ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے

National
Every soul is going to taste death

ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے

فہیم اختر، لندن

            کُلُّ نَفسٍ ذَاءِقۃُ المَوتِ: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔یعنی انسان ہوں یا جن یا فرشتہ، غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر زندہ کو موت آنی ہے اور ہر چیز فانی ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار پر موت مقرر فرمادی ہے اور اس سے کسی کو چھٹکارا ملے گا اور نہ کوئی اس سے بھاگ کر کہیں جا سکے گا۔ موت روح کے جسم سے جدا ہونے کا نام ہے۔حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھا سے فرمایا، دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر بلکہ راہ چلتا۔

 

            کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دوچار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا عرصے تک ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی چیز کے کھو جانے اور خاص طور پر کسی قریبی انسان کے موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ہم عموماً دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو دیں جسے ہم کچھ عرصے سے جانتے ہوں۔ جلدہی یہ بے یقینی جھنجھلاہٹ اور بے بسی میں بدل جاتی ہے۔ جس میں انسان اس بچھڑے ہوئے شخص کو ڈھونڈنے اور اس سے دوبارہ ملنے کے لیے تڑپنے لگتا ہے کہ حالانکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ ناممکن ہے۔اس حالت میں انسان بے سکون رہتا ہے، روزمرہ کی باتوں پر توجہ نہیں دے پاتا اور اس کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے۔

 

            اسی طرح کے کچھ واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ جن میں ایک تو ملکہ برطانیہ الیزبتھ دوئم کے شوہر پرنس فلپ اور دوسرا میرے منجھلے بھائی شبیر اختر جن کا تعلق کلکتہ سے تھا۔تاہم کورونا وبا کے دوران دنیا بھر سے مرنے والوں کی خبریں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعہ موصول ہورہی ہیں۔ کبھی کبھی تو موت کی خبروں کو سن کر جی اتنا گھبرا جاتا ہے کہ اگر اللہ پر یقین نہ ہو تو جینا محال ہوجائے۔

 

            جمعہ 9/ اپریل کو ملکہ الیزبتھ کے شوہر پرنس فلپ 99برس کی عمر میں وفات پاگئے۔اس بات کا اعلان بکنگھم پیلیس کی جانب سے جاری ایک پیغام میں بتایا گیا کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہر دلعزیز شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ وفات پاگئے ہیں۔‘محل کی روایت کے اہم خبر کو پیلس کا اسٹاف اپنی روایتی انداز میں اس نوٹس کو محل کے باہر چسپاں کرتا ہے۔

 

            دوسرے روز برطانیہ میں برطانوی وقت کے مطابق 12بجے ڈیوک آف ایڈنبرا کو توپوں کی سلامی دی گئی۔ لندن میں ٹاور آف لندن اور وولچ بیرکس کے علاوہ بیلفاسٹ، کارڈف، ایڈنبرا، پورٹس متھ سے ان توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس کے علاوہ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ کورونا کی وجہ سے وہ اپنے گھروں، آن لائن یا ٹی وی پر سلامی کے منظر دیکھیں۔

            سوموار 12/ اپریل کو ہاؤس آف کامنز میں ممبر آف پارلیمنٹ نے ڈیوک آف ایڈنبرا کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تمام سرکاری عمارتوں پر یونین اور قومی جھنڈے سرنگوں کر دئے گئے۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر مسلسل ڈیوک آف ایڈنبرا کے متعلق ڈوکومنٹری دکھائی جارہی ہے۔ جس میں ان کی زندگی سے متعلق اہم واقعات اور ان کے کارنامے پر تبصرہ بھی کیا جارہا ہے۔

 

            ملکہ برطانیہ الیزبتھ محل میں مقیم ہیں اور اپنے شوہر کے غم میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ تاہم ان کے خاندان کے لوگ اس دکھ کی گھڑی میں ملکہ برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا فلپ کے چار بچے، آٹھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اور دس پڑ پوتے پوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں تھے۔

 

            پرنس فلپ 10/جون 1921میں یونانی جزیرہ کورفو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد شہزادہ اینڈریو بادشاہ جارج اول کے چھوٹے صاحب زادے تھے۔ ان کی والدہ شہزادی لارڈ لوئس ماؤنٹبیٹن کی بیٹی تھیں اور ملکہ وکٹوریہ کی پڑنواسی تھیں۔

 

            زیادہ تر شاہی خاندان کے افراد چیریٹی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی چیریٹی دنیا بھر میں کمزور، معزور اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔ ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ نے بھی ایک چیریٹی قائم کر رکھی تھی جو نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔ 1956ء میں اس میں دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے غیر معمولی طور پر کامیاب ڈیوک آف ایڈنبرا ایوارڈ کا اجرا کیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت دنیا بھر میں 15سے 25سال کی عمر کے نوجوانوں کو جسمانی طور پر قابل اور معذور افراد کو باہر کی جانے والی متعدد سرگرمیوں میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر چیلنج کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں ٹیم ورک، وسائل اور فطرت کے احترام کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے۔پرنس فلپ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ یہ کر سکتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی ایک شعبے میں کامیاب ہوں تو، اس کامیابی کااحساس بہت سے دوسرے شعبوں میں پھیل جائے گا۔

