ماہ صیام کے سحری میں بیدار کرنے والے ڈھولچیوں کی روایت اور اس کا پس منظر

Education
The tradition of the dholchis awakening in the dawn of the month of Ramadan and its background

ماہ صیام کے سحری میں بیدار کرنے والے ڈھولچیوں کی روایت اور اس کا پس منظر

احمد سہیل

اردو کے شاعر، ادبی اور ثقافتی نقاد، ادبی، محقق اور عمرانیات نظریہ دان، مقالہ نگار،مترجم، ماہر عمرانیات اور ماہر جرمیات، احمد سہیل کا اصل نام احمدخان ہے ان کی پیداءش2/جولائی 1953 کو کراچی پاکیستان میں ہوئی حالِ مقیم امریکہ

 

"پھیری والا آگیا تے سب نوں جگا گیا، اُٹھو ایمان والو سحری دا ویلا آگیا۔"

رمضان المبارک میں ہر صبح سحری کا وقت شروع ہوتے ہی کچھ اس طرح کی آوازیں کانوں کو سُنائی دیتی ہیں۔

شہریوں کو سحری کے اوقات میں جگانے والے ڈنڈورچی یا پھیری والے ڈھول اور کنستر یا ٹین وغیرہ بجانے کے ساتھ ساتھ صوفیانہ کلام پڑھ کر عرصہ دراز سے روزہ رکھنے والوں کو جگانے کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ میری ماں کہا کرتی تھیں کہ روزے داروں کو جگانے کا بہت ثواب ہوتا ہے اور یہ میری والدہ نے ہی بتایا تھا کہ موذن رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہہ نے سب سے پہلے تاریخ میں لوگوں کو سحری کے لئے بیدار کیا۔ مکہ مکرمہ میں ان ڈھول والوں کو زمزمی کہتے ہیں جبکہ مصر میں لالٹین جلا کر لوگوں کے گھروں میں منادی کی جاتی ہے۔ کویت میں ایسے ڈھول بجانے والوں کو ابو طبیلہ کہتے ہیں اور مراکش میں ایک شخص بگل بجا کر رمضان کی آمد اور خاتمے کا اعلان کرتا ہے۔ مسلم امہ میں سحر و افطار کی مختلف روایات ملتی ہیں۔ سعودی عرب میں سحر وافطار کا اعلان توپ داغ کر کیا جاتا ہے ۔

دنیا میں رمضان المبارک کے مہینے میں مساہراتی کرنے والوں کے حوالے سے بعض ثقافتی روایات اب بھی جاری ہیں، ان قدیمی روایات میں ایک ڈھول بجاکر لوگوں کو سحری کے وقت جگانے کی روایت بھی ہے، یہ روایت تقریباً چار سو سال پرانی ہے اور یہ سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ النصیر کے دور میں مصر سے شروع ہوئی۔

مصر کا حکمران عتبہ ابن اسحاق رمضان کے دوران قاہرہ کی سڑکوں کا دورہ کرنے والے پہلا شخص تھا جو لوگوں کو شاعرانہ انداز میں بولتے ہوئے جگاتا تھا ، وہ کہتا تھا ’’تم لوگوں میں جو سو رہے ہیں وہ اُٹھیں اور اللہ کی عبادت کریں۔ مصر میں رمضان المبارک کے دوران فانوس (لالٹین) اٹھا کر گلیوں کے چکر لگاتے ہیں، یہ روایت ایک ہزار برس سے زائد پرانی ہے، کہا جاتا ہے کہ 969ء میں اہلِ مصرنے قاہرہ میں خلیفہ معز الدین اللہ کا فانوس جلا کر استقبال کیا تھا جس کے بعد سے رمضان المبارک کے دوران فانوس جلانے کی روایت کا آغاز ہوا۔ ایک اور روایت کے مطابق فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ کی یہ خواہش تھی کہ قاہرہ میں رمضان المبارک کے دوران افطاری کے بعدچراغاں کیا جائے، چناں چہ انہوں نے یہ حکم جاری کیا کہ تمام مساجد پر لالٹین روشن کی جائے۔ ترکی، مصر، لبنان، خلیجی ممالک اور پاکستان میں بھی سحری جگانے والے اب بھی بہت مقبول ہے۔ تقریباً تمام ممالک میں یہ ڈھول بجاکر سحری میں لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور عید پر اپنی محنت رقم کی صورت میں وصول کرنے آتے ہیں۔

