدیہ درج نہیں ہے، اسے دوسری اشاعت میں ضرور لکھوائیں۔ کاروباری دیانتداری کا تقاضہ ہے۔

 

اہل علم و مدرسین سے درخواست :

    اپنے اپنے حلقے میں اس ترجمہ کا تذکرہ کریں۔ اسے جہاں موقع میسر ہو مساجد، مدارس، اسکول، کالجس میں سنوانے کا اہتمام کیا جاتا رہے۔

 

اہل خیر سے گزارش :

    ایصال ثواب، ثواب جاریہ کے مقصد کو سامنے رکھ کر اسے قیمتاً خرید کر مساجد، مدارس، اسکول، کالجس، یونیورسٹیز کی لائبریریوں میں نفوذ کی راہیں نکالے۔

 

مولانا محترم سے گزارش :

اسے YouTube پر upload کروالیں تو احسن ہوگا۔

 

اردو اخبارات سے گزارش :

    مدیرانِ اردو اخبارات سے گزارش ہے کہ اس کے تراجم کو جمعہ کے خصوصی ضمیمہ میں قسط وار جگہ دیں تاکہ عوام الناس فیض اٹھا سکیں۔

 

اختتامیہ :

    اللہ رب العزت، مترجم قرآن جناب مولانا صدر الحسن صاحب مدظلہ العالی کی کوشش کو ثمرآور کرے۔ دین و دنیا دونوں جہاں میں اجر سے نوازے۔ ان کے خاندان کو سیراب کرے اور عوام الناس میں انوارلقران کی مقبولیت عطا کرے۔

(آمین)