رفیق زکریا کی کہانی خود ان کی اپنی زبانی

Rafiq Zakaria's story in his own words

رفیق زکریا کی کہانی خود ان کی اپنی زبانی

مرزاعبدالقیوم ندوی: 9325203227

                ڈاکٹر رفیق زکریا 5/اپریل1920کو پیداہوئے اور 9/جولائی2005کو 85سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ڈاکٹرزکریا کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں، ہم نے اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب کی طالب علمانہ زندگی اور تحریکی و سماجی زندگی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اس بات کا علم ہوکہ ہما رے عظیم رہنماؤں نے کس طرح،تحریک آزادی اور مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لیے قربانیاں دیں۔جیلوں کی سختیوں،پولسوں کی لاٹھیوں،اسکول و کالج انتظامیہ کی دھمکیوں،اپنوں کی بے اعتنائیوں،خاندان والوں کی بے پروائیوں کو برداشت کیا، یقینا ان کے پاس ملک و ملت کے لیے زندگی میں کچھ کر گزرنے کا حوصلے بلند تھے۔نتائج سے بے خبری،انجام سے لاتعلقی ان کاشعار تھا، بس ایک ہی دھن  ان پر طاری رہتی کہ ملک کو ا نگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانا ہے اور اپنی قوم و ملک کی خدمت کرنا ہے۔ ا ٓئیے سنتے ہیں ڈاکٹر رفیق زکریا کی کہانی خود ان کی اپنی زبانی:

                میرے نوجوان دوستو! میری کہانی آپ کی زندگی میں اگرکچھ تبدیلی پیداکرسکے  تو میں سمجھوں گا کہ میری عمر کا حاصل  مجھے مل گیا۔ 1920میں، میں جس سال پیداہوا، خلافت تحریک ز وروں پر تھی۔ میں بتادوں کہ اس تحریک کی بنیاد علی برادران اور مہاتماگاندھی نے بمبئی کے خلافت ہاؤس میں رکھی۔گرچہ میں اس وقت بچہ تھا، لیکن جیسا جیسا شعور آتا گیا میں خلافت تحریک سے جڑتا گیا۔ یہی خلافت تحریک جس کی بنیاد میرے پیدائش کے سال رکھی گئی تھی۔میں اس تحریک کا کئی برسوں تک چیئرمین رھا۔میں آپ کو بتادوں کہ ہم نوجوانی کے دنوں میں ہر سال عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ایک بڑا جلوس نکالا کرتے تھے۔اس کی قیادت سب سے پہلے مہاتما گاندھی نے کی اس کے بعد تو یہ سلسلہ چل پڑا۔ہم ہر سال ملک کے کسی بڑے قومی لیڈر کو دعوت دیتے،اس جلوس کی قیادت کاشرف موتی لال نہرو،پنڈت مدن موہن مالویہ سے مرارجی دیسائی اور راجیو گاندھی تک نے کی ہے۔

                دوستو!: تحریک آزادی سے میری دلچسپی ووابستگی بچپن ہی سے تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں جس وقت پونا میں اینگلو اردو ہائی اسکول کا طالب علم تھا،اس تحریک کا پرز ور حامی تھا۔ ۷۱ سال کی عمر میں یعنی کہ 1937میں گاندھی جی پونا سے گزرہے تھے تو ہم چند نوجوان اتنے جوش میں تھے کہ ہم بھاگے بھاگے ریلوے اسٹیشن گئے اور وہاں گاندھی جی سے ملاقات کی۔اس وقت گاندھی جی سے ملنا کوئی مشکل کام نہیں تھا،آج کل کے قومی لیڈروں کی طرح ان کو کسی سیکوریٹی کی ضرورت نہیں تھی۔بڑی آسانی سے ان سے ملا جاسکتاتھا۔گاندھی جی سے جب ہم نے ملاقات کی تو ان سے کچھ سوالات بھی کیے۔میں نے ان سے پوچھا ’اس وقت آپ سیاست میں زیادہ فعال تو نہیں ہیں اورنہ ہی تعمیری کاموں میں حصہ لے رہے ہیں،جتنا کہ آپ پہلے لیاکرتے تھے تو انہوں نے کہا ”ہر چیز کا ایک موقع اور وقت  ہوتاہے ۔‘ پھر میں نے ان سے پوچھا،کیا آپ نے ہندو مسلم اتحا د کے لئے کام کرنا چھوڑ دیا ہے؟ انہوں نے میرے سوال کی نفی کرتے ہوئے جواب دیا۔ ”تمہیں یہ کس نے بتاد یا  میں نہ صرف ہندو مسلم اتحاد کے لئے کام کررہاہوں بلکہ اس کے لئے اپنی جان بھی قربان کر دوں گا۔‘اور میں اس وقت سے مہاتما گاندھی کا پکا مرید بن گیا، بلکہ کٹر گاندھی وادی کہیے  تو چلے گا۔

