امت کی ٹوٹی ہوئی تارکو پاورہاﺅز سے جوڑنے والا بیباک رہنما ہم سے رخصت ہوا

Ohh! Maulana Wali Rahmani

امت کی ٹوٹی ہوئی تارکو پاورہاﺅز سے جوڑنے والا بیباک رہنما ہم سے رخصت ہوا

امت کی یتیمی و یسیری کے حالات میں حضرت مولانا ولی رحمانی ؒنے نڈر ہوکر ساتھ نبھایا

عبدالرحیم غلام ثاقب بیڑ مہاراشٹر(9226368493)

دین کے آسمان پر چمکنے والے باقی ماندہ ستاروں میںسے ایک ستارہ آج اپنے مالک سے جاملا۔ طویل سفر کی مسافت اور اس کی تھکن لیکن عزائم و ارادوں میں پہاڑ جیسی اٹل مضبوطی رکھنے والے دینی و ملی قائد ،رہبرو ہمدرد حضرت مولانا ولی رحمانیؒ آج ہم سے رخصت  ہوئے۔خانقاہِ رحمانی کے درو دیوار بھی آج اشکبار ہیں اور بھارت کی سرزمین پر امت مسلمہ کو پھر ایکبار یتیمی کے غم سے گزرنا ہے۔کہ ایک اور سرپرست کے سائے سے آج امت محروم ہوئی۔مسلم پرسنل لاءبورڈ ہویاامارت شرعیہ ۔وفاق المدارس ہو یا امام و موذنین کی جماعت ۔تعلیمی میدان ہو یا عصری تعلیم کے عظیم مقاصد۔ امت کے نونہالات کےبہتر مستقبل کے لئے رحمانی  ۔30کاقیام ہو یا مقابلہ جاتی امتحانات میں قوم وملت کی نئی نسل کا آئی اے ایس اور آئی پی ایس بننے کاخواب ۔مولانا نے نہ کبھی حالات کی پرواہ کی نہ مخالفت کی۔اس چراغ کے بجھتے ہی غم تو ہوا کہ اندھیرا مسکرائے گا ضرور لیکن اس بات کی یقینا خوشی ہے کہ مولانا نے اپنے بعد مفکرین و عازمین کی ایک بڑی قیمتی ثریا قائم کررکھی ہے۔چاہے مولانامحترم کے فرزندگان ہوں یا گھر کی خواتین بہو بیٹیاں سب ہی ملت کے روشن مستقبل کے لئے پچیسوں سال سے خود کو شب و روزکارِ خیر میں جھونکے ہوئے ہیں۔مفکر ملت اور خطیب بے مثال مولانا ابو طالب رحمانی دامت برکاتہم کا تعلق بھی حضرت ہی سے ہے۔وہ بھی اسی مشن کے سپہ سالار ہیں۔مولانا کے کئی مدارس، کئی کالجس، کئی فلاحی ادارے، کمپیوٹر اور عصری تعلیمات کے مراکز اور رحمانی 30جیسا نہایت ایڈوانس و اعلیٰ مشن آج بھی جاری و ساری ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ یہ مشن بہت پھلے پھولے کیونکہ میری نظر میں مولانا کایہ مشن بھارتی مسلمانوں کے لئے آبِ حیات یا نشاةِثانیہ کی طرح ہے۔حضرت مولانا بہار کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔لیکن سیاست کا رنگ خودپر کبھی چڑھنے نہیں دیا۔ مولانا نے ہر اس پلیٹ فارم کو طاقت پہنچائی جس سے امت مسلمہ کے لئے خیر وبھلائی اور فلاح کی آوازیں اٹھیں۔بھارتی مسلمانوں کی تمام ملی و دینی جماعتوں کا ساتھ حضرت مولانا نے نبھایا۔بابری مسجد کیس ہو یا بھاگل پور فساد کی زخمی یادیں۔بہار کی دریا برد مسلمان بستیاں ہوں یا بیوہ مطلقہ اور بے سہارا عورتوں کی بازآبادکاری۔ یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت ہو یا باطن اور نفوس کی اصلاح کا عظیم کاز حضر ت مولانا ولی رحمانی ؒ کی حیات و خدمات کو چند سطروں میں محیط نہیں کیاجاسکتا۔ بہار جھارکھنڈ جیسے علاقوں میں جہاں مسلمان حد درجہ پسماندگی کے عالم میں زندگی گزارتے آئے ہیں۔ان کے بیچ مولانا نے احیائے دین اور احیائے تعلیم کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔مولانا بہار کے سرحدوں میں مقید نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے بھارت کے سیاسی حالات کے بھنور میں ہچکولے کھاتی مسلمانوں کی کمزور ناﺅ کے لئے مضبوط پلاننگ اور منصوبہ بندی کی۔رحمانی 30کے عنوان سے مولانا نے قوم کے قابل اور ذہین بچوں کے لئے مفت کوچنگ اور مفت گائیڈنس کا بہترین نظم کیا۔ ان بچوں کی تعلیم وتربیت رہنا کھانا اور تمام