عرب ممالک میں مساہرتے کہا جاتا ہے۔ ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کے عہد سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اب یہ تقریباً تمام اسلامی ممالک میں ایک رسم بن چکی ہے۔ عام طور پر ڈھول، دف، اور تاشے بجاکر روزہ داروں کو اٹھایا جاتا ہے۔ کویت میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے والے گلی گلی پھرتے ہیں ان کو ابو طبیلہ کہا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں رمضان المبارک میں ہوٹل مکمل بند رکھے جاتے ہیں۔ مراکش میں بچوں کی روزہ کشائی کی روایت بڑی قدیم ہے۔ 27 رمضان کو بچوں کو روزہ رکھوایا جاتا ہے اور روزہ کشائی کی تقریب سحری میں منعقد کی جاتی ہے۔

علماء دین کا کہنا یہ تقریباً 4 سو سال پرانی روایت ہے جو سلطنتِ عثمانیہ سے شروع ہوئی تھی۔

تاہم جدت کے اس دور میں الارم والی گھڑیوں اور موبائل فونز کے استعمال سے یہ قدیم روایت معدوم ہوتی جا رہی ہے اور اس رمضان میں شہر کے چند ہی ایسے علاقے ہیں جہاں پھیری والوں کی آوازیں کانوں کو سُنائی دیتی ہیں۔امریکہ کے شہر نیویارک میں سن 2002 سے محمد بوٹا نامی ایک ٹیکسی ڈرائیور ڈھول بجا کر مسلمانوں کو سحری کے لیے جگا رہا ہے۔

رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمان سحری اور افطار کے لیے خصوصی اہتمام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مختلف خِطّوں میں سحری کا وقت شروع اور ختم ہونے اور افطار کے وقت کا آغاز ہونے کی اطلاع دینے کے لیے مختلف اسلامی ممالک یا مسلمانوں کی بستیوں میں صدیوں سے مختلف طریقوں پر عمل کیا جاتا ہے۔ بدلتی ہوئی معاشرتی ضروریات کے تحت ان طریقوں میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں۔ نت نئی ایجادات اور اختراعات نے پہلے کی نسبت یہ کام آسان بنا دیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی سحری اور افطار کے اوقات کی اطلاع دینے کی روایت موجود ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ اس میں بعض تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے اس روایت کی کیا شکل تھی اور وقت کے ساتھ اس میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مختلف شخصیات سے گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ موجودہ دور میں اس روایت کے امین بعض افراد سے رابطہ کیا گیا۔ آئیے ! یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وقت گزرنے کے ساتھ مذکورہ روایت میں کیا تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ رفیع احمد 1930ء میں مغل سرائے (بنارس) کے قریب واقع ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق اس گائوں میں مسلمان اقلیت میں تھے لہٰذا وہاں رمضان میں مسلمانوں کے محلّوں والا روایتی ماحول نہیں تھا۔ قیام پا کستا ن کے بعد ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آیا اور گورا قبرستان کے قر یب ایلومینیم کوارٹرزمیں رہائش پذیر ہوا۔ اس زمانے میں گھر وں میں کام کرنے والی ماسیوں کے بچّے یا شوہر ٹین کے ڈبّے لے کر سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لیے آتے تھے۔پھر وہ ڈرگ کالونی اور وہاں سے گلشن اقبال منتقل ہوئے۔ اس سفر میں انہوں نے مذکورہ علاقوں میں بھی سحری میں جگانے کے لیے آنے والوں کو دیکھا۔حمد علی ،گلستان جوہر میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ عمر کی 70 سے زائد بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ سابق ریاست حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور پاکستان آنے سے قبل تک ان کا خاندان وہیں مقیم رہا۔ ان کے مطابق ان کے علاقے گل برگہ میں بہت سے افراد رمضان میں محلّے کی مساجد میں جاکر افطار کرتے تھے۔ مساجد میں مختلف گھروں سے ایک ایک ہفتے تک افطاری آتی اور لوگ اپنے ساتھ بھی افطار کا سامان لے جاتے تھے۔ وہاں بہت مشہور قلعہ ہشّام تھا جس میں اونچے مقام پرتوپ نصب تھی۔ سحری کا وقت ختم ہونے اور افطار کا وقت شروع ہونے کے وقت وہ توپ داغی جاتی جس کی زوردار آواز بہت دور تک سنائی دیتی تھی۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان کے وقت تک چلتا رہا۔ پھر وہ پاکستان آکر1975ء تک حیدرآباد کالونی (کراچی) میں رہائش پذیر رہے۔ ان کے بہ قول وہ جب تک حیدرآباد کالونی میں رہائشی پذیر رہے وہاں سحری کے وقت جگانے کے لیے لوگ آتے تھے۔پھر وہ 2000ء تک گلشن اقبال کے علاقے میں رہائشی پذیر رہے۔ وہاں بھی 2005ء تک سحری میں جگانے والے آتے تھے ، لیکن پھرسکیورٹی کے معاملات کی وجہ سے یہ سلسلہ وہاں ختم ہوگیا تھا۔