نوجوان ساتھیو!: میں اور میرے ساتھی کم عمری ہی سے ہر ملی و سماجی،تحریکی و تنظیمی کاموں میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ جب میں نے میٹرک امتحان پاس کرکے بمبئی کے اسماعیل یوسف کالج داخلہ لیاتو بڑا مزہ آیا،کئی قومی رہنماؤں سے ملاقات کا موقع ملا،کیونکہ اس وقت یہ کالج مسلم انٹلیکچلولس اور ثقافتی پروگراموں کا مرکز تھا۔ کالج میں آنے کے بعد میں کالج یونین کی سرگرمیوں میں فعال حصہ لینے لگا۔اسی کالج سے میری سماجی،ملی وسیاسی زندگی کاآغاز ہوا۔ سب پہلے میں نے ہی پنڈت جواہر لعل نہرو کو 1937میں کالج یونین سے خطاب کرنے کے لیے مدعو کیا اور یہیں  سے نہروجی سے میرے تعلقات کی بنیاد پڑی جو عمر کے آخر تک قائم رہی۔ میں پنڈت جواہر لعل نہرو سے اس لیے بھی بہت زیادہ متاثر ہواکہ وہ نوجوانوں کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاکرتے تھے اوران کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔مجھے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا،اس لیے میں نے 1934میں ہی ان کی سوانح حیات پڑھ ڈالی تھی۔

                دوستو!: وہ دور بڑا مردم خیز تھا،اس وقت ملک میں بڑے بڑے قومی لیڈر موجود تھے۔بمبئی میں محمد علی جنا ح کا جادو سر چڑھ کر بول رہاتھا۔ ان کی شخصیت نوجوانوں کو کافی متاثر کرتی تھی۔ میں بھلا کیسے ان سے متاثر نہیں ہوتا،میں نے بھی جناح میں دلچسپی لینی شروع کردی،کیونکہ 1937-38تک جناح فرقہ پرست نہیں تھے،اس زمانہ میں ہی کیا سبھی کانگریسی لیڈر ان کی بہت تعریف وعزت کیاکرتے تھے۔ سروجنی نائیڈو کا جملہ تو مشہور جس میں انہوں نے محمد علی جناح کو ”ہندومسلم اتحاد کا پیامبر“کہاتھا۔محمد علی جناح کو یوسف کالج کی یونین سے خطاب کرنے کے لیے بھی مدعو کیا گیا تھا۔وہ میری دعوت پر آئے اور یہیں سے میں نے محسوس کیا کہ وہ متحدہ پلٹ فارم سے ہٹ رہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد کہ یہیں سے انہوں نے کانگریس کے خلاف اپنا پروپیگنڈہ شروع کیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس وقت Times of India نے جناح کی تقریر کو شائع کرتے ہوئے یہ سرخی لگائی تھی ”مسلمانو! اب تم کانگریس سے علاحدہ ہوجاؤ۔‘جناح کا اعلان۔“ اور اس کے بعد سے میں بھی ان سے علاحدہ ہوگیا۔

طلباء تحریک اور میں: جب میری پروفیسر ہمایوں کبیر سے ملاقات ہوئی (ہمایوں کبیریہ مولانا آزاد اور نہرو کے خاص آدمیوں میں سے تھے ان د ونوں کا انہیں بڑا اعتماد حاصل تھا،(ہمایوں کبیر سابق چیف جسٹس آف انڈیا،التمش کبیر کے والد تھے) انہوں نے مجھے طلباء تحریک سے جوڑ دیا۔ اور پھرمیں نے کبھی پیچھے مڑ کرنہیں دیکھا۔ میں طلباء سے کہوں گا کہ آج جس طرح سے ہمارے کالج اور یونیورسٹی کے طلباء زندگی گزاررہے ہیں، بقول شاعر؎

نہ جینے کی پرواہ نہ مرنے کا غم

کماتی ہے دنیا کھاتے ہیں ہم

                آج کل کے طلباء میں سماجی و ملی کاموں کے تئیں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی، نہ وہ جوش ہے نہ وہ ولولہ،بس دھینگا مشتی ہے۔ اس وقت صرف ملک پر انگریزوں کا راج تھا اور تمام بھارتیوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ کس طرح سے ان کو دیس باہر کیاجائے۔ آئے دن مظاہرے،گرفتاریاں،دھرنے،ہڑتالیں،قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی تھیں،گویا یہ بھی زندگی کا ایک حصہ ہو۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ ہم سب صرف سماجی و فلاحی کاموں کے لیے مکمل طور وقف ہوگئے تھے بلکہ ہماری تعلیم بھی ساتھ ساتھ جاری تھی            ہمایوں کبیر سے ملنے کے بعد میرے اندر کافی تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے میری صلاحیتوں کو بخوبی پہچانااور میں انہی کی تحریک پر آل انڈیا اسٹوڈنٹ کاؤنسل کا ایک سرگرم رکن بن گیا۔ 1945-46میں نے all India students congres کے نمائندے کی حیثیت سے پراگ میں ہونے والی بین الاقوامی اسٹوڈنٹس یونین کے جلسے میں شرکت کی۔ اس وقت بھی محمد علی جناح کا جادو نوجوانوں پر اثر کررہا تھا،نوے فیصد نوجوان جناح سے متاثر تھے۔میرے اپنے خاندان والے مجھے باغی کہنے و سمجھنے لگے تھے۔لیکن میں نے ہا ر نہیں مانی اور میں برابر گاندھی اور جواہر لعل نہرو،کانگریس کے ایجنڈے کو عام کرنے میں لگا رہا، اس کے لیے میں نے تن من دھن کی بازی لگا دی،اخبارات میں بے شمار مضامین لکھے۔Times of Indiaاور دیگر انگریزی اخبارات میں میرے مضامین شائع ہو نے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیاں بھی بڑھتی گئیں۔ چنانچہ  9/اگست 1942کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جلسے میں جب بھارت چھوڑو تحریک کی تجویز پیش کی گئی،میں اس میں بھی شامل تھا اور اس وقت میری عمر صرف 22سال تھی۔اس جلسے کے بعد میرے نوجوان ساتھیوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوگیا  اور گورنمنٹ لا کالج یونین کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ہم نے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پرہمیں کالج سے نکال دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔مگر ہم نہ مانے۔میں نے پرنسپل پروفیسر اے اے فیضی صاحب سے کہا وہ جو چاہیں کریں لیکن ہماری سرگرمیاں تھمنے والی نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہم مختلف جگہوں پر گئے اور سرکار مخالف نعرے لگائے۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے ضیافت ڈنڈوں سے کئی گئی۔ مجھے گرفتار کرکے پولس حراست میں بھیج دیا گیا۔

میری تعلیم:جیساکہ میں نے اوپر بتایا کہ تمام تر ملی،سماجی و قومی تحریکوں سے وابستگی اور اس میں فعال کردار اداکرنے کے باوجود ہم نے کبھی اپنی تعلیم سے غفلت نہیں برتی۔میں  lawکے ساتھ ساتھ M.Aبھی کررہا تھا اس لیے تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہوئے 16/جون1944کو بمبئی یونیورسٹی کے فارن ریسرچ اسکالر شپ پر لندن کے لئے روانہ ہوگیا۔لندن میں،میں نے اپنی پوری توجہ تعلیم کی طرف مبذول کردی اور وہاں کے اسکول آف اکانومکس میں پروفیسر ہیرولڈ لاسکی کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کرنا چاہ رہا تھا مگر انہوں نے مشورہ دیاکہ میں کیمبرج ہسٹری آف انڈیا کے جنریل ایڈیٹر پروفیسر گاڈویل کی نگرانی میں اپنا مقالہ مکمل کروں۔

قومی سیاست میں حصہ:  لندن میں دروان قیام میرے تعلقات مشہور قومی لیڈرکرشنا مینن سے قائم ہوئے انہیں میرے اندر مستقبل کا ایک مسلم قائد نظر آیا۔میں ان کی سرپرستی میں مختلف بھارتی تنظیموں و تحریکوں میں حصہ لینے لگا۔سب سے