ہاسٹل کا خرچ مولانا نے اپنی تنظیم کے ذریعے برداشت کیا۔اہل خیر حضرات نے مولانا پر پورے پورے اعتماد کا اظہار کیا اور مولانانے بھی اہل خیر کے سرمائے کو ان کا آخرت کا سرمایہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔مولانا ولی رحمانیؒ اپنے والد مولانا منت اللہ رحمانی کی طرح بیباک بے خوف اور نڈر انسان تھے۔کبھی مرعوب نہیں ہوتے تھے۔پورے وقار اور خود اعتمادی کے ساتھ بات رکھتے تھے۔باتوں میں کوئی جھول یا منافقت یا چاپلوسی نہیں ہوتی تھی۔اسی لئے مولانا کے بول مد مقابل کے خیموں کو اکھاڑ دیا

کرتے تھے۔مولانا ؒ نے خانقاہِ رحمانی کی روایتوں کو اور اس کی روحانی طاقت کو فیضانِ عام کی طرح جاری رکھا۔ بلکہ اسے وہ عروج اور پہچان عطا کی کہ خانقاہِ رحمانی کے متوسلین جانتے ہیں۔حضرت نے اس روحانی مرکز کو چار دانگ عالم میں شہرت تک پہنچایا۔ تاریخ کے پنوں میں مونگیر کی سرزمین کو جب بھی یاد کیا جائے گا مولانا ولی رحمانی ؒ کے لئے ایک سنہرے اور روشن باب کو ضرور محفوظ کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے ایک تاریخی شہر اور پسماندہ علاقہ بیڑ میں حضرت کی آمد سن 1996ءمیں ہوئی اس کے بعد چند سال قبل بھی آپ کی آمد ہوئی تھی۔تبلیغی مرکزمسجد میں آپ کا چند منٹوں کا خطاب ہوا تھا۔ حضرت مولانا ؒ نے اپنی چند منٹوں میں جو قیامت خیز پیغام دیا وہ ذہنوں اور دلوں کو جھنجھوڑ گیا اور ہر سننے والا فکر انگیزی لہر سے ایک پل کے لئے کانپ اٹھا۔حضرت نے اپنی نہایت مختصر تقریر میں مثال دیکر کہاکہ ایک تار کا ٹکڑا اگر چند اوباش قسم کے لڑکوں میں چھوڑدیا جائے تو وہ لڑکے اس تار کے ٹکڑے کا کیا

کرینگے؟ کوئی اس تار کے ٹکڑے کو توڑے گا مروڑے گا اور کوئی اسے یہاں سے وہاں گھماگھما کر پھینکے گا کوئی اس کو باندھ کر اس کی شکل بگاڑ دے گا۔لیکن اگر وہی تار کا ٹکڑا آن لائن سویچ سے یا کسی بجلی کے بورڈ کے بٹن سے جوڑ دیا جائے اور اب کسی پہلوان سے کہا جائے کہ اس کھلے تار کے ٹکڑے کو چھو لیجئے۔ تو وہ پہلوان بھی اس تار کے ٹکڑے کو چھونے کی جراءت نہیںکرے گا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ کھلے تار کا ٹکڑا اب پاور ہاﺅز سے کنیکٹ ہوگیا ہے اور اس میں کرنٹ دوڑ رہا ہے۔پاور ہاوز سے جڑے ہوئے تار کو کوئی مائی کالال نہیں چھوتا۔ کیونکہ اسے خبر ہے کہ اس کاکنکشن ڈائریکٹ پاور ہاﺅز سے ہے جہاں سے 440وولٹ کا کرنٹ آرہا ہے۔اگر جھٹکا لگا تو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ حضرت مولانا ولیؒ رحمانی رحمة اللہ علیہ کی تقریر کا لبِ لباب بس اتنا سا تھا کہ امت کا تعلق اللہ سے ٹوٹ گیا ہے اُسے جوڑدیا جائے تو سارے کے سارے مسائل ڈر خوف بے یار ومددگاری یتیمی و یسیری ختم ہوجائے گی۔کیونکہ جس کا والی خدا ہو اسے کون ہاتھ لگا سکتا ہے۔جس کا سرپرست اللہ ہو اسے کون پریشان کرسکتا ہے۔جس کا مالک و مختار دو جہاں کامالک ہو اسے کیسے یتیم اور یسیر کہہ سکتے ہیں۔مولانا نہایت مثبت سوچ کے حامل تھے۔نہ کبھی سنگین حالات سے گھبراتے تھے اور نہ کسی کو ڈرنے دیتے تھے۔ہمیشہ حوصلہ مندی اور پُر امیدی کی باتیں کرتے تھے۔گذشتہ چند برسوں میں حضرت کا جسم ضرور کمزور ہوگیا تھا لیکن ارادوں میں شدت بڑھ گئی تھی۔کام کاج میں زندگی بھر کا عرق نچوڑ دیتے تھے۔کہیں بھی کوئی کام ڈھیلا

