بے باک قائد کے مشن کو پورا کریں

Fulfill the mission of a fearless leader

بے باک قائد کے مشن کو پورا کریں

نازش ہما قاسمی

یہ دنیا فانی ہے یہاں سے سبھی کو ایک نہ ایک دن جانا ہے باقی رہنے والی صرف اللہ کی ذات ہے، امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا سید محمد ولی رحمانی بھی اس فانی دنیا کے باشندہ تھے گزشتہ روز خدا کے یہاں سے بلاوا آیا اور لبیک کہتے ہوئے لاکھوں سوگواروں کو روتا بلکتا چھوڑ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا کا انتقال بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خسارہ ہے، ان کے انتقال سے ہر درد مند دل رنجور ہے اور بارگاہ ایزدی میں مولانا کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعا گو ہے۔ مولانا محترم ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم قائد اور بےباک و نڈر رہنما تھے۔ انہوں نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا انہیں جو حق لگا اس کا ساتھ دیا اور رہتی زندگی تک حق گوئی و بے باکی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ مولانا واقعی ایک عظیم مصلح ، دوراندیش قائد اور بے مثال رہنما تھے۔ امت کی رہبری انتہائی عالیشان طریقہ سے فرمائی اس قحط الرجال دور میں بھی ببانگ دہل اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے کھڑے رہے اور حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی بے باکی و جرات مندی کے ساتھ قوم مسلم کے مسائل کو پیش کیا اور ان کے حل پر زور دیا، یہی وجہ ہے کہ جب فرقہ پرست حکومت نے طلاق ثلاثہ پر پابندی کے لئے راہیں ہموار کرنا شروع کی تو مولانا محترم نے بورڈ اور امارت شرعیہ کے بینر تلے آزادی ہند کے بعد سب سے بڑی ریلی نکال کر حکومت وقت کو یہ باور کرادیا کہ ہمیں لقمہ تر سمجھنے کی کوشش نہ کریں ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے مسائل امارت شرعیہ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت حل کرنا جانتے ہیں اور ہماری قوم کی اکثریت ان ہی اداروں سے رجوع ہوکر اپنے مسائل حل کراتی ہے طلاق ثلاثہ بل پاس بھی ہوا لیکن حکومت کی جو منشا تھی اس میں امارت اور بورڈ کی پہل سے مولانا محترم کی قائدانہ رول کی وجہ سے ناکامی ہوئی اور مسلمانوں کے عائلی مسائل پر حملہ آور حکومت کو منہ کی کھانی پڑی۔ مولانا محترم ہر محاذ پر قوم مسلم کی رہنمائی کی اور آخری تک اسی فکر میں رہے کہ لاچار قوم کو ایسے حالات میں چھوڑ جاوں جہاں انہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ مولانا ایک طرف جہاں دینی علوم سے بہرہ ور تھے وہیں عصری علوم پر بھی اچھی دسترس رکھتے تھے ایک طرف جہاں دینی اداروں کے سرپرست تھے تو وہیں رحمانی تھرٹی اور دیگر عصری اداروں کے بانی بھی انہوں نے اپنی قوم کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں قوم کا ایک طبقہ ان سے ہمیشہ نالاں رہتا تھا کہ لیکن حضرت امیر محترم ان سب سے بے پرواہ ہوکر قوم مسلم کے مسائل کے حل کے لئے کام کرتے رہے انہوں نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہی امت مسلمہ کی دادرسی کو اختیار کرلیا تھا اور آخری دم تک اسی فکر میں گھلتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ آج ان کے انتقال سے ہر سو ماتم پسرا ہوا ہے۔ محبین و متعلقین کی آنکھیں  اشکبار ہیں اپنے قائد کے آخری دیدار کے لئے لاکھوں کی تعداد میں دور دراز کا سفر کرکے مونگیر پہنچ گئے اور جنازے میں شرکت کی ایک بار پھر علمائے حق کے جنازے نے یہ ثابت کردیا کہ کون حق پر تھا۔ اللہ مولانا محترم کی بال بال مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے تاکہ بے سہارا قوم کو کوئی سہارا ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔ مولانا محترم کو سچی خراج عقیدت اگر پیش کرنی ہے تو آئیں عہد کریں کہ اس تاریخ ساز شخصیت کے چھوڑے ہوئے کاموں کو اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کو نیچا دکھائے بغیر انتہائی خوش اسلوبی سے پورا کرنے کی کوشش کریں گے، آئیے عہد کریں کہ ہماری قوم کا بچہ بچہ ولی رحمانی کے نقش قدم پر چلے اور ڈوبتی و بے سہارا قوم کی رہنمائی کرے، آئیے عہد کریں کہ امارت شرعیہ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو مضبوط کریں اور مولانا ولی رحمانی نے جس طرح دونوں اداروں کو ساتھ لے کر قوم مسلم تک ان اداروں کا پیغام پہنچا کر ان میں بیداری پیدا کی ہے  ان اداروں کے مشن اور ان کی تعلیمات کو ان تک مزید پہنچائیں بورڈ اور امارت شرعیہ کے تئیں انہیں بیدار کریں اور ان کے مسائل عدالت میں لے جانے کے بجائے شرعی عدالتوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کروائیں یہی مولانا کا مشن تھا اور یہی ان کی خواہش تھی کہ مسلمان اپنا رشتہ شریعت سے جوڑے رکھے،  آئیں عہد کریں اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلواکر ملکی ترقی کے دھارے میں شامل کریں انہیں جہاں ایک طرف دینی علوم سے آشنا رکھیں تو دوسری طرف آئی اے ایس اور آئی پی ایس، ایل ایل بی اور آئی آئی ٹی کی تعلیم دلائیں۔ یہی ان کی بہترین خراج عقیدت پیش کرنا ہوگا اپنے موجودہ قائدین کا احترام وہ سکھاگئے ہیں حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں اپنے علماء سے ہم بد ظن نہیں ہوں گے پوری دنیا کی قوم اپنے مذہبی علماء کے زیر اثر رہ کر اپنے فرائض پوری کر رہی ہے لیکن ہم مسلمان غیروں کی سازش کے شکار ہوکر اپنے ملی قائدین سے بد ظن ہورہے ہیں اس بدظنی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ امیر شریعت کی مغفرت فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو پائہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق بخشے۔ آمین۔