 پہلے وہاں انڈیالیگ کے لیے کام کرنے لگا۔ لندن میں منعقدہونے والے متعدد جلسے،جلسو ں کا مقرر خاص تھا،جسے کرشنا مینن لندن کے کئی علاقوں میں بڑے اہتمام او ر محنت سے نکالا کرتے تھے۔ایک ہی سال میں،میں وہاں اپنی صلاحیتوں کی بنا پر لندن مجلس کا صدر مقررہوگیا۔ یہ تنظیم اس وقت کی سب بڑی اور طاقتور بھارتی طلباء کی تنظیم تھی۔ میں نے رات دن اس تنظیم کو بڑھانے کے لیے ایک کردیئے جس کی بناپر دوسرے ہی سال مجھے کرشنا مینن اور دیگر رہنماؤں نے یورپ کی Indian students socitey کی فیڈریشن کاچیرمین منتخب کیا۔ یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ میں واحد مسلم تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سارے عہدے مجھے اس لیے دیئے کہ کانگریس مجھے قومی مسلم کی حیثیت سے آگے بڑھا نا چاہتی تھی۔کیونکہ میرے اندر کئی خوبیاں جمع ہوگئی تھی،میں نہ صرف کانگریس کا پرزور حمایتی تھا بلکہ انگریز حکام سے لڑنے کی میرے اندر بھی  ایسی  ہی زبردست قوت ارادی  ابھرتی گئی جیسی کے اس وقت کے کسی دوسرے ہندو نوجوان کے پاس تھی۔

میں اپنی سیاسی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنا کر آپ سے رخصت ہونا چاہتا ہوں۔بات 1964کی ہے۔بمبئی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ ہورہی تھی۔ یہ میٹنگ پنڈت جواہر لعل نہروکی موت سے  دس دن قبل ہوئی تھی،اس میٹنگ میں شیخ عبداللہ بھی موجود تھے۔ ایک مقرر کی حیثیت سے مجھے بھی بلایا گیاتھا۔میں سوچ میں پڑگیا کہ اتنے بڑے بڑے قائدین کی موجودگی میں کیا تقریر کروں، مجھے اچانک کشمیر پر ایک نظم جو کاغذپر لکھی ہوئی میری جیب تھی یاد آئی۔ میں نے جیب سے پرچی نکال کر وہی نظم وہاں سنا دی۔ آپ بھی سن لیجئے    ؎   قسم ہے خون گاندھی کی،

قسم ہے خون شہیداں کی،

قسم ہے نہروکے آدر کی،

قسم مزدورو دہقاں کی،

یہ ممکن ہے کہ سورج کی،

شعاعیں سرد پڑجائیں،

سمندر خشک ہوجائیں،

ستارے زردپڑجائیں،

چہکناچھوڑدے شاہ گلستاں،

یہ بھی ممکن ہے،

برسنا چھوڑ دے ابر بہاراں،

یہ بھی ممکن ہے،

کوئی بھی جموں کشمیر ہم سے،

لے نہیں سکتا،

وطن کی ایکتاکو پھرسے دھکا،

دے نہیں سکتا،۔

                اس وقت ہال میں لال بہادر شاستری جی بھی موجودتھے وہ اٹھ کر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے وہ کاغذمانگا جس پر نظم لکھی تھی۔ مجھے اس نظم کا صلہ یہ ملا کہ جب شاستری جی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے 1965ء میں ہندو وپاک کی جنگ موقع پر  مجھے اقوام متحدہ میں بھارتی وفد کا ڈپٹی لیڈر بناکر بھیجا۔یہ میرے لیے بڑی عزت کی بات تھی۔

اس امیدو آرز و کے ساتھ آپ سے رخصت ہوتا ہوں کہ آپ میری زندگی سے کچھ سبق حاصل کریں گے،میں آپ سے یہی گذارش کروں گا کہ ہمیشہ قومی،ملی،مذہبی،سماجی و سیاسی تحریکوں سے وابستہ رہیں۔ اصل مقصد کو کبھی فراموش نہ کریں۔اس وقت ملک اور قوم کو آپ کی بہت سخت ضرورت ہے،اس وقت صرف ہم انگریزوں سے نبرد آزما تھے آج آپ لوگوں کو کئی محاذوں پر لڑنا ہے،ملک و قوم کی نمائندگی کرنا ہے۔اپنا اور اپنے ملک و شہر کا نام روشن کرنا ہے۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