یا ادھورا نہیں چھوڑتے تھے۔حضرت کے سامنے سبھی جوابدہ اور چاق و چوبندانداز میں مصروفِ کار رہتے تھے۔حضرت نہایت منظم زندگی اور منضبط افکار کے حامل تھے۔ذکر و سلوک اور خانقاہی ذمہ داریوں کے علاوہ آپ میدانِ عمل کے بے مثال سپاہی تھے۔مولانا چاہتے تھے کہ پور ی امت ڈر خوف اور ناامیدی مایوسی سے نکل جائے ۔ یہاں بیڑ میں آپ کے متوسلین میں سے مولانا حافظ ہارون صاحب منجلے گاﺅں بھی شامل تھے۔حضرت کے مشن رحمانی 30کے سپہ سالار ڈاکٹر عمران خان (صدر شعبہ کمپیوٹر، ملیہ سینئر کالج بیڑ) بھی شامل ہیں۔جو رحمانی 30کے زبردست کورآڈی نیٹر اور انٹروڈیوسر ہیں۔ایک قابل اور ہنر مندنوجوان ہیں جو

مولانا کے عاشق بھی ہیں اور ان کے کاز کو علاقے میں بڑی شد و مد کے ساتھ پھیلا رہے ہیں اور کامیابی سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عمران خان کی رہبری میں رحمانی 30میں ہزاروں بچے شرکت کرتے ہیں اور اس امتحان کے ذریعے بیڑ کے کئی بچے سلیکٹ ہو چکے ہیں۔جس کا سارا کا سارا کریڈت مولانا ولی رحمانی اور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے۔یقینا مولانا اللہ کے مقرب بندے تھے لیکن انہوں نے کبھی خود کو روپوش نہیں کیا۔ ہمیشہ کردار اور میدان عمل کے غازی بن کر جئے۔سیاست، حکمت اور علم کا سمندر تھے۔اس سمندر کی وسعت اور گہرائی کو سمجھنا اور اُسے ناپ پانا یقینا مشکل ہے لیکن مولانا کے ذریعے جو بھی کالجس ،ادارے اور آنے والی نسل کے لئے پیڑ لگائے گئے ہیں وہ صدیوں تک دھوپ میں امت کو ٹھنڈی چھاﺅں دیتے رہیں گے ان کی ٹہنیوں پر پرندے وقت کے الگ الگ پہروں میں آکر اپنے آشیانے سجائےں گے اور مولانا ولی رحمانی ؒ کے کارہائے نمایاں کی تعریف و پذیرائی کرتے رہیں گے۔مولانا کے پسماندگان میں مولانا کے دادا مولانامحمد علی مونگیری ؒ ندوة العلماءلکھنو کے بانیین میں سے تھے۔مولانا کے والد بزرگوار مولانا منت اللہ رحمانی ہندوستانی مسلمانوں کے ایک بے باک قائد اور ملی رہنما تھے۔مولانا ولی رحمانی پر سید عمران شاہ نے حیات ولی کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔مولانا اپنے والد کے انتقال کے بعد خانقاہِ رحمانی کے سجادہ نشین بھی بنائے گئے تھے۔مولانا کاسلسلہ روحانی جنگ آزادی کے اہم ستون مولانا فضل رحمان گنج مرادابادی رحمتہ اللہ سے ملتا ہے۔مولانا کچھ عرصے سے لگاتار علیل چل رہے تھے۔عمر کے ۷۷ویں برس آج 3اپریل 2021ءکو آپ نے پارس ہاسپٹل میں آخری سانسیں لیں۔آج صبح یعنی 4اپریل 2021ءکی صبح نمازِ جنازہ اداکی جائے گی۔ مونگیر کی خانقاہِ رحمانی میں اپنے اجداد کے پہلو میں حضرت مولانا ولیؒ رحمانی اپنی آخری آرامگاہ میں رکھے جائیں گے۔آج ملک و بیرون ملک کی تمام دینی ملی تعلیمی تنظیمیں مولانا کی رحلت پر سوگوار ہیں اور اشکبار آنکھوں سے ڈاکٹر عمران خان بیڑ نے ان لفظوں میں اپنے درد کو بیان کیا ہے: کڑے سفر کا تھکا مسافر تھکا ہے ایسا کہ سوگیا ہے

خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں ہزاروں آنکھیں بھگو گیا ہے (ڈاکٹر عمران خان بیڑ) حضرت کا جانا میرے لئے ذاتی نقصان ہے۔میں خود اندر سے مجروح اور ٹوٹا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔میں اللہ کے حضور نم آنکھوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ اس جلیل القدر عالم دین کو اپنے پہلو میں جگہ عنایت کرے ان کی قبر کو نور سے بھردے ان پر اپنی خاص رحمتیں نازل کرے اور جنت کے بالاخانوں میں حضور

کریم ﷺ کا پڑوس نصیب کرے اوران کی تمام کاوشیں اورکارِ خیر جو امت کے حق میں انہوں نے پوری زندگی انجام دےے ان کا بہترین بدلہ انہیں عطاکرے۔ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے۔ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے ۔اورہم سب

کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان سے محبت رکھنے والوں شامل رکھے۔آمین