سارہ ایورارڈ کا قتل:محافظ ہی قاتل نکلا

National
Murder of Sarah Everard

سارہ ایورارڈ کا قتل:محافظ ہی قاتل نکلا

فہیم اختر, لندن

            اللہ نے دنیا کی سب سے خوبصورت شے عورت کو بنایا ہے۔ عورت ماں، بہن، بھابھی، خالہ پھوپھو، اور نہ جانے کن کن رشتوں میں ہمارے درمیان ایک اہم اور عمدہ رول نبھاتی ہے۔اس کے علاوہ عورت خاندان کو قائم اور بڑھانے میں بھی اہم رول نبھاتی ہے۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ اللہ نے عورت کو ماں کی شکل میں دیا ہے۔

 

            جب سے دنیا قائم ہوئی ہے، ماں کی عظمت اور اس کی ممتا کی کہانیاں ہم سب سنتے آرہے ہیں۔ آج بھی ہم ماں کے پکوان، اس کا درد، اور اس کے سایے کی تمنا کرنے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ماں کی عظمت اور ممتا دنیا کے تمام ممالک، مذہب، ذات اور نسل میں پائی جاتی ہے۔ یہی نہیں جانوروں میں بھی ماں کی ممتا اور پیارکو دیکھ کر کچھ پل کے لیے ہم انسان سوچ میں غرق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا یہ کیسا کرشمہ ہے جو بے مثال ہے۔

 

            لیکن جب کسی عورت کے ساتھ زیادتی یا جبر ہوتا ہے یا اس کی عزت لوٹی جاتی ہے یا اسے جان سے مار دیا جاتا ہے تو ہمارا سر شرمندگی سے جھک جاتا ہے کہ آخر انسان عورت جیسی خوبصورت شے کو یوں مار کر کیا حاصل کرتا ہے۔کیوں انسان اپنی ماں، بہن، وغیرہ کو بھول کر ایک عورت کی جان لے لیتا ہے۔ کیوں وہ عورت کو کمزور سمجھ کر اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے لیے اس کی عزت لوٹ لیتا ہے؟ بہت سارے ایسے سوالات ہیں جس کا جواب شاید مجرم بھی نہیں دے پاتا ہے۔ لیکن سچائی یہی ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں عورتوں پرجس طرح ظلم اور جبر ہورہا ہے اس سے انسانیت سرمشار ہے۔

 

            3/مارچ کی شام 33سالہ مارکیٹنگ ایگزیکیٹو سارہ ایورارڈ جنوبی لندن میں غائب ہوگئیں۔ سارہ لندن کے بریکسٹن ہل کے علاقے کی رہنے والی تھیں۔ وہ کلافم کامن کے قریب اپنے دوست کے گھر سے واپس آرہی تھیں۔سارہ کے لاپتہ ہونے کی خبر سب سے پہلے اس کے بوائے فرینڈ نے 4/ مارچ کو دی۔ اس کے بعد پولیس نے چھان بین شروع کی اور سارہ کے گھر جانے کے راستے کا جائزہ لیا۔ کئی گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے اور ساتھ ہی دروازے پر نصب کیمرے والے ڈور بیل کا بھی معانہ کیا۔ لگ بھگ 750لوگوں سے بات کی اوراس کے علاوہ قریب کے پارک اور تالابوں کی بھی تلاشی لی گئی۔

 

9/مارچ کی آدھی رات کو میٹروپولیٹن پولیس نے اعلان کیا کہ انہوں نے سارہ ایورارڈ کی گمشدگی کے سلسلے میں کینٹ کے ڈیل علاقے سے پارلیمنٹری اور ڈپلو میٹک پرو ٹیکسن یونٹ کے پولیس آفیسر وین کوزنز کو اغوا کے شبہ میں  میں گرفتار کر لیا اور اور بعد میں اس کے قتل کے شبہ میں اسے کورٹ میں پیش کیا گیا۔

 

            10 /مارچ کو لندن کے جنوب مشرق میں 120 کیلو میٹر دور ایشفورڈ کے قریب ووڈ لینڈ میں ایک بلڈر کے بیگ میں لاش ملی جس کی شناخت سارہ کے دانتوں سے کی گئی۔اس خبر کو جب ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا تو لوگوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔عورتوں کی چیریٹیزنے  حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے عورتوں کی حفاظت کی مانگ کی اور اس بات پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا کہ اگر پولیس والا ہی ایسی حرکت کرے گا تو پھر لندن اور برطانیہ کی عورتیں کیسے محفوظ رہیں گی۔ ایک ممبر پارلیمنٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مردوں پر شام چھ بجے کے بعد کرفیو لگا دینا چاہیے تاکہ عورتیں آزادی اور بلا خوف و خطر کے گھوم پھر کر سکیں۔

