ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی

Education
Dr Khaliquzzama Siddiqui

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی۔۔۔۔۔۔

الیکشنز میں انگلی پہ نشان چھوڑنے والا رنگ سلیم الزماں صدیقی کا ہی بنایا ہُوا ہے

حکیم اجمل خان کے ساتھ مل کر بلڈ پریشر کی دواء دریافت کرنے کا اعزاز بھی ان کو ہی حاصل ہے

 

اپنے بچپن میں وہ اس کیڑے کو غور سے دیکھتے۔۔۔۔۔جو مٹی اور غلاظت سے ایک گولی سی بناتا ہے اور اس گولی کو آگے دھکیلتا رہتا ہے۔۔۔۔یہی اس کیڑے کی زندگی کا مقصد اور وہ گولی ہی اس کی "دنیا" ہوتی ہے۔۔۔۔اس کیڑے کو دیکھ کر اس بچے نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی زندگی۔۔۔۔۔۔کائنات میں پائی جانے والی ایسی چیزوں پر تحقیق میں گزار دے گا جن سے انسانی زندگی کو تحفظ مل سکے۔۔۔۔۔۔لکھنؤ کے بعد علی گڑھ اور فرینکفرٹ کے تواریخی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔1927 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔۔۔۔یہ وہ زمانہ تھا جب عالمی منظرنامہ جنگ کے امکانات سے دھندلا رہا تھا۔۔۔۔حالات بہت خراب تھے۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔تعلیم و تحقیق کے رسیا اس نوجوان کے بڑوں کے ساتھ شہرہ آفاق طبیب اور محقق حکیم محمد اجمل خان کے بزرگوں سے (جو سب ہی نامور طبیب اور عالمِ دین تھے) بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔حکیم محمد اجمل خان نے نوجوان کو خط تحریر کیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے اور ساتھ ہی چار صد روپے ماہانہ۔۔۔بھجوانے شروع کر دیئے۔۔۔ تاکہ نوجوان کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔۔۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپسی ہوئی تو جناب حکیم محمد اجمل خان نے اس نوجوان کو۔۔۔۔۔اپنے قائم کردہ طبی کالج  (طبیہ کالج دہلی ) میں جڑی بوٹیوں پر تحقیق کے لئے اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی۔۔۔ پیشکش۔۔۔نوجوان کے شوق سے مماثل تھی فوراً ہی مان لی گئی۔۔۔۔طبیہ کالج دہلی میں برِصغیر کی پہلی باقاعدہ کیمیائی تجربہ گاہ یعنی کیمسٹری لیب نے کام شروع کر دیا جس میں جڑی بوٹیوں پر تحقیق کے لئے سرمایہ اور مطلوبہ جڑی بوٹیوں کی فراہمی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خان کے ذمے تھی ۔۔۔دونوں کے دن رات اسی لیبارٹری میں گزرتے۔بلڈ پریشر کی پہلی مؤثر دواء دریافت کرنے کا اعزاز ان کو ہی حاصل ہے۔ Rauwolfia Serpentina یعنی چھوٹی چندن سے نو اہم الکلائیڈز کشید کئے گئے(الکلائیڈز وہ کیمیکل ہوتے ہیں جو پودوں اور درختوں میں عام پائے جاتے ہیں اور انہیں علاج کیلئے اضافہ کیا جاتا ہے۔ مارفین، کونین اور کیفین وغیرہ مشہور الکلائیڈز ہیں ۔انہوں نے اپنے تیار کردہ الکلائیڈز کے نام اجملین ، اجملنائن ، اجملا سائن، آئسواجملین  حکیم اجمل خان کے نام پر رکھے) ہائی بلَڈ پریشر کی دواء تیار کی گئی تو طبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔۔۔۔۔بہت عرصے تک مختلف آزمائشوں سے گزارنے کے بعد اس دواء کو عام کر دیا گیا ( ان دنوں میں حکیم محمد اجمل خان کے طبی کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے جناب حکیم سیّد عبداللطیف کا بیان ہے کہ طبیہ کالج دہلی میں بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں صاحبانِ اقتدار ، ماہرین طب اور بیرونی ممالک کے نمایاں افراد کی کثیر تعداد شریک ہُوئی۔) قائدِ ملت لیاقت علی خاں کے اصرار پر وہ 1951ء میں پاکستان آ گئے۔ حکومت پاکستان کے ایماء پر انہوں نے پاکستان کاؤنسل آف انڈسٹریل اینڈ سائینٹفک ریسرچ قائم کی جس کا مرکز کراچی میں تھا۔ 1940 میں وہ انڈین کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ڈویلمپنٹ ( آئ سی ایس آر)  کلکتہ میں تھے ۔ ادارے کے سربراہ نے اس سائنسدان کو الیکشن میں جعلی ووٹنگ کو روکنے کیلئے الیکشن انک بنانے کو کہا۔اس کے لئے ایک نمونہ اس سائنسدان کے پاس بھجوایا گیا جو رنگ چھوڑنے میں بہت وقت لگارہا تھا اس میں موجود سلور کلورائیڈ کو اس سائنسدان نے سلور برومائیڈ سے بدلا اور اسی شخص کے ہاتھوں واپس کردیا جو یہ نمونہ لے کر آیا تھا۔  اور ان کے آٹھ ساتھیوں نے اسے آزمایا اور فوراً رنگ آگیا۔الیکشن انک کا یہی فارمولہ آج بھی پاک و ہند میں استعمال ہورہا ہے۔۔۔

آج اس عظیم فلسفی ، مصور ، حکماء کی قدیم ترین نمائندہ طبی تنظیم طبی کانفرنس کے بانی حکیم محمد اجمل خان کے دست راست نامور سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی برسی ہے۔۔۔19 اکتوبر 1897 کے دن۔۔۔۔۔ہندوستان کے علاقے بارہ بنکی میں پیدا ہونے والے جناب سلیم الزماں صدیقی نے 14 اکتوبر 1994 کو کراچی میں رحلت فرمائی۔۔۔اللہ ان کو رحمتوں سے نوازے۔

(حکیم خلیق الرحمٰن)