لوگوں کو سحری کے لئے بیدار کرنے کی روایت کا آغاز 1936ءمیں ہوا تھا۔ آج ان کی چوتھی نسل اپنے بزرگ پاکدھن کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ ان کی پانچویں نسل بھی یہ روایت کو قائم کئے ہوئے پاکدھن کے پوتے ارشد بوبی نے ”بزم سرکارِ دو عالم“ کی ابتدائی روداد سناتے ہوئے بتایا ”ہمارے بزرگ برصغیر میں امرتسر فرید چوک میں رہتے تھے۔ وہ میوزک کے ساز بجانے میں مہارت رکھتے تھے اور ”خاں صاحب“ کہلواتے تھے۔ جیسے کہ آپ کومعلوم ہے کہ رمضان میں میوزک کا کام نہیں ہوتا اس لے وہ رمضاں میں مسلمانوںکو سحری کے لئے بیدار کرنے کے لئے گلی کوچوں میں ٹولی بنا کر حمد و ثناء موسیقی کے ساتھ گاتے جاتے ، لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق ان کو نذرانہ بھی دیتے۔ 14 اگست 1947ءکو پاکستان بنا تو یہ رمضان کا ہی مہینہ تھا۔ ہمارے دادا اپنے دو بیٹوں محمد فیض اور نذر سمیت 20 اگست کو پاکستان آ گئے اور لاہور کے پانی والے تا لاب کے پاس صلاح الدین کی حویلی کے پاس رہائش اختیار کر لی ۔ پاکستان میں میرے دادا کی سحری کے لئے بیدار کرنے کی روایت کومیرے والد محمد فیض نے برقرار رکھا۔ میرے والد ہارمونیم بجاتے تھے ہمارے اور رشتے دار بھی سازندے تھے کوئی طبلہ بجاتا تھا تو کوئی سارنگی ۔ اس وقت ڈھولکی نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت رمضان المبارک میں میرے والد ہارمونیم اور ہمارے ایک رشتے دار طبلہ گلے میں لٹکائے، اپنے بچوں کو لالٹین تھمائے آدھی رات کو لوگوں کو سحری کے لئے بیدار کرنے کی غرض سے ٹولی کی شکل میں حمد و ثناءپڑھتے نکلتے، کوئی عقیدت سے ان کو چار ، آٹھ آنے ، کوئی روٹی‘ کوئی آٹا‘ کوئی شکر اور کوئی گُڑ دے دیتا۔ یوں ان کا رمضان میں کھانے پینے کا بھی انتظام ہو جاتا اور اﷲ کی رضا کے لئے یہ کام کر کے خوشی بھی ہوتی۔

ماہ رمضان میں سحری میں جگانے کی صحت مند روایت دلوں اور ہاتھوں کی تنگی کی وجہ سے اب دم توڑ رہی ہے۔ پھیری باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے والا ایک معاشرتی بندھن تھا لیکن معاشرے میں انتشار کے ساتھ اس کی گرہ بھی اب دھیرے دھیرے کھلتی جارہی ہے ۔ اٹھو سونے والو سحری کا وقت ہے ۔ اٹھو اللہ کے لئے، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے، جیسے پر ترنم نغمے گاتے اور شعرو شاعری کرتے پھیری والوں کی صدائیں وقت کے تھپیڑوں اور مع شرتی دستور میں تبدیلی کے سبب اب مدھم پڑتی جارہی ہے ۔ اتر پردیش میں اعظم گڑھ میں واقع اہم اسلامی تحقیق کے ادارے دارالمصنفین کے نائب سربراہ مولانا محمد عمیر نے بتایا کہ سحری کے لئے جگانا پھیری والوں کی سماجی شناخت ہوا کرتی تھی ۔ پرانی تہذیب کے رہنما مانے جانے والے یہ پھیری والے رمضان میں دیہاتوں اور شہروں میں رات کو لوگوں کو سحری کی خاطر جگانے کے لئے شعروشاعری کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔ زیادہ تر پھیری والے فقیر برادری کے ہوتے ہیں۔

مولانا عمیر نے بتایاکہ سحری کے لئے جگانے کے عوض میں لوگ عید میں انہیں بخشش دیتے تھے لیکن اب لوگوں کے دل اور ہاتھ تنگ پڑ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سحری کے لئے جگانے کی روایت اب دم توڑ رہی ہے ۔ اب پھیری والوں کی جگہ لاؤڈ اسپیکر اور الارم گھڑی نے لے لی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پرانے وقت میں خوش حال لوگ کمزور طبقوں کی بہتر انداز میں مدد کرتے تھے اور پھیری کے بدلے بخشش بھی اسی کاحصہ ہوا کرتی تھی ۔ امیر لوگ ان پھیری والوں کے تیوہار کی ضرورت پوری کردیتے تھے مگر اب یہ فکر اپنا نور کھوچکی ہے ۔ مولانا عمیر کے مطابق پھیری والے لوگ مذہبی لحاظ سے خوشی اور ثواب کے لئے یہ کام کرتے تھے ۔ پھیری ایک سماجی بندھن بھی تھا ۔ پھیری کے ذریعہ نہ صرف لوگوں کوجگانے کا کام جاتا تھا بلکہ اس کے ذریعہ ایک دوسرے کی خیر و خبر بھی رکھتے تھے۔ سحری کے لئے لوگوں کو جگانے والے فقیر عبدالمنان کا کہنا ہیکہ روزہ دار کو سحری کے لئے جگانے کا سلسلہ گزشتہ پانچ چھ سال سے کم ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ خاص علاقوں تک محدود ہوگیا ہے۔ عبدالمنان کہتے ہیں کہ رمضان میں اب پھیری والوں کو رجحان اس کے مقابلے خوش حال شہروں کی طرف رہتا ہے اور وہ وہاں جاکر لوگوں کو سحری میں جگانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس سے انہیں عید میں اچھی خاصی بخشش ملتی ہے ، جواب چھوٹے شہروں اور گاؤں میں حاصل نہیں ہوتی ۔

" سحری جگانے والوں کا گیت "

سحری جگا ریا ہوں

سب کو اُٹھا ریا ہوں

اُٹھ جاؤ مومنو سب

آواز لگا ریا ہوں

اپنا اصل دھندہ

ہے آج کل کچھ مندا

سو بن کے چنگا بندہ

ڈھولک بجا ریا ہوں

اُٹھ جائیں لوگ جلدی

سحری کریں پھر جلدی

روزہ رکھیں وہ جلدی

میں ثواب پا ریا ہوں

سونے کے ہیں جو دھتّی

آئی اُن کی بدبختی

اُٹھاؤں گا زبردستی

پہلے بتا ریا ہوں

سحری بناؤ آپا

سب کو اُٹھاؤ، آپا

پراٹھے کھلاؤ، آپا

میں خوشبو کھا ریا ہوں

اُٹھ گئے ہو تم جو بھائی

سونے کی مت کرو ٹرائی

مت لو ایسے جمائی

سستی بھگا ریا ہوں

سب لوگ اُٹھ گئے ہیں

اور سحری کر رہے ہیں

پیٹ اپنے بھر رہے ہیں

میں سونے جا ریا ہوں

 

***{احمد سہیل} ***