 

            سارہ کی لاش ملنے کے بعد عورتوں کی تنظیموں اور عام لوگوں نے بھاری تعداد میں کلافم کامن میں احتجاج کیا جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی تھی۔اس دوران پولیس نے ایک خواتین کو زمین پر گرا کر گرفتار کیا جس کی تصویر پوری دنیا کے اخباروں نے شائع کی۔ اس واقعہ کے بعد حکومت اور پولیس پر کافی تنقید بھی ہوئی کہ پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دے کر جمہوریت کا گلا گھونٹا ہے تو وہیں حکومت نے پولیس کی حمایت میں کہا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی بھیڑ جمع نہ ہو،اس لئے ایسے قدم اٹھائے گئے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس کی کمشنر ایک خواتین ہیں۔جن کے استعفیٰ کی مانگ کی جارہی ہے۔

 

            سارہ ایوارارڈ کے قتل نے برطانیہ کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور عورتوں کے حقوق کی مہم چلانے والوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ سارہ کی بہیمانہ قتل نے برطانیہ سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ہر طرف غصے اور اضطراب کا سونامی سا آیا ہوا ہے۔عام لوگ ایک معصوم خاتون سارہ کے ظالمانہ قتل پر غم کا اظہار کرنے گھروں سے نکل آئے ہیں اور آنسوؤں، غم زدوں کایہ سیلاب حکام کے لیے سخت کاروائی اور بیدار کرنے کی آواز ہے۔

 

            سارہ کااغوا اور قتل برطانیہ کی اداس تصویر دکھا رہا ہے جو جمہوری، آزاد خیال اور متمول معاشرے کی بوسیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔خواتین کے خلاف تشدد صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ معاشرے کا مسئلہ ہے۔ یہ تب ہی ختم ہوگا جب معاشرتی رویوں میں تبدیلی آئے گی اور ہم سب اس کے خلاف بولنے کی ذمہ داری قبول کریں گے۔عام طور پر خواتین کے لئے احترام ظاہر کرنے کے لیے ایک عوامی شعور اجاگر کرنا بنیادی فرض ہے۔

 

            کورونا وبا کے دوران عام طور پر دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کافی بڑھ گیا ہے۔اس کے علاوہ گھریلو تشدد سے بھی زیادہ تر خواتین اپنے شوہروں اور پارٹنر سے کافی پریشان ہیں۔ جس کی ایک وجہ بے روزگاری میں اضافہ اور کورونا کی وجہ سے لوگوں میں ذہنی تناؤ کا بڑھنا ہے۔اگر انسان نرم مزاج، صابر اور انصاف پسند بن کر مضبوط کردار کے حامل ہوں اور لالچ، حسد، غصے اور تکبر پر قابو پانے والے بن جائیں تو گھریلو تشدد میں میں کمی آسکتی ہے۔

 

            قرآن مردوں اور عورتوں کے مابین ایک دوسرے کے محافظ کی حیثیت سے تعلقات کاخاکہ پیش کرتا ہے۔ مردوں کو عورتوں پرکوئی برتری نہیں ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد ایک قابو پانے والا طرز عمل ہے جسے کچھ مرد، خواتین پر اقتدار حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔جو زیادہ تر جسمانی تشدد ہے لیکن یہ جذباتی اور جنسی استحصال بھی ہو سکتا ہے۔

 

            ہر زندگی قیمتی ہوتی ہے۔ سارہ ایوارارڈ کا قتل اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ،ہم سب مساوات کو قبول کرتے ہوئے، نفرت اور تعصب پر قابو پائیں اور ان خواتین کا احترام کریں جو ہماری پیاری ماؤں، بہنوں، اور بیویاں یا کوئی بھی ہیں۔ایک پولیس آفیسر نے سارہ ایوارارڈ کو اغوا اور قتل کر کے جس طرح ہمارے اعتماد اور اعتبار کو ٹھیس پہنچائی ہے اس سے برطانیہ کے لوگوں کو شدید صدمہ پہینچا ہے۔ اس زخم کو بھرنے میں شاید ایک عرصہ لگے جائے۔

 

فہیم اختر

لندن

fahimakhteruk@yahoo.co.uk

www.fahimakhter.com