 

             ڈیوک آف ایڈنبرا کئی دہائیوں تک ملکہ برطانیہ الیزبتھ دوئم کی حمایت کرنے اور اپنے ہی خیراتی اداروں اور تنظیموں کے پروگراموں میں شرکت کے بعد بڑھتی ہوئی عمر اور صحت کی بنا پر اگست 2017میں عوامی زندگی سے سبکدوش ہوگئے تھے۔بکنگھم پیلس کے مطابق پرنس فلپ نے 1952سے ریٹائرڈ تک 22219انفرادی طور پر شاہی مصروفیات میں حصہ لیا تھا۔اسی سال کے آخر میں پرنس فلپ نے شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔

 

            جنوری 2019میں سینڈرانگھم کے قریب گاڑی چلاتے ہوئے وہ ایک کار حادثے میں بال بال بچے تھے۔ دوسرے کار میں موجود دو خواتین کو زخم آئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ڈیوک آف ایڈنبرا نے رضاکارانہ طور پر اپنے ڈرائیونگ لائسنس واپس کر دیا تھا۔

 

            میری ملاقات پرنس فلپ سے 15/مئی 2012میں ہوئی تھی۔ اسی سال ملکہ برطانیہ اپنی تاجپوشی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات منا رہی تھیں۔ اس موقعہ پر مجھے بھی بطور مہمان دعوت دی گئی تھی اور مجھے ملکہ برطانیہ سے ملوایا گیا اور میرے کاموں کی سراہنا کی گئی تھی۔ اس دوران میں نے پرنس فلپ سے بھی مختصر ملاقات کی اور ایک دلچسپ بات یہ دیکھی کہ جب ملکہ برطانیہ لوگوں سے پات چیت میں مصروف تھیں تو پرنس فلپ نے اپنی ٹانگوں کو زمین پر پٹک کر اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔

 

            جمعہ 16 اپریل،کلکتہ میں سحری کے وقت بھی میرے لیے درد بھرا دن تھا جب دیر رات گئے میں تراویح پڑھ کر گھر لوٹا تو لندن کے وقت کے مطابق رات کے ساڑھے گیارہ بجے میرے چھوٹے بھائی نے کلکتہ سے فون کر کے میرے منجھلے بھائی شبیر اختر کے اچانک دل کے دورے سے موت کی خبر کی اطلاع دی۔اِنِّالِلہ وَاِ نَّا اِ لَیہِ رَاجِعونَ۔

 

            اس کے بعد 20/ اپریل کو کمرہٹی سے بھیرب گنگولی کالج کے شعبہ اردو پی جی سیکشن کے انچارج بھائی طیب نعمانی نے فون کر کے بتایا کہ معروف ڈرامہ نگار اور مولانا آزاد کالج کے اردو پروفیسرسید محمد اظہر عالم کا کورونا سے انتقال ہوگیا۔ اظہر سے میری پہلی ملاقات 1986ء میں مولانا آزاد کالج میں ہوئی تھی۔جب میں اسٹوڈنٹس یونین کا کلچرل سیکریٹری اور پھر جنرل سیکریٹری بناتھا۔اسی سال مولانا آزاد کالج ڈائمنڈ جوبلی منارہا تھا اور اردو کے سارے پروگرام کی ذمہ داری میرے سر تھی۔ مجھے معروف ڈرامہ نگار ظہیر انور کی ہدایت میں کالج میں اردو ڈرامہ کروانا تھا۔ لیکن اس میں ایک لڑکی کا کردار تھا جو مسئلہ بنا ہوا تھاجس کی وجہ یہ تھی کہ اُن دنوں کالج میں صرف لڑکے پڑھتے تھے۔ میں نے سید محمد اظہر عالم سے لڑکی کا رول کرنے کی گزارش کی، تو اظہر نے جھجھکتے ہوئے کہا فہیم بھائی میں یہ رول کیسے کر سکتا ہوں۔ میں نے اظہر کو کسی طرح منالیا اور وہ میری ضد اور محبت کے تئیں لڑکی کے رول کو ادا کرنے کے لیے ہچکچاتے ہوئے تیارہوگئے۔اور اس طرح ایک دن اظہر نے اپنی صلاحیت اور قابلیت سے اردو ڈرامے میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔جس پر ہم سب کوہمیشہ ناز رہے گا۔

 

            اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ بھائی شبیر اختر، اظہر عالم کے ساتھ ساتھ تمام گزرنے والوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

 

فہیم اختر

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com