اُردو ۔گجراتی کے شاعر، صحافی اور فلم میکرخلیل دَھن تیجوی رِحلت کر گئے

Urdu-Gujarati poet, journalist and filmmaker Khalil Dhan Tejvi has passed away

اُردو ۔گجراتی کے شاعر، صحافی اور فلم میکرخلیل دَھن تیجوی رِحلت کر گئے
❄❄❄

ممبئی:4۔ اپریل(ندیم صدیقی)بڑودہ سے ملنے والی اطلاع کے مطابق اُردو کے معروف اور گجراتی کے مشہور شاعر و  صحافی اور فلم  میکر(83سالہ) خلیل دَھن تیجوی آج بڑودہ میں رحلت کر گئے۔
 خلیل دھن تیجوی کے بزرگ ایران سے  بلوچستان  ہوتے  ہوئے  بڑودہ (گجرات) آئے اور یہیں کی تحصیل ساولی (شاہ ولی) کے ایک  قصبے دَھن تیج میں اقامت اختیار کی اور دَھن تیج ہی میں12 دسمبر 1938 میں ابراہیم مکرانی پیدا ہوئے تھے جو شعرو ادب کی دُنیا میں خلیل دَھن تیجوی کے نام سے مشہور ہوئے۔
 خلیل دَھن تیجوی معروف معنوں میں تعلیم یافتہ تو نہیں تھے مگر انہوں نے اپنی  فطری صلاحیت کی بنا پر گجراتی کی  صرف چار کتابیں ایسی پڑھ لی تھیں جو پوری زندگی میں ان کی کفالت کرتی رہیں۔
  گجرات میں  لفظ’ بھائی‘  اور بہن کلمۂ تکریم  کا درجہ رکھتے ہیں۔  وہاں عورتوں کے نام کے ساتھ بَین(بہن) جیسا صیغہ عام ہے  اور بالکل اسی طرح مردوں کے نام کے ساتھ  ’’بھائی‘‘ کا لاحقہ بھی رائج ہے ۔ ملک کے   سابق وزیر اعظم مرار جی  بھائی  دیسائی کا نام  بغیر ’’ بھائی ‘‘ ادھورا خیال کیا جاتا ہے، تو عرض ہے کہ کوئی  چالیس برس اُدھر کا واقعہ ہوگا کہ جب ہماری ملاقات خلیل بھائی (دَھن تیجوی) سے سورت سے متصل راندؔیر جیسے  ٹاؤن کے ایک مشاعرے میں ہوئی تھی۔ وہ اُس مشاعرے میں تادیر اور فرمائشوں کے ساتھ سُنے گئے تھے۔ اُن کی گجراتی نظم  جو گاندھی جی سے متعلق تھی اس قدر توجہ اور عقیدت سے  سماعت کی گئی کہ ہم اُردو والے انھیں رشک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور  تھے۔
 جیسا کہ بتایا گیا کہ وہ معروف معنوں میں تعلیم یافتہ شخص نہیں تھے مگر انہوں نے اپنے ذاتی ذوقِ مطالعے سے  اس قدر گجراتی اور اُردو سیکھ لی تھی کہ  وہ  ان زبانوں میں بہ آسانی  شعر کہنے پر قادر ہوگئے تھے۔
انکے والد کاشت کار تھےمگر انہوں نے لکھنے پڑھنے ہی کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا وہ گجراتی زبان کے کئی اخبار ات سے  وابستہ رہے ۔1955تا1990  اُن کے کالم اور مضامین اخبارات میں بہ اہتمام شائع ہوتے رہے۔
 خلیل دَھن تیجوی  مولانا دردؔ بڑودوی کے اسکول سے وابستہ تھے انہوں نے  ، دردؔ بڑودوی کے ممتاز شاگرد خلشؔ بڑودوی سے  نہ صرف اُردو  پڑھی  بلکہ انہیں سے اپنے اُردو کلام پر اصلاح بھی لی بعد میں خلیل بھائی نے گاہے گاہے قیصر الجعفری کو بھی اپنا کلام دکھایا۔ ایک اطلاع کے مطابق خلیل بھائی گجراتی  کلام پر عزیز ؔبڑودوی سے مشورہ کرتے تھے۔
 گجراتی زبان کی محض چار پُستک پڑھنے والے خلیل دَھن تیجوی نے اپنی تخلیقی  صلاحیتوں کو کس قدر اُجاگر کیا، جس کا اندازہ اس بات  سےلگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے گجراتی زبان میں بیس ایسے ناول تخلیق کیے جو اِس زبان میں خوب مقبول  ہوئے ، اس کے علاوہ انہوں نے گجراتی کے کئی ڈرامے بھی اسٹیج کیے اور پانچ گجراتی فلموں  کے ہدایت کار بنے اور اِن فلموں کے گیت بھی انہی کے نتیجۂ فکر تھے۔ گجراتی زبان میں خلیل دَھن تیجوی  کےتین شعری مجموعے   شائع ہو چکے ہیں جن کے نام  بالترتیب یوں ہیں:سادگی، سارایش اور سوغات جبکہ اُن کی نَو سَو باون منظومات پر مبنی کلیات بھی  زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکا ہے۔ ان کی  اُردو غزلوں کا ایک مجموعہ ’’شاید‘‘ کے نام سے ہندی  والوں نے چھاپا ہے۔ شکیل قادری بڑودوی کی اطلاع کے مطابق خلیل دَھن تیجوی نے اپنی سوانح حیات پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی  ہے۔
  اوپر اُن  کے والد کی کاشت کاری اور راندؔیرکے مشاعرے کاذکر کیا گیا ہے، ندیم صدیقی کہتے ہیں کہ اُس مشاعرے میں خلیل دَھن تیجوی نے اُردو میں جو کلام  پڑھا تھا اُس میں اُن کا یہ مطلع  ہم اب تک نہیں بھولے بلکہ یہ شعر ہمارے حافظے کی تہہ میں جگہ بنا چکا ہے
 اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں
 اب مَیں راشن کی قطاروں میں نظر آتا ہوں
 خلیل بھائی(دَھن تیجوی) کا کلام مشہور مغنّی جگجیت سنگھ نے بھی گایا  اور  وہ اپنی شاعری کے سبب انگلینڈ تک  بہ َ تکریم  ساتھ مدعو کیے گئے۔
 پوری دُنیا سالِ گزشتہ سے جس وبا کی شکار ہے  ،اُن کا ایک مطلع اس کیفیت کا کیسا ترجمان محسوس ہوتا ہے:
اب کے برس بھی قصے بنیں گے کمال کے
پچھلا برس گیا ہے کلیجہ نکال کے
خلیل بھائی کےمزاج کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔ عموماً شعرا کے رویے جس میں تمکنت اور  نرگسیت عام طور پر  پائی جاتی  ہے البتہ بعض  شعرا کسی طور  اس رویے کو مخفی رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اکثر کا یہ مزاج چھلک جاتا ہے  چونکہ خلیل بھائی  کے ساتھ  خاصی طویل اور بے تکلف ملاقاتیں رہی ہیں لہٰذا یہ کہنے میں ہمیں کوئی باک نہیں کہ وہ ان کمزوریوں سےپاک شخص تھے۔ اللہ اُن کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین